امداد :’فوجی،پٹوری رشوت مانگتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ سے متاثر ہونے والے ایک سابق فوجی حوالدار سخی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ امداد کی تقسیم میں رشوت لی جا رہی ہے۔ حوالدار سخی نے باغ سے میل چل کر پی سی او سے ہمیں اپنی رودار سنائی۔ حوالدار سخی نے باغ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کو بتایا کہ اس کی فیملی کے پچیس لوگ کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں اور اس کی کوئی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور مکئی کے کھیت ابھی پکے نہیں ہیں۔ سخی کی کہانی اس کی زبانی: ’ہم کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہوئے ہیں۔ آرمی ریلیف کے میجر میر کے پاس گیا ہوں ۔ چودہ دن سے پھر رہا ہوں۔ بال بچہ باہر پھر رہا ہے۔ امداد کی تقسیم میں ناانصافی ہو رہی ہے۔جب مر جائیں گے تو پھر اس امداد کا کیا فائدہ ہو گا۔میرے گھر میں پچیس آدمی ہیں۔ کھانے کے لیے ہمارے پاس مکئی کے کھیت ہیں جو ابھی پکے نہیں ہیں۔ اگر پک بھی جائیں تو پانچ ماہ کا بچہ مکئی کے دانے تو نہیں کہا سکتا۔ کوئی امداد نہیں ملی ہے کچھ چاول وغیرہ خرید کر گزارہ کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے ’لیڈر ٹائپ‘ کے لوگوں کے گھر امدادی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں ۔گاؤں کا پٹواری معاوضہ مانگتا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی امداد بھی بڑے ٹھیکیداروں کے تحت ملتی ہے۔ جماعت اسلامی والوں کی امداد بھی ٹھیکیداروں کے ذریعے ملتی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے کہتا ہے کہ لا الہ الااللہ محمد اللہ رسول اللہ ہمیں ایک چھولے ( چنے) کا دانہ بھی نہیں ملا ہے۔ بچے خیراتوں پر گزارہ کر رہے ہیں اور بڑے اللہ کے فضل پر ہیں۔پٹواری اور ٹھیکیداروں کو خوش نہ کر سکنے کی وجہ سے ہمیں امداد نہیں ملی ہے۔ میجر میر، ٹھیکدار اسلم اور پٹواری رفیق خواجہ سے جب میں نے کہا کہ آپ کیوں ناانصافی کرتے ہیں، تو انہوں نے مجھے کہا کہ جاؤ جہاں جانا ہے۔میرے پاس آخری سہارا بی بی سی سے رابطہ ہی تھا۔ آرمی والے ٹھیکیداروں اور بڑے بندوں کے ساتھ مل جاتے ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آرمی والے ان کے باڈی گارڈ ہیں۔ میں ایک لاکھ کا مقروض ہو چکا ہوں۔ ہم کس کے پاس جائیں؟ ہم پانچ بھائی ہیں اور انہوں نے دو لکھے ہیں۔ پانچ بھائیوں کو صرف پچیس ہزار ملے ہیں۔ ہم نے ان پچیس ہزار سے کھانے پینے کی چیزیں لی ہیں۔ میرے پاس آرمی کے میجر، ٹھیکیدار اور پٹواری کو دینے کے لیے رقم نہیں ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||