تیز بارش، امدادی کارروائیاں متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ شمالی علاقوں میں موسلا دھار بارش نے امدادی کاروائیوں میں نئی مشکلات پیدا کر دیں ہیں۔ طوفانی بارش اور بجلی کڑکنے کا سلسلہ اسلام آباد سمیت صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے متصل علاقوں میں رات گئے جاری رہا ۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ قمرزمان چودھری نے کہا کہ گو کہ یہ بارش کچھ دیر میں تھم جائے گی لیکن اتوار کی شام دوبارہ تیز بارش کی توقع ہے۔ زلزلے سے متاثرہ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو اب تک حکام یہ مشورہ دے رہے تھے کہ وہ عمارتوں اور گھروں میں رہنے کی بجائے کھلے آسمان تلے رہیں تاکہ مزید جھٹکوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ لیکن رات گئے زمین پر زلزلے کے جھٹکوں اور آسمان سے تیز بارش نے لاکھوں متاثرہ خاندانوں کے لئے حالات ابتر کر دیئے ہیں۔ برطانوی امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ موسمِ سرما کے آغاز کی وجہ سے متاثرہ لوگوں کو جلد امداد نہ پہنچی تو مزید اموات کا خدشہ ہے۔ آکسفیم کے امدادی کارکن متاثرہ علاقوں کے دورے پر ہیں۔ تنظیم نے عالمی امداد کی اپیل بھی جاری کی ہے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے متاثرہ علاقوں کے لئے ایک ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیرِ خارجہ جیک اِسٹرا نے پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری سے ٹیلی فون پر بات کر کے برطانوی امداد کا یقین دلایا ہے۔ توقع ہے کہ برطانیہ اور جاپان کے تربیت یافتہ امدادی کارکن اتوار کی شام تک اسلام آباد پنہچیں گے۔ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سِنگھ نے صدرجـنرل مشرف کو بھارت کی طرف سے مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||