جنوبی ایشیا میں زلزلہ: رپورٹروں کی ڈائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذولفقار علی: مظفر آباد، پاکستان اسلام آباد سے تقریبا دس گھنٹے تک گاڑی چلانے کے بعد بھی میں لوہار گلی سے آگےنہیں بڑھ سکا جو مظفر آباد سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مظفر آباد پہنچنے کا واحد راستہ اب یہی تھا کہ میں پیدل چل کے جاؤں لیکن میں مزید آگے نہیں چل سکتا تھا کیونکہ رات کے دو بج چکے تھے۔ میں نے اگلے چار گھنٹے لوہار گلی میں گزارے اور صبح چھے بجے میں نے مظفرآباد کی طرف دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ مظفر آباد کو اس وقت پہچاننا مشکل ہے کیونکہ زلزلہ کے بعد اب اس کی شکل ہی بدل گئی ہے۔ ابھی بھی لوگ ملبے کے اندر دبے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج کے ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے علاوہ زخمیوں کو بھی اسلام آباد پہنچانےمیں مصروف ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے لوگ ہلاک، زخمی یا ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ہر سمت موت اور تباہی نظر آتی ہے۔ میرا اپنا گھر تباہ ہوگیا ہے۔ میری بیوی اور بچوں نے گھر کے باہر ایک گاڑی میں رات گزاری۔ بہت سے گھروں میں زلزلے کے بعد درازیں پڑ گئی ہیں لیکن انہوں نے خوف کے باعث اپنے گھروں میں رات نہیں گزاری۔ علاقے میں بجلی اور ٹیلی فون کی سہولت موجود نہیں۔ پانی اور کھانے پینے کی اشیاء بھی کمیاب ہوگئی ہیں۔ اینڈریو نارتھ، ایبٹ آباد: اس علاقے کے مرکزی ہسپتال میں صدمے اور دکھ کی سی کیفیت ہے۔ سینکڑوں مریض جو زخمی ہیں ہپستال سے باہر قائم خیموں میں ان کو طبی امداد پہنچائی جارہی ہے۔ وہ اپنے رشتہ داروں کی موت پر نوحہ خواں ہیں۔ بہت سے لوگوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں کچھ کے چہروں پر زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال پر قابو پانے کی مکمل کوششوں میں مصروف ہیں لیکن خیموں میں موجود مریضوں کے زخموں میں انفیکشن پھیلنے سے روکنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ ہسپتال میں پانی کی فراہمی منقطع ہے اور مریضوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ اس علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کی صورت حال ہے جہاں ابھی اور بھی زخمیوں کے آنے کی توقع ہے۔ مائیک وولڈریج، اسلام آباد: اس وقت اسلام آباد میں اس صبح کئی اچھی خبریں سنے کو ملی۔ زلزلہ کی امداد کے برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم نے پاکستان کے امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کر دیا ہے۔ جو اس وقت زلزلے کے بعد تباہ ہونے والے اپارٹمنٹ کی عمارت کے ملبے دبے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ برطانوی ٹیم کا کہنا ہے کہ ابھی بھی اس ملبے میں کوئی ساٹھ کے قریب لوگ دبے ہوئے ہیں۔ ملبے میں دبے لوگوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ امدای ٹیم اس وقت اس علاقے میں کام میں مصروف ہے جہاں خیال کیا جارہا ہے کہ دو بچے ابھی بھی زندہ دبے ہوئے ہیں۔ لیز ڈیوسٹ، اسلام آباد: اسلام آباد میں زلزلے کے بعد تباہ ہونے والی عمارت کے بعد تعمیراتی معیار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس عمارت کو تعمیر کرنے والے ٹھیکیداروں کو عدالت میں گھسیٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں سے ابھی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔جہاں لوگ ابھی بھی عمارتوں اور مساجد میں محصور ہیں۔ ہمیں سڑکوں کے صاف ہونے کا انتظار کرنا ہے جب ہی اس علاقے کی اصل صورت حال کا علم ہو سکے گا کہ وہاں کیا ہوا۔ ابھی کچھ ڈاکٹر بھاگتے ہوئے میرے پاس سے گذرے ہیں اس کا مطلب ہے کہ انہیں کوئی لاش ملی ہے۔ نائیک برینٹ، مظفر آباد: باغ کا قصبہ اس زلزلے کے بعد تباہ ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ علاقہ موجود ہی نہیں تھا۔ اس کی مصروف مارکیٹ زمین بوس ہو گئی ہے۔ پاکستان آرمی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے متاثرہ افراد کو کھانا، کمبل اور ادویات کی فراہمی میں مصروف ہے۔ میں نے سونامی اور بام کےزلزلوں کی پریس کوریج کی ہے لیکن اس سے بدترین تباہی میں نے نہیں دیکھی۔ باربرا پلیٹ درجنوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں کو زندہ نکالا گیا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پورے کے پورے دیہات تباہ ہو گئے ہیں اور ابھی بہت سے دیہات میں امداد نہیں پہنچ پارہی۔ ایک رپورٹر ذوالفقار علی نے جو بارہ کلومیٹر پیدل چل کر مظفر آباد پہنچے بتایا کہ وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بہت سی عمارات تباہ ہو گئی ہیں اور لوگ ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔ لوگوں نے رات تیز بارش میں کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔ حکام کا کہنا ہے کہ اٹھارہ ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مکمل تصویر سامنے نہیں آئی۔ دنیا بھر سے امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔ برطانیہ سے ایک امدادی ٹیم اسلام آباد پہنچ چکی ہے اور شہر میں گرنے والی عمارت سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک کے متاثرہ علاقوں خاص طور پر صوبہ سرحد اور کشمیر میں تیزی سے امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ صورتحال بہت گمبھیر ہے اور مزید گمبھیر ہو جائے گی۔
اتوار کو جب میں بالاکوٹ پہنچا تو ایک سکول کی عمارت کے ملبے میں پھنسے ہوئے طالب علموں کی آواز سن سکتا تھا۔ اس شہر میں بازار اور مساجد گر گئیں ہیں۔ ایوب ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بارہ افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے ہیں۔ مانسہرہ میں صورتحال زیادہ خراب تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ گڑھی حبیب اللہ، بٹل اور بالاکوٹ میں سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ بالاکوٹ کی طرف جانے والی سڑک مٹی کے تودے گرنے سے بند ہو چکی تھی۔ میں کئی میل چل کر بالاکوٹ پہنچا۔ شہر میں مکمل اندھیرا تھا۔ زلزلے میں بچ جانے والے افراد نے آگ جلائی ہوئی تھی۔ کم سے کم ایک ہزار بچے چار سکولوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لوگ ملبے سے ایک بچے کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بچہ ٹھیک ہے لیکن ان کے پاس ملبے کو ہٹانے کے لیے اوزار نہیں تھے۔ ایک مقامی عورت نے کہا کہ ’لوگ زندہ ہیں لیکن ہمارے پاس ان کو نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘۔ مجھے اس چالیس ہزار آبادی والے علاقے میں سرکاری اہلکار یا فوج کی امدادی ٹیم کا کوئی رکن نظر نہیں آیا۔ ایک مقامی شخص ساجد حسین نے بتایا کہ ’ہمیں تمام دن صرف دو فوجی ہیلی کاپٹر نظر آتے رہے۔ ہم نے سیٹیاں بجائیں ان کو ہاتھ ہلائے لیکن وہ غائب ہو گئے۔ حکومت کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے لیکن اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بالاکوٹ جیسے بہت سے علاقے ہیں جو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں اور امدادی ٹیمیں ابھی وہاں نہیں پہنچیں۔ زلزلے میں بچ جانے والوں نے بتایا کہ پانچ ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور پندرہ ہزار کے قریب ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||