BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذاکرات جاری رہیں گے‘
مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا
مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا
بھارت اور پاکستان نے سر کریک کے سرحدی تنازعہ پر دو روزہ مذاکرت کے بعد مذاکرات کو جارے رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔

دیلی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے
کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقین نے تنازعے پر اپنے اپنے موقف کا بھرپور اعادہ کیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بعض معاملات پر جامع اور سود مند بحت ہوئی اور یہ فیصلہ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سر کریک کے سرحدی تنازعے کا جلد حل دونوں ملکوں کے لیےسودمند ہو گا۔

سر کریک‘ بھارت کی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبہ سندھ کے درمیان موجود بحری علاقہ ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسلئے پر پچھلے تین عشروں سے مزاکرات ہو رہے ہیں۔

اور اگر دونوں ممالک 2009 تک اس سرکریک کے مسلئے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر یہ مسلئہ اقوام متحدہ کی مصالحت میں چلا جائے گا۔

اگر پاکستان اور بھارت اس تنازعے کا حل ڈہونڈنے میں کامیاب ہو گئے تو اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر کو تلاش ہو سکے گی۔

سر کریک کے علاقے کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستانی وفد کی سربراہی ایڈیشنل سیکریڑی دفاع ریر ایڈمرل احسان الحق چوہدری نے کی جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی سروے جنرل آف انڈیاا ڈاکٹر پرتھوش ناگ نے کی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد