زلزلہ متاثرین کی مصیبتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ سےمتاثرہ علاقوں میں سردی کی ایک شدید لہر آئی ہوئی ہے اور اگلے تین روز بارش ہو گی۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد میں موسم خراب ہونے کی وجہ سے زلزلہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے اہلکار محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگلے تین روز تک زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بارش ہو گی جس سے شدید سردی پڑے گی۔بالائی علاقوں میں برف باری شروع ہو چکی ہے۔ زلزلہ سے متاثرہ لاکھوں لوگ کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خراب موسم سے امداد کا کام متاثر ہورہا ہے۔پاکستان فوج کا ایک ہیلی کاپٹر، جو ایک متاثرہ علاقےسے لوٹ رہا تھا، خراب موسم کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا ہے اور اس میں سوار سبھی چھ فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ سڑکیں ٹوٹنے سے امداد اور بچاؤ کے کام میں پہلے ہی بہت دشواریاں حائل تھیں۔ امدادی کارروائیوں کی نگرانی والے کرنل بصیر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا خراب موسم سے فضائی امداد میں سب سے زیادہ خلل پڑا ہے۔ کرنل بصیر نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے زمینی راستوں کے ذریعے جاری امدادی کارروائیوں پر اتنا زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ خچروں کے ذریعے بھی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت سب سے شدید ضرورت خیموں اور کمبل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خمیوں کی کمی ہے لیکن کچھ نہ کچھ خیمے ہر روز آ جاتے ہیں اس کے علاوہ سوموار کو پانچ ہزار خمیے پاکستان کو مل جائیں گے جن کو متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||