’مذاکرات جاری رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان نے سر کریک کے سرحدی تنازعہ پر دو روزہ مذاکرت کے بعد مذاکرات کو جارے رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ دیلی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بعض معاملات پر جامع اور سود مند بحت ہوئی اور یہ فیصلہ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سر کریک کے سرحدی تنازعے کا جلد حل دونوں ملکوں کے لیےسودمند ہو گا۔ سر کریک‘ بھارت کی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبہ سندھ کے درمیان موجود بحری علاقہ ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسلئے پر پچھلے تین عشروں سے مزاکرات ہو رہے ہیں۔ اور اگر دونوں ممالک 2009 تک اس سرکریک کے مسلئے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر یہ مسلئہ اقوام متحدہ کی مصالحت میں چلا جائے گا۔ اگر پاکستان اور بھارت اس تنازعے کا حل ڈہونڈنے میں کامیاب ہو گئے تو اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر کو تلاش ہو سکے گی۔ سر کریک کے علاقے کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستانی وفد کی سربراہی ایڈیشنل سیکریڑی دفاع ریر ایڈمرل احسان الحق چوہدری نے کی جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی سروے جنرل آف انڈیاا ڈاکٹر پرتھوش ناگ نے کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||