BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 October, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہاڑ کٹ کر گر رہے تھے‘

زلزلہ
جب زلزلہ شروع ہوا اس وقت میں دفتر میں ہی تھا۔ شدید جھٹکے محسوس ہونے لگے تو آفس سے آہستہ آہستے باہر نکلے۔ باہر سارے لوگ عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آگئے تھے۔ سامنے دیکھا تو پہاڑ کٹ کر نیچے گرنے لگے تھے اور مٹی کے تودے گرنے شروع ہو گئے تھے۔ سب کچھ سیاہ ہو گیا تھا، اتنے تودے گر رہے تھے۔ اب تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ سب پہاڑ کے قریب گاؤں میں ہوا۔ شاید وہاں جانی نقصان ہوا ہو۔ مگر اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

یہاں پر ایک ستارہ ڈیم سائٹ پر کام ہو رہا تھا۔ اس میں پہلے ہی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، وہاں پر بہت تودے گرے اور پورا علاقہ تاریک ہو گیا تھا۔ بعد میں وہاں سے ہمارے کچھ دوستوں نے بتایا کہ وہاں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

آخری بار تین بج کر تریپن منٹ پر ہلکے جھٹکے پھر سے محسوس ہوئے تھے۔ تب سے خاموشی ہی ہے اور اب تک کسی جانی نقصان کا کچھ نہیں پتہ۔ اب تک یہاں سکردو شہر میں کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا ہے، بس پہاڑوں سے تودے گرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ اب تک شہر کے باہر کے حالات کے بارے میں کوئی واضح اطلاعات نہیں ہیں۔



اشرف حسین سکردو میں ایک انٹرنیٹ کیفے میں کام کرتے ہیں۔ زلزلے کے وقت وہ دفتر میں تھے۔ یہ ان کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔

آپ کی ای میل

جاوید خان، راولپنڈی، پاکستان

میں ایلیکٹرونک میڈیا کے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس مشکل وقت میں ان کا رویہ قابل اعتراض ہے۔ پی ٹی وی اور ایے ٹی وے کے علاوہ بیشتر ٹیلی ون چینل ڈرامے، گانے اور اینٹرٹینمنٹ شوز نشر کر رہے ہیں جو کہ ایس قومی سانحے اور تباہی کے موقع پر بالکل مناصب نہیں ہے۔ کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو؟

ارسلان خان، پشاور، پاکستان

میں پشاور کے ایڈورڈز کالج میں باسکٹ بال کھیل رہا تھا جب زلزلہ آیا۔ ایک دم سے ایسا لگا جیسے ہمارے زمین سامنے جھول رہی ہو۔ میں بیٹھ گیا۔ سارے سٹوڈنٹس کلاسوں سے باہر نکل آئے۔ ہم سب خوفزدہ تھے۔ یہ جھٹکے کوئی دو منٹ چلے اور اس کے کوئی پانچ چھ منٹ بعد پھر جھٹکا ہوا۔

عابد علی شیخ، سکھر، پاکستان

جتنا امدادی کام کیا جانا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی زلزلے سے لوگ پیسہ بنائیں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد