BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 01:42 GMT 06:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کارکنوں کا ریلہ چل پڑا تھا

امدادی کارکنوں کا قافلہ
امدادی کارکنوں کا قافلہ
پشاور سے مانسہرہ تک تمام راستے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک سیلاب کے ساتھ سفر کر رہے تھے جس کا رُخ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی جانب تھا۔ جیسے جیسے مانسہرہ قریب آتا گیا اس سیلابی ریلے میں شدت آتی رہی۔

یہ ریلہ ہے سینکڑوں امدادی کارکنوں اور سامان کی بھری چھوٹی بڑی گاڑیوں کا۔ امداد دینے والوں کے بڑے بڑے بینرز لگی ان گاڑیوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ کمبل، لحاف اور گرم کپڑے لدے ہیں۔ اس سامان میں رضاکار بھی دبکے نظر آتے ہیں۔ عمر کی کوئی حد نہیں نوجوان بوڑھے سبھی مدد کے جذبے سے کھینچے چلے آ رہے ہیں۔

راستے میں ایک جگہ جھگڑا ہوتے دیکھا تو معلومات اکٹھی کرنے پہنچ گئے۔ سرگودھا سے گڑھی حبیب اللہ تک سامان پہنچا کر واپس لوٹ رہے ایک ٹرک نے مسافر گاڑی کو ٹکر مار دی تھی۔

جھگڑا ختم ہوا تو اس ٹرک کے ڈرائیور سجاد عمر سے پوچھا سفر کیسا رہا۔ 'مانسہرہ سے گڑھی حبیب اللہ اتنا رش کہ آٹھ گھنٹوں میں پہنچے۔ چھ روز ہوگئے ہیں اب واپس جا رہا ہوں۔ عام دنوں میں دو دن میں واپس لوٹ چکا ہوتا۔'

ایبٹ آباد پہنچے تو ایوب میڈیکل کمپلیکس میں داخل ہونے پر لاوڈ سپیکر کے ذریعے ایمبولنس منگوانے کا اعلان سننے کو ملا تاکہ کسی مرنے والے کو اس کے آبائی علاقے پہنچایا جا سکے۔ یعنی زندگی بچانے کی کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو رہیں ہیں۔

وہیں مظفرآباد سے آئے زخمی حبیب الرحمان کو کھلے آسمان تلے لیٹے دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔ اس نے بتایا کہ زلزلے کی جھٹکے مسلسل آ رہے ہیں اور خوف سے مریض ہسپتال کے اندر نہیں رہنا چاہتے۔

وہیں ڈاکٹر جہانگیر سے ملاقات ہوئی تو ان سے آنے والے مریضوں کی تعداد کے بارے میں جاننا چاہا۔ انہوں نے بتایا کہ اب اگرچہ تعداد میں کمی آ رہی ہے لیکن وہ اب تک لگ بھگ دس ہزار مریضوں کو طبی امداد فراہم کرچکے ہیں۔

ایک مقامی اخبار کی خبر نے اور بھی چونکا دیا کہ 'ایشیا کے اس بڑے ہسپتال کی عمارت میں زلزلوں سے دڑاڑیں پڑی ہیں۔'

ڈاکٹر جہانگیر نے بتایا کہ سکیورٹی ٹیم کے مشورے پر زخمیوں کو صرف گراؤنڈ فلور پر رکھا جا رہا ہے۔

مختر راستے، طویل سفر
 مانسہرہ سے گڑھی حبیب اللہ اتنا رش کہ آٹھ گھنٹوں میں پہنچے۔ چھ روز ہوگئے ہیں اب واپس جا رہا ہوں۔ عام دنوں میں دو دن میں واپس لوٹ چکا ہوتا۔
ٹرک ڈرائیور

لیکن ڈاکٹر جہانگیر کی یہ تنبیہ کافی توجہ طلب تھی۔ ان کا کہنا تھا اب وہ دوسرے مرحلے کے لیے تیاری کر رہے ہیں جس میں وہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ مریض آئیں گے جو کھلے آسمان میں رہنے کی وجہ سے نمونیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہونگے اور زخمیوں کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔

بمپر ٹو بمپر گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک سست روی کا شکار رہتی ہے۔ مانسہرہ پہنچے تو گاڑیوں کے سیلاب میں مخالف سمت سے سائرن بجاتی ایمبولینسوں کا اضافہ ہوگیا۔ یعنی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخمیوں کی آمد کا سلسلہ مستقبل قریب میں ابھی ختم ہونے والا نہیں۔

فوجی، موٹروے پولیس اور 'پرانی' پولیس کے قافلے متاثرہ علاقوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ جگہ جگہ سیاسی اور دیگر تنظیمیں اپنی اپنی خیمہ بستیاں بسا رہے ہیں۔ شہر کے دو تین ہوٹل غیرملکی صحافیوں اور امدادی تنظیموں کے اہلکاروں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہمیں بھی رات کے لئے ایبٹ آباد واپس لوٹنا پڑا۔

66کوٹ گلہ مکمل تباہ
پہاڑوں پر واقع دیہات کے لوگ امداد کے منتظر
66بٹل میں تباہی
بٹل کےقصبے میں زلزلے کی تباہ کاریاں
66زلزلہ، سیاست، سفارت
شاید بھارت بھی پاکستانی امداد قبول نہ کرتا
66زلزلہ: ساتواں دن
زلزلے کے بعد ساتویں دن کی کچھ تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد