متاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان اور دیگر امدادی اداروں نے شدید زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد دینے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کام شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پچیس ہیلی کاپٹر اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ جس میں ان کے مطابق بیس بڑے ٹرانسپورٹ اور پانچ چھوٹے ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تودے گرنے کی وجہ سے ا بھی کئی سڑکیں بند ہیں اور متاثرہ علاقوں کا رابطہ منقطع ہے اور امدادی کارکن زمینی رستے سے ان علاقوں میں نہیں پہنچ پائے۔ حکام کے مطابق مختلف سڑکیں صاف کرنے اور راستے بحال کرنے کے لیے بلڈوزر اور متعلقہ عملہ کام کر رہا ہے اور امید ہے کہ جلد رابطہ بحال ہوجائے گا۔ ادھر اتوار کو برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم جدید آلات سمیت اسلام آباد پہنچی ہے اور اس نے زمین بوس ہونے والی دس منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبے زندہ افراد کی آواز اور میٹل یعنی دھات کی بنا پر نشاندہی کا کام شروع کردیا ہے۔ ٹیم نے اب تک دو زندہ بچوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس برطانوی ٹیم کے ایک ماہر جان ہالینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں بچے موجود ہیں وہاں سے ملبہ ہٹایا جارہا ہے اور امید ہے کہ انہیں زندہ بچالیا جائے گا۔ اب تک اس عمارت کے ملبے تلے چھبیس افراد کی لاشیں اور نوے سے زیادہ زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے۔ گزشتہ رات اسلام آباد، مظفرآباد اور صوبہ سرحد کے بالائی علاقوں میں جہاں سب سے زیادہ زلزلے کے متاثرین ہیں وہاں بارشوں کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہوا تھا۔ لیکن اتوار کے روز موسم بہتر ہونے کی وجہ سے امدادی کام تیزی سے جاری ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||