متاثرہ علاقوں میں ماحول کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ماحولیات کے ادراے یونیپ نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ماحول کی آلودگی کے بارے میں اپنی ابتدائی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر عمارتوں اور ہسپتال کے ملبے، لینڈ سلائیڈ،طبی اور انسانی فضلے اور دیگر نقصان پہنچانے والے فضلے کو صحیح طرح ٹھکانے نہیں لگایا گیا تو اس سے کروڑوں افراد کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر مملکت برائے ماحولیات کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان خصوصا پلاسٹک کی ان گنت بوتلوں اورلنڈے کے کپڑوں کی بھرمار کی وجہ سےان علاقوں میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کا عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں یونیپ کے سینئر عہدیدار اور اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شفقت کاکاخیل نے کہا کہ زلزلے سے ماحولیاتی صورتحال نہایت سنگین ہو گئی ہے کیونکہ ان علاقوں میں پانی کی ترسیل کا نظام تہس نہس ہو گیا ہے۔ انہوں کہا کہ تباہ ہونے والے گھر اور عمارتوں کے ملبے میں لکڑی اور شیشہ، لاشیں اور انسانی اعضا،ہسپتال کے ملبے سے ادویات، زراعت میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات اور پانی کے کنوؤں کو اس طرح ٹھکانے لگایا جائے کہ وہ زہریلے نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فضلہ زہریلا ہو جاتا ہے تو ان علاقوں میں بنیادی صحت کی مخدوش حالت مزید سنگین ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کی وزارت ماحولیات کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پہلے زلزلے سے پیدا ہونے والے فضلے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے اور بعد میں ان علاقوں میں نئے درخت لگائے جائیں اور پرانے درختوں کو کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹمبر مافیا تعمیر نو کی آڑ میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹنے کی کوشش کرے گا جس کو پاکستانی حکومت کو روکنا ہوگا۔ کاکا خیل کے مطابق پاکستان میں جنگلات کی حالت پہلے ہی خراب ہے اور اگر تعمیر نو کے عمل میں درختوں کو بے دردی سے کاٹا گیا تو اس سے ان علاقوں میں ماحول کی صورتحال کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اس موقع پر پاکستان کے ماحولیات کے وزیر مملکت ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ وزارت ماحولیات اس زلزلے کے ملبے اور فضلے کو صحیح طرح سے ٹھکانے لگانے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان جنگلات کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں درخت کاٹنے کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔وزیر کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں درخت بڑی تعداد میں نہیں کاٹے گئے وہاں زلزلے سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم18 November, 2005 | پاکستان درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر18 November, 2005 | پاکستان ’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘18 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||