BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 October, 2005, 22:05 GMT 03:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاید فوج کے بس میں بھی نہیں

ایسے وقت میں، جن کا کوئی نہ رہا۔۔۔
ایسے وقت میں، جن کا کوئی نہ رہا۔۔۔
جب میں مظفر آباد پہنچا تو اس وقت تباہ کن زلزلے کو آئے ہوئے چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ایک ملبے کے ڈھیر کے پاس جمع ہے۔ ان میں سے کچھ تو کھدائی کر رہے ہیں جبکہ باقی پاس پریشان کھڑے ہیں۔ ’کیا کوئی دبا ہوا ہے‘، میں نے پوچھا، ہاں کم از چار لوگ زندہ دفن ہیں۔

ان میں ایک شخص ملبے میں دبے ہوئے شخص کو دکھانے کے لیے مجھے نیچے کھینچتا ہے۔ ’تم اس کو سن سکتے ہو، ان میں دو اب بھی بول رہے ہیں جبکہ دو نے بولنا بند کر دیا ہے۔ شاید ان میں اب بولنے کی طاقت نہیں رہی ہے یا شاید ۔۔۔ ان میں کوئی شخص بھی موت کا نام نہیں لینا چاہتا ہے۔

یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد ہے۔ مظفر آباد میں اگر کوئی چیز زندہ ہے تو وہ امید ہے۔

مظفر آباد سے ہزاروں لوگ پہلے ہی ہجرت کر گئے ہیں اور جو رہ گئے وہ بھی وہاں سے جانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ جوان، بوڑھے، بچے سب گھر میں بچی کھچی چیزوں کی پوٹلیاں باندھے علاقے سے نکلنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔

لوگ میرا کیمرہ دیکھ میری طرف بھاگے چلے آتے ہیں۔ ہر کسی کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی ہے۔ لیکن یہ کہانیاں موت سے شروع ہوتی ہیں اور موت پر ہی ختم ہوتی ہیں۔

مظفر آباد کے نزدیک ایک بوڑھا جوڑا سڑک کے کنارے بیٹھا ہے۔ ان کو اپنے اردگرد ہونے والے حالات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، شاید وہ تھک چکے ہیں۔ان کو دیکھ کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنا سب کچھ گنوا چکے ہیں اور ان کے پاس اور کچھ گنوانے کے رہ نہیں گیا ہے۔

مجھے دلاور خان بھی وہیں پھرتا نظر آتا ہے۔ چوبیس گھنٹے پہلے دلاور خان کا کپڑے کی دکان گاہکوں سے بھری ہوئی تھی جہاں وہ باہر کا کپڑا بیچتا تھا۔ دلاور خان مانسہرہ کا رہنے والا ہے اور کاروبار کی غرض سے مظفر آباد میں آباد تھا۔

دلاور خان اپنے دو بچوں کو زلزلے سے تو نہ بچا نہ سکا لیکن اب وہ ان کو اپنے آبائی علاقے میں باعزت طور پر دفن کرنا چاہتا ہےلیکن کوئی اس کے بچوں کو مانسہرہ لے جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ گاڑی والوں کی منتیں کرتا نظر آتا ہے لیکن کوئی اس کی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

وہاں لوگ حکومت کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔’یہ لوگ ہمیں پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں‘ ایک ناراض نوجوان نے چلا کر کہا۔ فوج نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان میں دو درجن وفاقی وزیر اور فوج کے ترجمان دنیاکو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک بڑی امدادی کارروائی شروع کی جاچکی ہے۔

وہ شاید خوش قسمت ہیں کہ سڑکوں کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور ان کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج اس بڑے پیمانے پر تباہی کا تن تنہا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ مظفر آباد کا تمام نظام تباہ ہو چکا ہے۔ ٹیلی فون، بجلی پانی اور کھانا دستیاب نہیں ہے، ادویات مل نہیں رہی ہیں۔

شہر کا مرکزی بازار مکمل تباہ ہو چکا ہے اور شاید ہی کوئی عمارت مکمل طور پر نہیں بچی ہے۔

ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھ کے زلزلے کے بعد کم طاقت والے زلزلے آ رہے تھے۔اس صورت حال سے پریشان حال ملبے کے ڈھیروں میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ یہ ملبے کے ڈھیر دو دن پہلے تک ان کے گھر تھے۔

فوج دور دراز کے علاقوں میں جہاں سڑکوں کے ذریعے جانا ممکن نہیں رہا ہے، ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کھانا اور ادویات گرانے پر توجہ دے رہی ہے۔

شاید وہ سمجھتے ہیں کہ مظفر آباد میں ابھی بھی اتنے لوگ زندہ ہیں جو بچ جانے والوں اور اپنے آپ کو سنھبال سکتے ہیں۔

رضا کاروں کے پاس سازوسامان کی کمی ہے لیکن جذبے کی نہیں۔ وہ بھوکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس وقت مصیبت میں گھرے ان لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ کچھ مرنے والوں کو دفنانے کے لیےقبریں کھودنے میں مصروف ہیں۔ تیس گھنٹے گزرنے کے باوجود لاشیں ابھی بھی چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ ہر شخص حکومت کےخراب رویے کی شکایت کر رہا ہے۔ تباہی ہر جگہ بکھری ہوئی ہے۔

ہر کوئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ شاید یہ سب کچھ غصے اور غم کا نتیجہ ہے۔ اس صورتحال میں ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، شاید ناکامی ہے۔

مظفرآْباد سے۔۔۔
چہروں پر خوف و ہراس، بےبسی، تباہی کے مناظر
66اپنی مدد آپ
مقامی لوگ ہی ملبےمیں دبے افراد کونکال رہے تھے
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
66جھٹکے کابل تا دِلّی
زلزلہ: شہر شہر تباہی کیسے ہوئی؟
66زندہ ہیں،کیسے نکالیں
زلزلے کی تباہی پر بی بی سی رپورٹروں کی ڈائری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد