BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 October, 2005, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: ہلاکتوں میں مزید اضافہ

بے گھر لوگ اپنی راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزار رہے ہیں
بے گھر لوگ اپنی راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزار رہے ہیں
حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مرنے والوں کی تعدار بڑھ کر آٹھ سو پینسٹھ ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سات سو چورانوے مقامی باشندے اور اکہتر فوج کے جوان شامل ہیں۔

داخلہ سیکریٹری وی کے دگل نے دارالحکومت دلی میں صحافیوں کوبتایا کہ انہيں اندیشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید پانچ سے دس فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

مسٹر دگل نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں اوڑی ضلع کے تنگدھار علاقے کو چھوڑ کر تقریباً سبھی مقامات میں ٹیلی فون سروسز دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرینگر مظفرآباد بس سروس اپنے طے شدہ وقت پر چلے گی لیکن مسٹر دگل نے میڈیا کی ان خبروں پر کسی طرح کے رد عمل سے انکار کیا جس میں کہا جا رہا ہے کہ شدت پسند تنظیموں نے اس وقت تک اپنی کاروائی روکنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک راحت کا کام جاری ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس زلزلے سے دو ہزار تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ چار ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

فوج کے جوان زلزلے کے تیسرے روز ان دور دراز علاقوں میں امدادی کارروائی کر رہے ہيں جہاں اب تک امدادی تنظیموں کا پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ ان علاقوں تک پہنچنے کے لیے فوج نے راستوں سے بلڈوزروں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بیشتر علاقوں تک کسی بھی طرح کی امداد مقامی باشندوں تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ لوگوں کے پاس کھانے کا کوئی سامان نہیں ہے اور وہ دو روز سے بھوکے ہیں۔ بے گھر لوگ اپنی راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزار رہے ہیں اور زخمیوں کے علاج کے لیے علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں بچا ہے۔ علاقے میں شدید سردی بھی ہے۔

 ریاستی پولیس کنٹرول روم نے بارامولہ علاقے میں ساڑھے چار سو سے زیادہ اور کپواڑہ ضلع میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان دور دراز کے علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کر رہی ہے۔ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کپواڑہ ضلع کے تنگدھار اور کیران گاؤں شامل ہیں اور بارہ مولہ کا اڑی علاقہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں زلزلے کی شدت رکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

ریاستی پولیس کنٹرول روم نے بارمولہ علاقے میں ساڑھے چار سو سے زیادہ اور کپواڑہ ضلع میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب جموں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں زلزلے کے تیس سے زیادہ جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جموں کے باشندوں نے زلزلوں کی دہشت کے سبب رات اپنے گھروں کے باہر گزاری ۔

وزير اعظم منموہن سنگھ منگل کے روز متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سرینگر پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ روز حکمراں اتحاد کی صدر سونیا گاندھی نے وزير دفاع پرنب مکھرجی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ پیر کو حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد