BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 October, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں
بالا کوٹ
بالا کوٹ میں حکومت نے کوئی مدد نہیں پہنچائی ہے۔
صوبہ سرحد کے علاقے بالا کوٹ میں زلزلے سےآنے والی تباہی کے بعد حکومتی مدد نہ پہنچے پر لوگوں نے فوج کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے شاہ زیب جیلانی اور مبشر زیدی اس وقت بالا کوٹ میں موجود ہیں انہوں نے بتایا کہ حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ بالا کوٹ کا شہر تباہ ہو گیا لوگ اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

شاہ زیب جیلانی کی رپورٹ: جب ہم اسلام آباد سے آیبٹ آباد اور مانسہرہ سے ہوتے ہوئے بالا کوٹ پہنچے تو ہر طرف روتے ہوئے بچے اور عورتیں دکھائی دیں۔ لوگ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔لوگ سخت گھبرآئے ہوئے ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ڈیڑھ دن گزرنے کے باوجود کئی عمارتیں ابھی ایسی ہیں جہاں اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو نکالا نہیں جا سکا ہے۔ شہر کی تقریباً تمام عمارتیں گر چکی ہیں۔

ہمارے سامنے فوج کے کچھ جوان نظر آئے تو لوگوں نے ان کو روک کر مدد کرنے کی درخواست دی لیکن انہوں نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا کہ ان کو آگے جانے کا حکم ہے۔

ہمارے سامنے فوج کے کچھ جوان نظر آئے تو لوگوں نے ان کو روک کر مدد کرنے کی درخواست دی لیکن انہوں نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا کہ ان کو آگے جانے کا حکم ہے۔

گرنے والی عمارتوں میں اکثر سکول اور کالج کی ہیں۔ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت بچے سکول میں پہنچ چکے تھے اور ان کا سب سے زیادہ نقصان ہوا۔

میں اس وقت شاہین سکول اور کالج کی عمارت کےسامنے کھڑا ہوں ۔ اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی ہوئی یہ عمارت بلکل تباہ ہو گئی ہے اور اس میں ابھی بھی زندہ بچے پھنسے ہوئے ہوئے ہیں۔ بچوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور ان کے والدین ان کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں

ہمارے سامنے ایک دس سال سے کے بچے کو ملبے سے نکالا گیا ہے۔ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے آئے ہوئے رضا کار لوگ ملبے کے نیچے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فوجیوں کی طرف سے مدد نہ کرنے پر وہاں حالات کشیدہ ہو گئے اور لوگوں نے فوج کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر اوپر سے دیکھ کر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی مدد کو نہیں آ رہے ہیں۔

فوج کی علاقے میں بظاہر موجودگی ہے لیکن ان کا کوئی ذمہ دار آفیسر وہاں موجود نہیں ہے۔ لوگوں نے فوج کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب اسلام آباد میں بلڈنگ گرتی ہے تو وہاں صدر مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پہنچ گئے لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا۔
۔

مبشر زیدی: جب میں کل اسلام رات یہاں پہنچا تو یہاں حالات بہت ہی خراب تھے اور لوگ بے یارو مدد گار ہیں۔ حکومت کا کوئی نمائندہ ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا ہے۔ لوگوں میں فوج کے خلاف سخت نفرت ہے اور انہوں نے فوجیوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی ہے۔

شہر کے تین مختلف سکولوں میں ایک ہزار سے زیادہ بچے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ادکا دکا فوجی نظر آ رہے ہیں لیکن وہ لوگوں کی مدد نہیں کر رہے ہیں ان کا کہنا ہےکہ ان کو آگے جانے کی ہدایت ہے۔

حکومت کا کوئی نمائندہ نظر نہیں آ رہا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ بٹ گرام شہر کا اسی فیصد بلکل تباہ ہو گیا ہے۔

اینڈریو نارتھ نے بالا کوٹ سےخبر دی ہے کہ حکومت کی طرف امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سےعلاقے سے ہجرت شروع کر دی ہے ۔

ابھی یہ اندازہ لگانا کہ بالا کوٹ میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں ممکن نہیں ہے لیکن مجھ بتایا گیا ہے کہ بالا کوٹ میں موت نے ہر خاندان کے گھر پر دستک دی ہے۔

لوگ اپنے زخمی عزیروں کو چارپائیوں پر ڈال کر ہسپتالوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

بالا کوٹ کو جانے والی سڑک کے دونوں طرف لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

حکام نے سڑک کو صاف کرنے شروع کر دیا ہے لیکن ابھی تک لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی جا سکی ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ اب بھی لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ان کو بتایا گیا ہے کہ لوگ اب بھی زندہ ہیں۔ ابھی تک یہ کہنا ممکمن نہیں کہ

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد