سیکریٹیریٹ میں دراڑیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام اباد میں ہفتے کی صبح آنے والے زلزلے سے وزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی کی کئی سرکاری اور نجی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ان کے اندر شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کو خالی کردیا گیا ہے اور سٹاف کو تاحکم ثانی عمارت میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ زلزلے سے گرنے والے مارگلہ ٹاور کے بلاکوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی تعمیر ’ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘، یعنی ’سی ڈی اے‘ کے قواعد کے برعکس ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق تعمیر کے بعد ’سی ڈی اے‘ نے اس عمارت کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے منظوری دے دی تھی۔ ادھر وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ زمین بوس مارگلہ ٹاور کے ملبے سے تاحال پینتالیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ اس زمین بوس عمارت میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چالیس سالہ مصری شہری بھی شامل ہیں جو ایک سلیولر فون کمپنی موبی لنک میں ملازم تھےجبکہ پمز ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے کے مطابق سلمان راحت نامی ایک پینتیس سالہ شخص ہلاک ہوا ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اب تک چالیس کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے جس میں چھ سے زیادہ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||