’طبی ٹیمیں مظفر آباد جا رہی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر صحت نصیر خان نے کہا ہے کہ مظفر آباد میں کراچی سے جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں کی دس طبی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں اور پنجاب سے بھی ڈاکٹر آرہے ہیں جنہیں مانسہرہ اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقوں میں بھیجا رہا ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے اس سوال پر کہ زخمیوں کی نوعیت کیا ہے انہوں نے کہا کہ زیادہ تر زخمیوں کو فریکچر ہیں کچھ لوگوں کےسروں میں چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کو 26 ہیلی کاپٹر چکلالہ ائر بیس سے ان متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے تھے جو واپسی پر زخمیوں سے بھرے ہوئے آتے تھے۔ نصیر خان نے بتایا کہ اسلام آباد میں چھ سو بیڈ اور روالپنڈی میں تین سو بیڈ کے عارضی ہسپتال بنائے گئے تھے۔ ایک سو پچیس زخمی اتوار کو آئے اور کل دو پچاس زخمی لائے گئے۔ کتنے متاثرہ علاقے میں ادوایات اور امدادی سامان پہنچانے میں کامیابی ہوئی کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اتوار کو پچاس فیصد علاقہ کور کیا گیا کیونکہ موسم بھی اچھا تھا کل موسم خراب تھا جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کا آنا جانا مشکل ہو جاتا ہے اس کے علاوہ مانسہرہ سے مظفر آباد تک سٹرکیں بھی کھل جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو کابینہ کی میٹنگ بھی ہوئی تھی اور پیر سے امدادی قافلے متاثرہ علاقوں میں بھیجے جانے شروع ہو جائیں گے۔ امدای سامان ٹرکوں سے بھیجا جائےگا کیونکہ ہیلی کاپٹروں میں محدود سامان لے جایا جا سکتا ہے۔ وہاں ہسپتال بھی تباہ ہو گئے ہیں اور عارضی ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ باہر سے کتنی طبی امداد مل رہی ہے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’ہم کمبل، ادویات اور خیموں کی درخواست کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی سے امدادی سامان آیا ہے۔ برطانیہ سے سرچ ٹیمیں آئی تھیں۔ پریذیڈنٹ کے فنڈ میں بھی عطیات آرہے ہیں جس سے چیزیں خرید جا سکتی ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||