دیر رات گئے، ملبے کے نیچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کے بارہ گھنٹوں کے بعد تک حالات نارمل نہیں لگ رہے تھے کیوں کہ لوگ، بالخصوص وہ جو چار سے اونچی منزلہ عمارتوں میں رہتے ہیں، اپنے فلیٹوں میں جانے سے ڈر رہے تھے۔ وہ کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے اور رات کو دس بجے جب بارش ہونی شروع ہوئی تب لوگوں کے سامنے اپنے گھروں میں جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ مارگلہ ٹاور میں امدادی کام جاری رہا اور اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس شعیب جانباز نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر رات تک ستاسی افراد کو بچایا گیا تھا تاہم مزید لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ لیکن ان کے مطابق ٹاور کی انتظامیہ سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ کتنے لوگ دبے ہوسکتے ہیں۔ رات کو بیسیوں لوگ مارگلہ ٹاور کے اردگرد کھڑے تھے، اس انتظار میں کہ ان کے پیاروں کو ملبے سے بچایا جاسکے۔ چھبیس سالہ طارق عظیم نے، جو کراچی سے اسلام آباد پہنچے، بتایا کہ ملبے کے نیچے دبے لوگوں نے موبائل فون سے اپنے رشتہ داروں کو اطلاع دی۔ طارق عظیم نے بتایا کہ ان کے دادا اور دادی جن کی عمر ستر سے زائد تھی ملبے میں دبے ہوئے تھے لیکن ان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں مل پارہی تھی۔ مارگلہ ٹاور میں چار دیگر ٹاور ہیں اور یہاں شہر کے امیر لوگ رہتے ہیں جن میں اقوام متحدہ اور حکومت کے اہلکار شامل ہیں۔ مارگلہ ٹاور کے اردگرد کی عمارتوں کو خالی کرایا گیا تھا۔ ہزاروں لوگوں کے دوسری عمارتوں اور عارضی کیمپوں میں پناہ دی گئی تھی جو اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک میں قائم کیے گئے تھے۔ پولیس، فوج، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور دیگر غیرسرکاری اداروں کے افراد امداد کم کررہے تھے۔ ایف ڈبلیو او کے عمران احمد نے بتایا کہ وہ ملبے میں کھدائی کررہے تھے تاکہ اس کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کو بچایا جاسکے۔ عمران نے بتایا کہ زلزلے کے آنے کے بارہ گھنٹوں بعد بھی لوگ ملبے کے نیچے سے مدد کے لئے آواز دے رہے تھے۔ کچھ لوگوں کو ملبے کے اندر ہی پانی اور خوراک پہنچائی گئی۔ پولیس مین خاور عباس نے بتایا کہ اس نے دو بچوں کو نکالا جن میں سے صرف ایک زندہ تھا، دونوں کی عمر دس کے قریب تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||