BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 October, 2005, 04:05 GMT 09:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد نہیں پہنچی، لوگ ملبے کے نیچے
بالاکوٹ میں لوگ جنازہ لےجاتے ہوئے
بالاکوٹ میں لوگ جنازہ لےجاتے ہوئے
پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں لوگوں نے اتوار کی شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ یہ دوسری شب تھی جب زلزلے کے متاثرین کو سردی اور بعض اوقات بارش کا سامنا کھلے آسمان تلے بغیر کسی امداد کے کرنا پڑا ہے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بیس ہزار سے پچیس ہزار تک ہوسکتی ہے۔

حکومت نے انیس ہزار چار سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق پہلے ہی کردی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے پیر کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بیالیس ہزار بتائی جارہی ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابھی بھی بڑھ سکتی ہے کیوں کہ بیشتر علاقوں میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی رپورٹوں کے مطابق متاثرین تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔

حکام کے مطابق صرف مظفرآباد میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک گیارہ ہزار بتائی گئی ہے، جبکہ شہر کا پچاس فیصد سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے، عمارتیں گرگئیں ہیں، لوگوں نے قبرستانوں، گلیوں اور اپنی گاڑیوں میں پناہ لی ہے۔ بی بی سی نیوز کے صحافی عامر احمد خان نے مظفرآباد سے رپورٹ دی ہے کہ ’’یہاں کہانی موت سے شروع ہوتی ہے اور موت پر ہی ختم ہوتی ہے۔‘‘ لوگوں نے انہیں ملبے کے اندر دبے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ ’’تم اس کو سن سکتے ہو، ان میں دو ا بھی بول رہے ہیں۔۔۔‘‘

پیر کی صبح تک جو اطلاعات مل رہی ہیں ان سے واضح ہے کہ فوج، حکومتی ادارے یا غیرسرکاری تنظیمیں ابھی بھی دور دراز کے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظفرآباد کے اطراف میں، صوبہ سرحد میں بالخصوص بالاکوٹ کے علاقے اور شمالی علاقہ جات کے دیگر متاثرہ مقامات میں، اسلام آباد کے پلازہ کے ملبے میں، اور دیگر کئی مقامات پر لوگ ملبوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔

پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے دنیا سے ہنگامی سطح پر امداد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر سامان لے جانے والے بڑے بڑے کارگو ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچا جاسکے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں سے یہ بھی نہیں لگتا کہ فوج یا امدادی ادارے طیاروں سے بھی خوراک گرارہے ہوں۔ بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی اور مبشر زیدی نے بالاکوٹ کا دورہ کرکے یہ بتایا ہے کہ متاثرین تک کوئی امداد نہیں پہنچ رہا ہے اور بعض مقامات پر لوگ اب بھی ملبوں کے اندر دبے ہوئے ہیں: زندہ۔ بالاکوٹ سے شاہ زیب جیلانی نے یہ لکھا: ’’کئی سو بچے اب بھی وہاں کے شاہین اسکول کالج کی گر جانے والی عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے ہوئے تھے اور کچھ تو اپنے والدین کو کراہتی آوازوں میں مدد کے لئے بھی پکارتے سُنائی دیے۔‘‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے صحافیوں نے جو رپورٹیں بھیجی ہیں ان سے لگتا ہے کہ مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں بلاک ہوگئی ہیں، امدادی کارکنوں کو متاثرین تک پہنچنے میں کامیابی نہیں مل رہی ہے، بعض مقامات پر گاؤں کے گاؤں بہہ گئے ہیں، صوبہ سرحد کے سینیئر وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ صوبے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ملبے سے لوگوں کو نکالنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مقامی صحافیوں نے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کو بتایا ہے کہ باغ کے علاقے میں واقع اسکولوں اور کالجوں کے ملبوں میں طلباء اور طالبات دبے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی کے والدین اپنے گھروں کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ راولا کوٹ سے صحافی شکیل چودھری نے اطلاع دی ہے کہ پانچ منزلہ جناح میڈیکل کمپلیکس کی عمارت زمین بوس ہے اور تاحال لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ بےبسی کا عالم یہ ہے کہ ملبے کے تلے دبے ہوئے یہ لوگ زندگی اور موت کے درمیان ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ ایبٹ آباد میں پچاس فیصد مکانات تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ مانسہرہ، بٹ گرام، مظفر آباد، بالا کوٹ اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں ستر فیصد کے قریب مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کابینہ نے پانچ ارب روپے مختص کیے ہیں اور ہلاک ہونے والے ہر شخص کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی ہونے والے کے لیے پچاس ہزار روپے کی امداد دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی علاقوں کا مواصلاتی نظام منقطع ہے اور ان علاقوں میں حکومت دو سو سیٹلائیٹ پبلک کال آفس قائم کر رہی ہے تاکہ وہاں رابطہ بحال ہوسکے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کمیونیکیشن منسٹر طارق فاروق نے بتایا ہے کہ صرف اسی علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد تیس ہزار ہوسکتی ہے۔ سنیچر کے روز آنیوالے زلزلے کا مرکز مظفرآباد کے قریب کی پہاڑیوں میں تھا۔ زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں مانسہرہ کے قریب دو اسکولوں کے گرنے سے ہلاک ہونے والی چار سو طالبات ہیں اور لگ بھگ دو سو پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد چھ سو سے زائد بتائی ہے، جبکہ تین سو سے زائد لاشیں صرف ایک شہر سے نکالی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد چھ سو سے زائد ہوسکتی ہے۔ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور حکومت امداد پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے پاس اڑی شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔

پاکستانی صدر جنرل مشرف کی اپیل پر کئی ملکوں نے امداد بھیجنی شروع کردی ہے۔ امریکہ نے آٹھ ملٹری ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو امید کی جارہی ہے کہ پیر کے روز پاکستان پہنچ سکیں گے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر مشرف کو امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ برطانیہ، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ اور دیگر کئی ممالک نے امداد روانہ کردی ہے۔

مظفرآباد سے بی بی سی نیوز کے صحافی عامر احمد خان نے لکھا ہے کہ ’مظفرآباد میں اگر کوئی چیز زندہ ہے تو وہ امید ہے۔‘ شاید باقی متاثرہ علاقوں میں بھی یہی احساسات ہوں۔۔۔۔


66موت سے شروع۔۔۔
موت پر ختم: مظفرآباد سے عامر احمد خان کی رپورٹ
66زلزلہ اور عالمی میڈیا
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور پاکستان میں زلزلہ
66بالاکوٹ سے رپورٹ
ایک المیہ، جب میں نے صحافت چھوڑ دی۔۔۔۔
مظفرآْباد سے۔۔۔
چہروں پر خوف و ہراس، بےبسی، تباہی کے مناظر
66زندہ ہیں،کیسے نکالیں
زلزلے کی تباہی پر بی بی سی رپورٹروں کی ڈائری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد