18000 افراد ہلاک، اکتالیس ہزار زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ سنیچر کے روز آنیوالے زلزلے سے لگ بھگ اٹھارہ ہزار لوگ ہلاک اور اکتالیس ہزار زخمی ہوئے ہیں اور یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی جو وہ تعداد بتارہے ہیں وہ ان اطلاعات کی بنیاد پر ہے جو پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح سات بجے تک موصول ہوئی تھیں۔ شوکت سلطان نے اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسمی حالات خراب ہونے کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں میں پہنچنا مشکل ہورہا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی زیادہ تعداد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہے۔ سنیچر کے زلزلے کا مرکز مظفرآباد کے قریب کی پہاڑیوں میں تھا۔ شوکت سلطان کے بی بی سی ہندی سروس کی صحافی شیوانی شرما کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں، پھر صوبہ سرحد میں اور اس کے بعد شمالی علاقہ جات میں ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق صرف صوبہ سرحد میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے سولہ سو سے تجاوز کرسکتی ہے۔ شوکت سلطان نے بتایا کہ اتوار کی صبح پاکستانی فوج اور حکومتی اداروں نے لوگوں کو بچانے اور ہنگامی امداد پہنچانے کے لئے آپریشن پھر سے شروع کردیا ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امدادی کاموں میں رکاوٹیں اس لئے بھی پیدا ہورہی ہیں کہ بڑے بڑے ہیلی کاپٹر دستیاب نہیں ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں سے زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچایا جاسکے۔ متاثرہ علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے، پل ٹوٹنے، عمارتیں گرنے وغیرہ کی وجوہات سے آمد و رفت کافی مشکل ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں کے گاؤں زمیں بوس ہوگئے ہیں۔ سنیچر کی شب امدادی کاموں میں کافی رکاوٹیں رہیں اور اب اتوار کو صبح زلزلے کی تباہی کا منظر دنیا کے سامنے ابھرنا شروع ہورہا ہے۔ ہمارے نامہ نگار مبشر زیدی نے پاکستان کے شمالے علاقے بالاکوٹ کا دورہ کرنے کے بعد اطلاع دی ہے کہ وہاں سنیچر کی شب تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی تھی اور خدشہ ہے کہ صرف اس تحصیل میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ بالاکوٹ تک جانے والی مرکزی شاہراہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے اور متبادل راستے کے طور پر حسہ کے پل سے گردو نواح کے لوگ بالا کوٹ امداد کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس علاقے میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ بالا کوٹ سے کچھ دور پہلے سے ہی اس علاقے میں تباہی کے آوار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے مانسہرہ جانے والی شاہراہ پر ایبٹ آباد میں چند پلازے اور عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ پاکستانی صدر پرویز مشرف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ’تمام ممکن امداد‘ پہنچانے کی ہر کوشش کرے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک نے متاثرین کے لئے امداد روانہ کردی ہے اور امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ مزید امداد فراہم کی جائے گی۔ سنیچر کے زلزلے کا ایک بڑا سانحہ یہ بھی ہے کہ مانسہرہ میں دو سکول کی عمارتوں کے گرنے سے وہاں پڑھنے والی لگ بھگ تین سو بچیاں ہلاک ہوگئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والی ان بچیوں کی تعداد چار سو بھی ہوسکتی ہے۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق مانسہرہ کے علاقے گڑھی حبیب اللہ میں گرلز ہائی سکول کی عمارت گرنے سے 250 بچیاں ہلاک جبکہ 500 کے قریب زخمی ہو گئیں۔ ایک اور قریبی گاؤں گل مہرہ میں بھی ایک گرلز ہائی سکول کی عمارت منہدم ہونے سے پچاس بچیاں ملبے کے نیچے دب گئیں۔ ان کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ہلاک ہو گئی ہیں۔ نقشہ: زلزلے سے متاثرہ علاقہ
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||