وسیع تباہی، تین ہزار سے زائد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کی صبح آنے والے زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اور اس زلزلے کے متاثرین نے کئی علاقوں میں سنیچر کی شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔ حکام نے دو ہزار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ ایک اور واقعے میں صوبہ سرحد کے مانسہرہ علاقے میں کم سے کم چار سو بچے اس وقت ہلاک ہوگئے جب دو اسکول کی عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں۔ ہمارے نامہ نگار مبشر زیدی کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے بالاکوٹ میں زلزلے سے شدید تباہی ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ صرف اس تحصیل میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں ابھی تک حکومت یا فوج کی کوئی بھی امدادی ٹیم نہیں پہنچی ہے اور زلزلے سے بچ جانے والے مقامی لوگ ہی وہاں لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔ بالاکوٹ تک جانے والی مرکزی شاہراہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے اور متبادل راستے کے طور پر حسہ کے پل سے گردو نواح کے لوگ بالا کوٹ امداد کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس علاقے میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ سنیچر کی صبح سات اعشاریہ چھ کی شدت والے اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے پاس کی پہاڑیوں میں تھا۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے حکام نے بتایا ہے کہ وہاں لگ بھگ تین سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد سترہ سو سے زائد ہوسکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں تعینات لگ بھگ دو سو فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے۔ وہاں لائن آف کنٹرول کے قریب اوری کا شہر سب سے زیادہ متاثر تھا جہاں ایک سو چار افراد ہلاک ہوگئے۔ دارالحکومت سرینگر سے ہمارے صحافی الطاف حسین کا کہنا ہے کہ حکومتی انتظامیہ راحت رسانی کے کام میں لگی ہوئی ہے اور طبی امداد، خوراک، پانی، بجلی وغیرہ کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایف ٹین کے علاقے میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے اور درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ٹاور کا ملبہ ہٹانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے مطابق صرف اسلام آباد میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہو گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کے مطابق سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں زمین بوس ہونے والی عمارت میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چالیس سالہ مصری شہری بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے ایک مقامی ٹیلیویژن کو بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ متعدد دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں‘۔ ایک سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ اموات کی حتمی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے یہ بھی بتایا ہے کہ زمین بوس مارگلہ ٹاور کے ملبے سے تاحال پینتالیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے امدادی کارروائیوں کے لیے جاپان سے فنی مدد حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق جاپان سے ماہرین کی ایک ٹیم آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ضروری آلات کے ساتھ اسلام آباد پہنچ جائے گی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ ’مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایک ہزار سے بھی کہیں زیادہ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قومی سانحہ ہے‘۔ شوکت سلطان کے مطابق چار سو تیس افراد کو زلزلے سے متاثرہ افراد فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ملٹری ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت مختلف شہروں میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور پہاڑی تودے گرنے سے سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سرکاری افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے‘۔ راولاکوٹ میں بھی کئی دیہاتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ٹیکسلا، مانہسرہ ، بالا کوٹ اور شمالی علاقوں میں کچھ مکان تباہ ہو گئے ہیں۔ زلزلہ سے لاہور میں رینجرز ہیڈکوارٹرز کے قریب چند دکانیں گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے اور شاہ عالم مارکیٹ میں ایک مکان گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شاہ عالم میں جو مکان گرا ہے اس کا ملبہ خاصا زیادہ ہے اور ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کے اندر کتنے لوگ ہیں۔ سیالکوٹ میں ایک سکول کی عمارت گرنے سے آٹھ بچے زخمی ہوئے ہیں۔ شہر کی کئی بڑی عمارتوں میں قائم دفاتر کا عملہ باہر نکل کر سڑک پر کھڑا ہوگیا۔ لاہور میں مال روڈ پر جی پی او، پوسٹل آفس اور جیل روڈ پر ای ایف یو کی عمارتوں کو زلزلہ کے جھٹکوں کے بعد خالی کرالیا گیا۔ شہر کے کئی سکول بند کرکے بچوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں فیض آباد کے قریب ایک سکول کی چھت گرنے اور کئی مکانوں کی چھتوں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ اسلام آباد میں سینٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ ارکان اپنے علاقوں اور گھروں میں جانا چاہتے تھے۔ دنیا کے کئی ممالک زلزلے کے متاثرین کے لئے امداد بھیج رہے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ابتدائی امداد پاکستان کے لئے چل پڑا ہے اور مزید امداد فراہم کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ اپنے ماہرین کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ ہنگامی امداد کریں۔ یورپی یونین نے امدادی اداروں کو کہا ہے کہ امداد پہنچانے میں جو بھی خرچ ہوگا وہ یورپی یونین کے ایمرجنسی فنڈز سے مہیا کیا جائے گا۔ برطانیہ اور ترکی نے طبی اور دیگر امداد روانہ کردی ہے۔ سنیچر کے زلزلے سے متاثرہ علاقے
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||