ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں: وزیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے سینئر وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ مانسہرہ، بٹ گام، کوہستان، شنگلہ، ایبٹ آباد، اور بالا کوٹ مرنے والوں کی تعداد سات ہزار پانچ سو تک پہنچ سکتی ہے۔ بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اتوار کو صرف چھ سو لاشیں مانسہرہ کے آس پاس کے دیہاتوں سے نکالی گئی ہیں جبکہ پانچ ہزار زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے میں دبے ہوئے افراد کو نکالنے اور تمام مسائل پر قابو پانے میں ایک ہفتہ لگے گا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک سو پچاس ملین روپے کی رقم کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چار ہزار پولیس اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں پچیس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔ بازار سے انہیں مطلوبہ تعداد میں خیمے نہیں مل سکے ہیں صرف تین ہزار مل سکے ہیں جو ناکافی ہیں اور اب وہ لاہور اور کراچی سے خمیے منگوائیں گے۔ صوبہ کے آئی جی پی رفعت پاشا، جواس وقت زلزلے سے متاثرہ علاقے میں موجود ہیں، کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ لاشیں ابھی بھی ملبے سے نکالی جا رہی ہیں۔ سنیچر کی رات کو ہونے والی بارش نے امدای کارروائیوں کو متاثر کیا لیکن اب دوبارہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ ہیلی کاپٹر مانسہرہ میں امدای کارروائیوں میں مصروف ہیں اور طبی ٹیمیں لوگوں کی مدد کو پہنچ چکی ہیں۔ رفعت پاشانے بتایا کہ بشام، بالا کوٹ اور گڑھی حبیب اللہ میں سڑکیں بند ہیں جس کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف سکیریٹری نے ایک سو پچاس ملین روپے کی رقم کا اعلان کیا ہے اور ضلعی رابطہ افسروں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اس میں سے دو ملین کی رقم اپنی صوبیداد پر استعمال کرسکتے ہیں۔ پشاور میں قائم پولیس کنٹرول سینٹر نے کہا ہے کہ چھتیس طالب علم لڑکیوں کی لاشیں گڑھی حبیب اللہ سے نکالی جا چکی ہیں جبکہ چودہ ابھی بھی ملبے میں دبی ہوئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||