اپنی مدد آپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں بہت سی عمارتیں اور مکانات گر کر تباہ ہو گئے ہیں اور اس کے باعث بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور ابھی بھی بچوں سمیت بہت سے لوگ ملبے میں دبے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کچھ زخمیوں کو زندہ نکالا جا رہا ہے البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے صدر پرویز مشرف اتوار کو مظفر آباد آئے تھے۔ انہوں نے فضائی جائزہ لیا اور یہاں پر فوجیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس زلزلہ کے باعث پندہ سے بیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہوں گے لیکن ابھی تک اس کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد ہی ہلاک اور زخمی ہونے والے لوگوں کی صحیح تعداد کا علم ہو سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ امدادی کام بہت سست روی کا شکار ہے۔ پہلے دن امدادی کام میں فوج یا پولیس نے حصہ نہیں لیا۔ مقامی لوگ اپنے طور پر ملبے میں دبے لوگوں کو باہر نکال رہے تھے۔ البتہ اتوار کو کچھ فوجی نظر آئے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||