فرق شاید سیمنٹ اور لکڑی کا تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد سے باغ تک کا سفر عام حالات میں بارہ گھنٹے میں طے ہو جانا چاہیے لیکن میں بیس گھنٹوں میں بھی یہ سفر طے کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہوں۔ کوہالہ پل کے پار جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو پنجاب سے ملاتا ہے، سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ باغ کی مزید کہانیاں پڑھنے اور تصاویر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں باغ جاتے ہوئے راستے میں سترہ دیہات سےگذرا جہاں مکانوں کی اکثریت زمین بوس ہو چکی ہے۔ کئی جگہوں پر سڑک کے کناروں پر بننے والی دوکانوں کے گرنے سے روکاوٹیں بن چکی ہیں۔ باغ میں انسانی جان کا ضیاع مظفر آباد سے کم ہے اس کی شاید وجہ گھروں کی بناوٹ ہے۔ مظفر آباد میں تباہ ہونے والے گھروں کی اکثریت اینٹوں اور سمینٹ سے بنی ہوئی تھی جبکہ باغ میں اکثر گھر لکڑی سے بنے ہوئے ہیں۔ ضلع باغ میں مرنے والوں کی تعداد یقیناً ہزاروں میں ہوگی لیکن ان کی تعداد مظفر آباد میں مرنے والوں سے بہر حال بہت کم ہے۔ مظفرآباد اور باغ میں جانی نقصان میں فرق کی وجہ گھروں کی بناوٹ ہے۔ باغ میں لکڑی کے ڈھانچے کے اوپر ٹن کی چھت بنائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے شاید ہزاروں لوگ جو زلزلے کی وجہ سے گھروں میں دب گئے تھے لیکن باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ حیرت انگیز طور پرمختلف جہگوں پر زلزلے کے اثرات بلکل مختلف تھے۔ بعض جگہوں پر زلزلے سے تمام مکانات تباہ ہو چکے تھے جبکہ بعض جگہ تمام کے تمام سلامت نظر آتے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایک بہت ہی بڑی بلا چلتی جا رہی تھی اور جہاں اس کے پاؤں پڑتے وہاں سب کچھ زمین بوس ہو جاتا ہے جبکہ جہاں اس کا پاؤں نہیں پڑا تو وہاں سب کچھ محفوظ ہے۔ امدادی کارروائیاں اب ہر جگہ ہوتی نظر آتی ہیں۔روڈ خراب ضرور ہیں لیکن وہ کھلے ہیں۔ سڑک پرچلنے والی ہر تیسری گاڑی ٹرک ہے جو پاکستان کے مختلف علاقوں سے امدادی سازوسامان لے کر وہاں پہنچا ہے۔ پچھلی رات میں نے راولپنڈی میں سنا تھا کہ زلزلہ سے متاثرین کے لئے کھانے پینے کی ہزاروں ٹن اشیا بھیجے جانے کے لئے تیار ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ پاکستانی کشمیریوں کی مدد کے لیے نکل آئے ہیں۔ پاکستان سے ہزاروں نوجوان کالج جانے کی بجائے کشیمریوں کی مدد کے لیے یہاں پہنچ چکے ہیں اور امدادی کارروائیاں میں حصہ لے رہے ہیں۔ باغ کے دیہاتی مشکل صورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی امدادی سامان لانے والے ٹرکوں پر حملہ کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ میں جہاں بھی رکا، لوگوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے امداد دینے والوں سے صرف اتنا سامان لیا ہے جتنی ان کو ضرورت تھی اور امدادی کارکنوں کو ان جگہوں کا راستہ دکھایا ہے جہاں مدد کی ضرورت ان سے زیادہ ہے۔ امداد کارکن جن میں سے اکثریت کو کارروائیوں کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے،وہ بھی باغ کے لوگوں کی شرافت اور دیانتداری کے قائل ہو چکے ہیں۔ ایک اٹھارہ سالہ امدادی ورکر نے مجھے بتایا کہ اس نے مجبوروں کی مدد کر کے اتنا کچھ سیکھا ہے جتنا شاید وہ آرام کی تین زندگیاں گزارنے کے بعد بھی نہ سیکھ سکتا اور اس نے مشکل گھڑی میں پاکستان اور پاکستانیوں کو سمجھا ہے۔ ایک اور نے کہا کہ اس سے پہلے بھارت کے ساتھ کشمیر کے تنازعہ کا تو سن رکھا تھا لیکن اس کو اس میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سانحہ کے بعد وہ کشمیر کے ساتھ محبت کا شکار ہو گیا ہے اور اس کی خواہش ہو گی کہ جب حالات ٹھیک ہوں تو وہ کشمیر میں آ کر رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||