امداد میں ایل او سی رکاوٹ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے اردگرد کا علاقہ ہے۔ زلزلے کی خبر ملتے ہی بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے فون پر بات کی اور اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا۔ بھارت نے اس موقع پر پاکستان کو امداد کی پیش کش بھی کی ہے لیکن سیاسی حالات کی بناء پر ایسا لگتا نہیں کہ یہ پیشکش قبول کی جائے گی۔ خطے میں امن کی حالیہ کوششوں نے اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کسی حد تک کم کیا ہے تاہم ایل او سی کا علاقہ اب بھی فوجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ لائن آف کنٹرول کا علاقہ گزشتہ چند عشروں سے لگاتار جھڑپوں اور بھاری گولہ باری سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ اس علاقے میں موجود فوج کی بھاری تعداد کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ فوج کے اس علاقے میں ہونے کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں کھدائی کے آلات اور ہیلی کاپٹر پہلے سے موجود ہیں لیکن اس موقع پر پاکستانی اور بھارتی فوجیوں کے لیے اس بنیادی ضرورت کے سامان کی شراکت سیاسی اور عملی طور پر ناممکن ہوگی۔ لائن آف کنٹرول پر نہ صرف قلعہ بندیاں ہیں بلکہ راستے میں مورچے اور بارودی سرنگیں بھی بچھائی گئی ہیں۔ یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں آئے دن سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند رہتی ہیں۔ اگرچہ بھارتی زیرِانتظام کشمیر کے متاثرہ علاقے پاکستانی علاقے سے زیادہ قریب ہیں لیکن اس جانب سے امداد آنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ سب سے بڑی رکاوٹ سیاست ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||