’دو دن سے لاشیں دفن کررہے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں باغ شہر کے رہائشی عمران بٹ نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں ہر گھر میں دو تین لوگ زلزلہ کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں اور شہر کی پچہتر فیصد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو دن گزرنے کے بعد اس وقت بھی سینکڑوں لوگ مکانوں اور دکانوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باغ کے لوگ کل سے میتوں کی تدفین میں مصروف ہیں اور پیر کو بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ عمران بٹ نے کہا کہ پچاس ہزار آبادی کے اس شہر میں سب سے زیادہ نقصان گورنمنٹ گرلز کالج میں ہوا ہے جس کی عمارت کے ملبے کے نیچے دبنے سے دو سو سے زیادہ لڑکیاں ہلاک ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ابھی وہ اس کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک نجی اسکول اسپرنگ فیلڈ، گورنمنٹ گرلز اسکول اور بوائز کالج کی عمارتیں گرنے سے بھی سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ عمران بٹ نے کہا کہ ہر اسکول میں ملبہ کے نیچے دبنے سے پچاس سے سو اموات ہوئی ہیں۔ باغ کے شہری نے بتایا کہ شہر میں پچانوے فیصد سرکاری عمارتیں ملبہ کا ڈھیر بن چکی ہیں جبکہ بازار کی دو اور تین منزلہ تمام عمارتیں گرچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں صرف ایک منزلہ عمارتیں مکمل تباہی سے بچ گئی ہیں کیونکہ ان میں صرف دراڑیں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ہفتہ کے زلزلہ کے بعد شام سے بارش شروع ہوگئی اور رات بھر جاری رہی جس سے سردی کی شدت بڑھ گئی ہے اور لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ عمران نے کہا کہ گزشتہ روز شام سے امدادی کاروائیاں شروع ہوئی ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کچھ امداد آئی تھی لیکن وہ ضرورت سے بہت کم تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کا بڑے ہسپتال کی عمارت بھی زلزلہ سے گر گئی ہے جس وجہ سے زخمیوں کا علاج معالجہ بھی نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا باغ میں فوج کا سکس اے کے بریگیڈ کا ہیڈکوارٹر ہے اور فوجیوں کا بھی خاصا نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کے چار پانچ سو جوان زلزلہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||