’قبریں اور تدفین، تھک چکے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب واقع ضلع باغ میں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ لاشیں دفنانے اور قبریں کھودتے کھودتے تھک گئے ہیں اور ان کے مطابق زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ باغ شہر کے گرلز ہائی سکول کے سامنے رہائش پذیر اسماعیل میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی چار بچیوں سمیت آٹھ طالبات کو ایک ہی قبر میں دفن کردیا ہے۔ ان کے مطابق لوگ قبریں نہیں کھود سکتے اس لیے اجتماعی قبروں میں دفن کر رہے ہیں۔ ضلع باغ سے متعلق مزید کہانیاں پڑھنے اور تصاویر دیکھنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک قبر میں آٹھ بچے؟ تو اسماعیل میر نے کہا کہ قبر ذرا کھلی بنائی تھی اس لیے تمام لاشیں اس میں آگئیں! ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ایک باریش نوجوان نے بتایا کہ انہوں نے دو روز میں پچیس جنازے پڑھائے ہیں اور کسی نماز جنازہ میں دو تو کسی میں تین لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ ان کے مطابق ہر گھر سے جنازہ اٹھا ہے اس لیے ہر آدمی اپنی میت دفنانے کی فکر میں ہے اور اپنے منہدم مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئی لاشیں نکالنے میں مصروف ہے۔ ہاڑی گھیل نامی چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے بتایا کہ لوگ دو تین فٹ تک بمشکل قبر کھودتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ لاشیں دفن کرنے کی محض ایک رسم پوری کی جاتی ہے۔ ایک صحافی مشتاق منہاس نے دعویٰ کیا کہ بنی منہاساں نامی ان کا گاؤں باغ شہر کے قریب واقع ہے جس میں ان کے خاندان کے بیشتر افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے قریب واقع ایک پہاڑی چوٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے پیچھے کنٹرول لائن ہے اور اس پہاڑ کے ارد گرد جتنے بھی گاؤں ہیں وہاں کئی جگہوں پر ان کے عزیز و اقارب اور جاننے والوں نے بغیر غسل، کفن اور نماز جنازہ پڑھائے ہوئے کئی لاشیں دفن کی ہیں۔ راجہ حبیب ایڈوکیٹ جن کے کپڑوں پر خون کے دھبے بھی تھے انہوں نے بتایا کہ وہ منگل کی شام تک اپنے گاؤں میں نوے لاشین دفنا چکے ہیں اور مکانات زمیں بوس ہونے کی وجہ سے پورا گاؤں کھیتوں میں کھلے آسمان تلے بیٹھا ہے۔ باغ شہر کے قریب سڑک پر جاتے ہوئے ایک شخص نے زبردستی روکا اور اپنا نام مصطفیٰ چغتائی بتایا اور کہا کہ ’او بی بی سی والے خدا کے واسطے حکمرانوں سے کہو کہ ہمیں کھانا نہیں دیتے تو نہیں دیں ہم اپنی کچی مکئی کھالیں گے لیکن ہمیں ہیلی کاپٹر سے گینچیاں اور بیلچے پھینکے تاکہ ملبے تلے لاشیں نکال سکیں‘۔ اس دوران ایک ہیلی کاپٹر پرواز کر رہا تھا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ان فوجیوں کو سمجھاؤ کہ اوپر اوپر سے ٹن کی چادروں کی چھتیں جو انہیں نظر آرہی ہیں انہیں سلامت نہ سمجھیں کیونکہ ہر ایسی چھت کے نیچے بچے، مرد اور خواتین دبی ہوئی ہیں‘۔ آدھی سفید داڑھی والے یہ صاحب اپنے اہل خانہ کی کچھ خواتین کے ہمراہ تھے اور ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ان کے معصوم بچے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||