BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آفات سے نمٹنے کا طریق کار بدلیں‘
اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر ژاں ایگیلین
اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر ژاں ایگیلین
اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر ژاں ایگیلین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں سکول کی عمارتیں بہتر طریقے سے بنائی گئی ہوتیں تو حالیہ زلزلے میں ہزاروں لوگوں کی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں۔

ژاں ایگیلین نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے میں ’سکول موت کے کنویں ثابت ہوئے۔ مستقبل میں ہمیں محفوظ عمارت بنانے کی ضرورت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ’آفت سے بچاؤ‘ انسانی جانیں بچانے کا بہتر طریقہ ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کا موجودہ طریق کار جس میں مصیبت آنے کے بعد امداد اور بچاؤ کا کام کیا جاتا ہے مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے زلزلے کے واقعات میں عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح نہیں گرنی چاہئیں تھیں۔

ژاں ایگیلین نے کہا: ’اگر بچاؤ کے بہتر انتظامات موجود ہوتے، مصیبت سے قبل وارننگ کی سہولت ہوتی، محفوظ سکول اور محفوظ عمارتیں ہوتیں، تو بحرہند میں آنے والی سونامی اور جنوبی ایشیا کے زلزلے میں لاکھوں جانیں ضائع ہونے سے بچائی جاسکتی تھیں۔‘

اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری ناگہانی آفات سے جیسے نمٹتی ہے اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا آفت کے آجانے کے بعد امدادی ایجنسیوں کی جانب سے پیسے کے لیے اپیل اور امداد اکٹھا کرنا اچھا طریقہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال رواں آفات کا سال ثابت ہوا ہے۔ اس کا آغاز ایشیائی ممالک میں آنے والی تباہ کن سونامی سے ہوا اور اختتام پاکستان میں آنیوالے زلزلے کے ملبوں میں ہوگا۔

اقوام متحدہ ایک مرکزی فنڈ کے حق میں ہے تاکہ آفات کی صورت میں اسے پیسے مانگنے کے لیے مختلف ممالک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔

66’رشوت کہاں سےلاؤں‘
فوجی اور پٹواری رشوت مانگتے ہیں: سابق فوجی
66آٹھ گاؤں آفت زدہ
نیلم وادی کے متاثرہ لوگ ناراض کیوں ہیں؟
66جستی چادر کے گھر
زلزلہ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں
اسی بارے میں
وادی نیلم میں خوراک کی قِلّت
20 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد