عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام بٹل |  |
 | | | رضاکار ملبے میں دب جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے |
زلزلے کے ساتویں روز مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور شاہراہ ریشم پر واقع ایک قصبہ بٹل پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہاں ہرچیز مسمار ہو چکی ہے۔ یہاں سکول گرنے سے چالیس بچے ہلاک ہوئے۔ بٹل میں ایک شخص نے بتایا کہ اس نے زلزلے سے چھ روز کے بعد اپنی بہن کی لاش ملبے سے نکالی ہے۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ اس نے اپنی بچی کو ایک روز قبل ملبے سے نکالا ہے جبکہ دوسری بچی کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہیں جو زلزلے کے وقت کھیلنے کے لیے گھر سے باہر تھی۔ بٹل میں امدادی سامان تقسیم ہو رہا تھا اور فوج کی درجنوں گاڑیاں وہاں جاتے ہوئے دیکھی گئیں اور یوں لگتا تھا کہ زلزلے کے سات روز بعد فوج بالآخر متحرک ہو گئی ہے۔ |