بیس ہزار ہلاک، ملبے تلےزندہ لوگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرداخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح آنے والے شدید زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19,400 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بیالیس ہزار ہوچکی ہے اور ان کے مطابق اس میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی جگہوں پر ہزاروں لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور ان کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اتوار کو وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک میں تین روزہ سوگ منانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کابینہ نے پانچ ارب روپے مختص کیے ہیں اور ہلاک ہونے والے ہر شخص کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی ہونے والے کے لیے پچاس ہزار روپے کی امداد دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی علاقوں کا مواصلاتی نظام منقطع ہے اور ان علاقوں میں حکومت دو سو سیٹلائیٹ پبلک کال آفس قائم کر رہی ہے تاکہ وہاں رابطہ بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں پچاس فیصد مکانات تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ مانسہرہ، بٹ گرام، مظفر آباد، بالا کوٹ اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں ستر فیصد کے قریب مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ جن علاقوں میں زمینی رابطہ ختم ہوچکا ہے وہاں ہیلی کاپٹروں اور سی ون تھرٹی طیاروں سے پکا ہوا کھانا گرایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق انتیس ہیلی کاپٹر اور C 130 طیارے امدادی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گڑھی حبیب اللہ اور مظفر آباد تک سڑک چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بحال ہوگئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کوہالہ سے مظفرآباد تک سڑک پندرہ کلومیٹر تک تباہ ہے اور اس کی بحالی میں کچھ دن لگیں گے۔ ان کے مطابق بالا کوٹ سے کاغان اور کاغان سے ناران تک تباہ حال سڑک کی بحالی کا کام شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بٹل چنار روڈ بھی فی الحال بند ہے۔ لیکن ان کے مطابق مری سے کوہالہ تک سڑک کھلی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق ساٹھ سے زیادہ اراکین پر مشتمل کابینہ کے تمام اراکین نے ایک ماہ کی تنخواہ زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے تمام وزراء کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو میں آنے تک ہر روز کابینہ کا اجلاس صبح دس بجے ہوا کرے گا۔ ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا اتوار کے روز دورہ بھی کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ افراد کے ورثا کو فوری ویزہ جاری کیا جائے اور پی آئی اے سے خصوصی پروازیں چلانے کو بھی کہا ہے۔
اس موقع پر آفتاب احمد خان شیرپاو نے برطانیہ، روس، فرانس، چین، جاپان اور دیگر ممالک سے آنے والی امدادی اشیاء، تربییت یافتہ کتوں، ماہرین اور آلات کی تفصیل بھی بتائی اور ان ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ادھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر مواصلات و تعمیرات طارق فاروق نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ صرف کشمیر میں تیس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ مظفر آباد مظفر آباد سے پچیس میل دور جنوب مشرق میں باغ کا علاقہ اور بھی زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس شہر میں صرف چند عمارتیں ہیں جو باقی بچیں ہیں اور پورا شہر تباہ ہو چکا ہے۔ بالا کوٹ
بالاکوٹ تک جانے والی مرکزی شاہراہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے اور متبادل راستے کے طور پر حسہ کے پل سے گردو نواح کے لوگ بالا کوٹ امداد کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس علاقے میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ بالا کوٹ سے کچھ دور پہلے سے ہی اس علاقے میں تباہی کے آوار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے مانسہرہ جانے والی شاہراہ پر ایبٹ آباد میں چند پلازے اور عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ جموں و کشمیر ایک فوجی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرنے والوں میں فوج کے انتالیس جوان ہیں جبکہ تقریبا نوے فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||