مہرے ہلے کہ زمین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج صبح جب ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ پانچ درجہ کا بھونچال آیا تو کئی سیکنڈز تک تو میں یہی سمجھتا رہا کہ میری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں سرسراہٹ ہورہی ہے۔ میں ناشتہ کرکے اپنے ڈرائنگ روم کے قالین پر لیٹا تھا جہاں میرا دو سال کا بیٹا اصغر مجھ پر اچھل کود میں مصروف تھا۔ وہ اپنی تین پہیوں کی سائیکل لے کر دوڑا تو میں نے قالین پر اپنی کمر کو سونت کر سیدھا کیا۔ جب میری کمر قالین سے لگی تو مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں خاصی سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ میں سمجھا کہ میرے لمبر اسپائن کے جو دو مہرے سلپ ہوچکے ہیں ان سے شائد کوئی لہریں نکل رہی ہیں کیونکہ میرے بیٹے نے مجھ پر خاصی اچھل کود کی ہے۔ میں چند سیکنڈز تک اپنی ریڑھ کی ہڈی کے حوالے سے ہی اس سرسراہٹ پر سوچتا رہا لیکن جب یہ مسلسل جاری رہی اور سرسراہٹ کی شدت بڑھتی گئی تو مجھے خیال ہوا کہ یہ زلزلہ ہوسکتا ہے۔ میری نگاہ فورا کمرے میں لگے وال کلاک کی طرف مڑی جس میں آٹھ بج کر چون منٹ ہوئے تھے۔ شائد یہ کلاک صحیح وقت سے ایک منٹ آگے پیچھے ہے۔ زلزلہ کا خیال آتے ہی میرے ذہن میں انیس سو پچاسی کا زلزلہ آجاتا ہے جب نے اپنی زندگی کی پہلی نوکری اشفاق احمد کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارہ اردو سائنس بورڈ میں کی تھی۔اپر مال پر واقع اس عمارت کے بڑے سے ہال میں کام کرتے ہوئے زندگی میں پہلی بار مجھے زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے تھے۔ وہ بھونچال اتنا شدید تھا کہ اردو سائنس بورڈ کی پوری عمارت لرز رہی تھی۔ اس سے پہلے میں نے زلزلہ کا ذکر صرف کتابوں میں پڑھا تھا۔ لاہور میں گزشتہ بیس سال کے دوران میں کم سے کم چار بار زلزلہ آیا ہے جسے میں نے محسوس کیا۔ ہر بار اس زلزلہ کا دورانیہ ڈیڑھ دو منٹ سے زیادہ کا نہیں ہوا اور اس شہر میں زلزلہ کے نتیجہ میں کبھی کوئی بڑا جانی نقصان میں نے نہیں دیکھا۔ نہ عمارتوں کو خاص نقصان ہوتا ہے۔ آج بھی جب زلزلہ آرہا تھا تو ابتدائی سرسراہٹ سے بڑھ کر میرے بالائی منزل پر واقع مکان کی دیواریں کانپنے لگیں۔ میرے پاس بیٹھی میری بیوی خوف سے کانپتے ہوئے یااللہ یااللہ پکارنے لگی۔ ہماری بُوا جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے اونچی آواز میں کہا کہ اصغر کو پکڑ لو جو شائد اس کے لیے زلزلہ سے سنبھلنے سے زیادہ مشکل کام تھا۔ اصغر خاموش تھا اور حیرت سے ہلتی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہا تھا۔ میں اپنی بیوی کو تسلی دینے لگا کہ گھبراؤ مت یہ ابھی ٹھیک ہوجائے گا گو جب دیواریں ایک منٹ سے زیادہ تک آگے پیچھے جھولتی رہیں تو میرے دل میں بھی خوف پیدا ہوا کہ شائد اس بار لاہور میں بھی ایسا بڑا زلزلہ آگیا ہے جس سے بہت تباہی مچتی ہے اور جیسا ایران اور جاپان کے شہروں میں ہوچکا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ سب لوگوں کو لے کر مکان سے باہر صحن میں نکلوں یا نہیں کیونکہ اب تو زلزلہ اتنا شدید ہے کہ بالائی منزل کا صحن بھی محفوظ جگہ نہیں۔ایک لمحہ کے لیے میرے دل میں خیال آیا کہ مرنے کے لیے یہ بھی کوئی عمر ہے، ابھی تو میں صرف اڑتیس سال کا ہوں۔ مجھے اپنے گناہ گار ہونے کا خیال بھی آیا۔ اللہ اللہ کرکے ڈیڑھ دو منٹ بعد زلزلہ ختم ہوگیا اور میں نے اپنی بیوی سے فاتحانہ انداز سے اور صحافیانہ کم ظرفی سے کہا کہ لو یہ ختم ہوگیا، میں نے کہا تھا کہ لاہور میں ایسا ہی زلزلہ آتا ہے (جیسے اسے ختم کرانے میں میرا کوئی اہم کردار ہو) ۔ اگلے ہی لمحے میں اپنے سیلولر فون کی جانب لپکا جو چارجر پر لگا تھا۔میں نے لندن میں بش ہاؤس کا نمبر ملایا۔ میں اس خبر کو بریک کرنا چاہتا تھا، آن لائن کے ڈیسک سے طفیل احمد کی آواز آئی۔ میں نے انہیں کہا کہ لاہور میں آج صبح آٹھ بج کر چون منٹ پر ڈیڑھ منٹ سے زیادہ تک زلزلہ کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پندرہ منٹ طفیل صاحب کا فون آیا کہ زلزلہ کے جھٹکے بھارت اور پاکستان کے وسیع علاقوں میں محسوس کیے گئے ہیں۔ گویا بات میری کمر کے مہروں سے کہیں آگے کی تھی۔ یہ تو جنوبی ایشا کے پورے شمالی علاقہ کے مہرے سلپ ہورہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||