اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور آج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیاں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے دو روزہ مذاکرات کا پہلا دور منگل کو اسلام آباد میں مکمل ہوا جبکہ دوسرا اور آخری دور بدھ کو ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کی داخلہ وزارتوں کے سیکریٹریز کی سربراہی میں وفود کی بات چیت کے پہلے مرحلے کے مذاکرات کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور موضوعات پر تفصیلی طور پر غور کیا گیا۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیاں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ روکنے کے متعلق بدھ کے روز دوبارہ بات چیت ہوگی جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کی توقع ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسے مواقع پر ابتدا میں تجاویز کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے بارے میں دونوں ملکوں کو ایک دورسرے سے شکایت رہتی ہے۔ ماضی میں’دہشت گردی‘ کی تشریح پر بھی دونوں ممالک میں اختلاف رائے رہا ہے کیونکہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کو پاکستان جائز سمجھتا ہے جبکہ بھارت اسے دہشت گردی کہتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز بریفنگ میں بتایا تھا کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں لفظ دہشت گردی کی تشریح کے متعلق کوئی نکتہ نہیں ہے ۔ منشیات کی سمگلنگ کے حوالے سے بھارت یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ہیروئن اور دیگر منشیات پاکستان سے ان کے ملک میں لائی جاتی ہے جبکہ پاکستان الزام لگاتا رہا ہیں کہ افغانستان میں ہیروئن سازی کے لیے استعمال ہونے وال کیمیائی مادہ بھارت سے لایا جاتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دونوں ممالک بارڈر فورسز اور ’اینٹی نارکوٹکس فورسز، کے درمیاں معلومات کے تبادلے اور قریبی رابطہ رکھنے کا کوئی نظام وضح کرنے پر بات کریں گے۔ بدھ کو جہاں یہ مذاکرات ختم ہورہے ہوں گے وہاں دونوں ممالک کے تجارت کے سیکریٹروں کی سربراہی میں وفود کے درمیاں تجارت کے فروغ کے سلسلے میں دو روزہ بات چیت شروع ہوگی۔ قبل ازیں بھارت اور پاکستان کے دفاعی محکموں کےسیکریٹریوں کے درمیان نئی دہلی میں دو روزہ بات چیت میں سیاچن گلیشیئر پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا تھا۔ یہ چھ سال میں ہونے والی اپنی طرح کی پہلی بات چیت تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||