BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں

ناران کے علاقے سے بیشتر لوگ کوچ کرگئے ہیں
ناران کے علاقے سے بیشتر لوگ کوچ کرگئے ہیں
پاکستان کی حسین اور سیاحوں کی مقبول وادیِ ناران میں برفباری شروع ہوگئی ہے اور زلزلے کے متاثرین کو موسم سے پیدا ہونی والی نئی مصیبتوں کا بھی سامنا ہے۔ برفباری کی وجہ سے ناران کے قرب و جوار کے کئی دیہات کے بیشتر لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔

تاہم ناران شہر میں ساٹھ سالہ مقامی باشندے محمد زمان کے مطابق اب بھی تیس کے قریب گھرانے موجود ہیں اور وہ سخت سردی کے باوجود بھی کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

ناران شہر جہاں موسم گرما میں کسی ہوٹل میں پیشگی بُکنگ کے بنا مشکل سے کمرہ ملتا ہے اب وہاں تمام ہوٹلیں اور دکانیں بند پڑی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ زندگی محدود ہوگئی ہے۔

پہاڑوں کی چوٹیاں تو برف سے ڈھکی ہوئی ہیں لیکن زمین پر بھی دو فٹ برف پڑ چکی ہے اور سردی کی شدت میں انتہائی اضافہ ہوگیا ہے۔ ناران شہر جانے والی واحد سڑک پچاس برسوں میں بمشکل بنی تھی اور اس سے سیاحت کو خاصا فروغ بھی ملا تھا۔ لیکن اب وہ سڑک ٹوٹ پھوٹ چکی ہے اور اس پر سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں۔

زلزلے سے لوگوں کے کچے مکان تو ٹوٹ گئے لیکن شہر کے مکان اور ہوٹلوں میں محض دراڑیں ہی پڑی ہیں۔

زلزلے کو چھ ہفتے گزر گئے ہیں لیکن
 خراب موسم اور زلزلے سے ہونے والے قدرے کم نقصان کی وجہ سے ہی شاید یہاں نہ امدادی تنظیمیں ہیں اور نہ فوج کا کوئی مستقل کیمپ۔ زلزلے کو چھ ہفتے گزر گئے ہیں لیکن ناران میں بجلی اب بھی بحال نہیں ہوسکی اور نہ ہی فون کا نظام ٹھیک ہوسکا ہے۔

خراب موسم اور زلزلے سے ہونے والے قدرے کم نقصان کی وجہ سے ہی شاید یہاں نہ امدادی تنظیمیں ہیں اور نہ فوج کا کوئی مستقل کیمپ۔ زلزلے کو چھ ہفتے گزر گئے ہیں لیکن ناران میں بجلی اب بھی بحال نہیں ہوسکی اور نہ ہی فون کا نظام ٹھیک ہوسکا ہے۔

ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پرانے زمانے والی جیپیں ہی چلتی ہیں اور زلزلے کے بعد انہوں نے کرایوں میں کئی گنا اضاف کردیا ہے۔

مقامی باشندے فضل ربی نے بتایا کہ جیپ ڈرائیور محمد رفیق نے ناران سے بالا کوٹ تک پچہتر کلومیٹر کے فاصلے کا یکطرفہ کرایہ ساڑھے تین ہزار روپے لیتے ہیں جوکہ یہاں کے غریب لوگوں کے لیے ادا کرنا مشکل ہے۔ جیپ کے ایک ڈرائیور محمد رفیق نے بتایا کہ پیٹرول ستر روپے اور ڈیزل پچاس روپے فی لیٹر بِک رہا ہے۔

ان علاقوں میں جہاں زندگی متاثر ہوئی ہے وہاں سیاحوں کے پسندیدہ مقامات کی قدرتی خوبصورتی بھی ماند پڑ چکی ہے۔ پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ یعنی تودے گرنے کی وجہ سے جہاں ہرے بھرے پہاڑوں کا حسن متاثر ہوا ہے وہاں مٹی گرنے سے دریائے کنہار کا پیٹ بھی سکڑتا جا رہا ہے۔

برفباری کی وجہ سے لگ رہا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں راستے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں کی خواہش ہے کہ حکومت سڑک بند ہونے سے قبل انہیں ممکنہ امداد پہنچائے۔

ناران اور کاغان میں حکومت کو جہاں لوگوں کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہوگا وہاں سیاحت کے اس مرکز میں ماحولیات کو بہتر بنانے پر توجہ بھی دینی ہوگی۔ تاکہ ان وادیوں کا تباہ ہونے والا قدرتی حسن جلد سے جلد واپس لوٹ سکے اور یہاں سیاحت کا سلسلہ اور اس سے جنم لینے والا کاروبار بھی جاری رہ سکے۔

66جانور کی کیا اوقات
جانور توگھاس کے پرچی بھی نہیں لے سکتے
66سردی اور بھوک
وادی نیلم میں خوراک پہنچانے میں مشکلات
66جستی چادر کے گھر
زلزلہ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں
66بالاکوٹ کی شہناز
نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال
66’ گئی جند‘
مہربانی ہے خاناں دی: ایک پاگل کی کہانی
اسی بارے میں
زلزلہ بطور پروڈکٹ
20 November, 2005 | پاکستان
خیموں میں آگ، تین بچے زخمی
23 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد