BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 08:34 GMT 13:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ

عالمی امداد
پاکستان کی حکمران جماعت اور حزب اختلاف نے ریلیف فنڈ کو آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اتفاق رائے سے مطالبہ کیا ہے کہ زلزلہ زدگاں کے لیے ملنے والی امدادی رقوم کا حساب کتاب شفاف رکھا جائے اور اس کا آڈٹ بھی کرایا جائے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ نواز کے راجہ ظفرالحق اور متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امدادی فنڈز کے درست استعمال اور امدادی ممالک اور اداروں کے اعتماد کو پختہ کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار کرنا لازمی ہے۔

ملک میں امدادی کاموں میں مصروف بعض غیر سرکاری تنظیموں نے پہلے ہی امدادی رقم میں خرد برد ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی آڈٹ کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

دریں اثناء وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد سے جب ہفتہ وار بریفنگ میں اس بارے یں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تعمیر نو کے لیے فنڈز جاری ہی نہیں ہوئے تو خرد برد کا سوال اٹھانا مناسب نہیں۔

راجہ پرویز اشرف اور راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے یکطرفہ فیصلے کرتے ہوئے فوجیوں کی سربراہی میں ادارے بنائے اور اس ضمن میں پارلیمان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ

اپوزیشن کا اعتراض
ریلیف کمشنر کے احکامات کو کسی کورٹ میں چیلینج کرنے پر بھی حکومت نے پابندی لگادی ہے اور پارلیمان بھی اس سے کچھ نہیں پوچھ سکتا تو ایسے میں احتساب اور شفاف معاملات کہاں سے ہوں گے؟
ریلیف کمشنر کے احکامات کو کسی کورٹ میں چیلینج کرنے پر بھی حکومت نے پابندی لگادی ہے اور پارلیمان بھی اس سے کچھ نہیں پوچھ سکتا تو ایسے میں احتساب اور شفاف معاملات کہاں سے ہوں گے؟

ادھر حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے انیس نومبر کو بلائی گئی عالمی ڈونر کانفرنس میں شرکت کے لیے تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اختلاف اس قومی معاملے کو متنازعہ نہیں بنائے گی۔

اس ضمن میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا کہ ابھی وہ آپس میں مشاورت کر رہے ہیں کہ انہیں کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے یا بائیکاٹ۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک کسی معاملے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا اور اب فوٹو سیشن کے لیے انہیں بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کے درست استعمال اور شفاف طریقہ کار اپنانے کے لیے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کی کمیٹی بنائی جائے تاکہ عوام اور امدادی اداروں کا اعتماد حاصل ہوسکے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کی اس ضمن میں ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ اس میں ایوان بالا سینیٹ کی بھی نمائندگی ہونی چاہیے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ فنڈز میں خرد برد کے بارے میں حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے خدشات سے بڑی رقم جمع کرنے کے لیے ہونے والی کانفرنس پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کو اس ضمن میں فنڈز کے شفاف استعمال کے متعلق واضح اور ٹھوس حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ فنڈز دینے والوں کا اعتماد مزید پکا ہوسکے۔

اسی بارے میں
آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟
07 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد