زلزلہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیاحت غازی گلاب جمال نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کو بحال کرنے میں پانچ برس لگ سکتے ہیں۔ پیر کے روز سینیگال کے شہر ڈاکار میں سیاحت کے متعلق عالمی تنظیم کے سولہویں اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی روانگی سے قبل جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر اور صوبہ سرحد کے جن نو اضلاع میں زلزلہ آیا وہاں ایک سو دس ہوٹلوں کے چوبیس سو کے قریب کمرے تباہ ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ہوٹل انڈسٹری کو ایک کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ تباہ ہونے والی سڑکوں کا نقصان اس سے علاوہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں پاکستان کی سیاحت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے دنیا سے امداد کی اپیل کریں گے۔ وزیرِ سیاحت نے بتایا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی وجہ سے پاکستان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سن دو ہزار چھ کے بجائے سن دوہزار سات کو سیاحت کا سال منایا جائے گا۔ ان کے مطابق وہ عالمی سیاحت کی تنظیم کے شرکاء سے کہیں گے کہ وہ ’وزٹ پاکستان 2007 ، کو اپنے کیلنڈر میں شامل کریں۔ ادھر وزیِر کھیل اور ثقافت محمد اجمل خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے زلزلے سے متاثر ہونے والے قومی ورثہ اور یادگاروں کو پہنچنے والے نقصان کا سروے شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے ’یونیسکو، سمیت دیگر عالمی اداروں نے ثقافتی ورثے کو ہونے والے نقصان کی بحالی کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان امداد سے زیادہ دینے والوں کی تشہیر17 November, 2005 | پاکستان میرا کا ’فور سٹار‘ کیمپ18 November, 2005 | پاکستان برفباری، مزید جھٹکے، راستے بند 27 November, 2005 | پاکستان ’پانچ بلین ڈالر سے زیادہ چاہئیں‘16 November, 2005 | پاکستان ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں25 November, 2005 | پاکستان ’چھیاسی ہزار سے زائد ہلاکتیں‘10 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||