BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 October, 2005, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مزید جھٹکے آسکتے ہیں‘

پاکستان میں ساٹھ برس بعد شدید زلزلہ آیا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمر الزمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تاحال مرنے والوں کی درست تعداد تو نہیں معلوم البتہ ہلاکتیں ہزاروں میں ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے شمالی علاقے میں کبھی اس نوعیت کا شدید زلزلہ نہیں آیا۔ البتہ ان کے مطابق مئی انیس سو پینتیس میں کوئٹہ میں اسی شدت یعنی سات اعشاریہ پانچ کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں تیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے مطابق اس سے قبل چار اپریل انیس سو پانچ میں ایک زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز بھارت میں تھا اور اسے کانگرا زلزلہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس میں بھی بیس ہزار لوگ مارے گئے تھے۔

قمر الزمان نے بتایا کہ اس زمانے میں آبادی بہت کم ہوتی تھی لیکن اب آبادی بہت بڑھ گئی ہے اس لیے ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے ایک سوال پر بی بی سی کو بتایا کہ صبح آٹھ بج کر چون منٹ پر آنے والے اس شدید زلزلے کے بعد اب تک پندرہ جھٹکے وقفے وقفے سے آچکے ہیں اور ان کی شدت پانچ سے پانچ اعشاریہ چھ کے درمیان تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید زلزلے کے جھٹکے آنے کا خدشہ ہے جس کی شدت پانچ سے چھ کے درمیان ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق سنیچر کی صبح آنے والے زلزلے کا مرکز مظفرآباد اور مانسہرہ کے درمیان پہاڑی علاقوں میں تھا اور یہ اوپری سطح کا زلزلہ تھا جس وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس زلزلے کا دائرہ دس کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں مظفرآباد، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مردان، بالا کوٹ اور راولاکوٹ شامل ہیں جہاں پورے گاؤں کے گاؤں تودے گرنے سے بہہ گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مظفرآباد میں کئی عمارتوں کے گرنے کی بھی اطلاع ہے۔

ادھر وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور وزارت داخلہ میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور متاثرہ افراد کو رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاہم ان مراکز سے تاحال متاثرہ افراد کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات اب تک نہیں مل سکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد