’آفات سے نمٹنے کا طریق کار بدلیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر ژاں ایگیلین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں سکول کی عمارتیں بہتر طریقے سے بنائی گئی ہوتیں تو حالیہ زلزلے میں ہزاروں لوگوں کی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں۔ ژاں ایگیلین نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے میں ’سکول موت کے کنویں ثابت ہوئے۔ مستقبل میں ہمیں محفوظ عمارت بنانے کی ضرورت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ’آفت سے بچاؤ‘ انسانی جانیں بچانے کا بہتر طریقہ ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کا موجودہ طریق کار جس میں مصیبت آنے کے بعد امداد اور بچاؤ کا کام کیا جاتا ہے مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے زلزلے کے واقعات میں عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح نہیں گرنی چاہئیں تھیں۔ ژاں ایگیلین نے کہا: ’اگر بچاؤ کے بہتر انتظامات موجود ہوتے، مصیبت سے قبل وارننگ کی سہولت ہوتی، محفوظ سکول اور محفوظ عمارتیں ہوتیں، تو بحرہند میں آنے والی سونامی اور جنوبی ایشیا کے زلزلے میں لاکھوں جانیں ضائع ہونے سے بچائی جاسکتی تھیں۔‘ اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری ناگہانی آفات سے جیسے نمٹتی ہے اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا آفت کے آجانے کے بعد امدادی ایجنسیوں کی جانب سے پیسے کے لیے اپیل اور امداد اکٹھا کرنا اچھا طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال رواں آفات کا سال ثابت ہوا ہے۔ اس کا آغاز ایشیائی ممالک میں آنے والی تباہ کن سونامی سے ہوا اور اختتام پاکستان میں آنیوالے زلزلے کے ملبوں میں ہوگا۔ اقوام متحدہ ایک مرکزی فنڈ کے حق میں ہے تاکہ آفات کی صورت میں اسے پیسے مانگنے کے لیے مختلف ممالک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ |
اسی بارے میں وادی نیلم میں خوراک کی قِلّت20 November, 2005 | پاکستان متاثرہ علاقوں میں ماحول کو خطرہ20 November, 2005 | پاکستان تعمیرِنو: امدادی رقم میں اضافہ21 November, 2005 | پاکستان کاغان: معاوضوں میں فراڈ کا الزام 21 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||