بالاکوٹ: لوگ ملبے میں، امداد نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقے بالاکوٹ میں زلزلے سے شدید تباہی ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ صرف اس تحصیل میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں ابھی تک حکومت یا فوج کی کوئی بھی امدادی ٹیم نہیں پہنچی ہے اور زلزلے سے بچ جانے والے مقامی لوگ ہی وہاں لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔ بالاکوٹ تک جانے والی مرکزی شاہراہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے اور متبادل راستے کے طور پر حسہ کے پل سے گردو نواح کے لوگ بالا کوٹ امداد کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس علاقے میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ بالا کوٹ سے کچھ دور پہلے سے ہی اس علاقے میں تباہی کے آوار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے مانسہرہ جانے والی شاہراہ پر ایبٹ آباد میں چند پلازے اور عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سفیر کے مطابق صرف ایبٹ آباد میں زلزلے سے بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ڈھائی سو کے قریب افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے۔ان کے مطابق ہسپتال کے سامنے زمین بوس ہونے والے پلازے سے ابھی تک لاشیں نہیں نکالی جا سکی ہیں۔ جبکہ مانسہرہ میں آّٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور چار سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گڑھی حبیب اللہ میں لڑکیوں کے ایک سکول کی عمارت زمین بوس ہونے سے تین سو لڑکیوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہے جبکہ مانسہرہ سے ملحقہ گاؤں بٹل میں بھی ایک سکول کی عمارت گرنے سے پچاس بچوں کی ہلاکت بتائی جا رہی ہے۔ادھر بٹگرام سے بھی بڑے پیمانے پر تباہ کاری کی اطلاعات ملی ہیں۔ مگر بالا کوٹ میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دس سے زائد سکولوں کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے اور دو ہزار سے زائد بچوں میں سے ابھی تک بہت ہی کم تعداد میں بچوں کو باہر نکالا گیا ہے۔اس کے علاوہ بہت سے افراد مکانوں کے ملبے کے نیچے یا تو دم توز چکے ہیں یا شدید زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور کسی امدادی کام کے نہ ہونے کی وجہ سے باہر نکالے جانے والے زخمیوں میں سے بھی بہت سے لوگ دم توز چکے ہیں۔ حسہ کے پل سے کچھ کلومیٹر چلنے کے بعد جب مقامی لوگ وہاں پہنچے تو شاہین پرائیویٹ سکول کی تین منزلہ عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی ہے اور وہاں چند خواتین اندر پھنسے ہوئے بچوں کے بچنے کی آس میں مقامی افراد کے ساتھ بچوں کو بحفاظت نکالنے کی آخری کوشش کر رہی تھیں۔ مقامی ٹیچر جنید جو دن بھر سے لوگوں کو بچانے کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ علاقے میں کام کر رہے تھے انہوں نے مجھے سارے علاقے کے مسمار شدہ گھروں کی جگہ اپنے پیاروں کو روتے لوگوں سے ملوایا جو غمزدہ تو تھے ہی مگر حکومت کی طرف سے کسی قسم کی امدادنہ ملنے پر غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔ علاقے میں چند خیمے بھی نظر آئے جن میں زخمی خواتین اور مرنے والوں کی لاشیں رکھی ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||