’مرنے والے 30 سے 50 ہزار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آرمی کی طرف سے امدادی کاررائیوں کی ٹیم سربراہی کرنے والے برگیڈیر کمال نے بتایا کہ صرف مظفرآباد اور اس کے مضافات میں مرنے والوں کی تعداد تیس سے پچاس ہزار ہو سکتی ہے۔ برگیڈیڑ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفر آباد اور اس کے گرد و نواح میں آرمی کی چالیس ٹیمیں اور تینتیس غیر ملکی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ برگیڈیر کمال نے کہا ملبے سے زندہ نکل آنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے دن ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ برگیڈیر کمال نے کہا کہ وہ مرنے والوں کی صیح تعداد بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن ان کے اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس زلزلے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوا ہے کہ جو بچے سات تاریخ کو سکول گئے تھے ان میں سے کوئی بھی واپس گھر نہیں جا سکا ہے۔ برگیڈیر کمال نے بتایا کہ صرف مظفر آباد شہر میں مرنے والوں کی تعداد دس سے بیس ہزارہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت صیح اعداد وشمار بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||