BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 October, 2005, 00:54 GMT 05:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں زلزلہ اور عالمی میڈیا

بڑے بڑے اداروں کیلئے بھی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچنا مشکل ہورہا ہے
ہفتے کےروز پاکستان میں آنے والے شدید ترین زلزلے نے ملک کے شمالی علاقوں اور پاکستان کےزیر انتظام کشمیر کے شہروں میں جو تباہی مچائی ہے عالمی ذرائع ابلاغ نے اس کو اپنی مسلسل نشریات میں اور اخبارات نے اپنے اولیں صفحات اور ادارتی کالموں میں نمایاں جگہ دی ہے۔ مختلف ممالک کے ٹی وی چینلوں، ریڈیو نشریات، انٹر نیٹ اور سائبر میڈیا میں زلزلے کی تباہ کاریوں کی خبرکو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

عالمی میڈیامیں بی بی سی کی ملکی اور عالمی سروس ۔ سی این این، فاکس ٹی وی، یورپی ٹی وی، سٹار ٹی وی اور متعدد دیگر تمام بڑے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائیندے اس وقت پاکستان میں اسلام آباد کے علاوہ شمالی علاقوں کے متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں جہاں سے پل پل کی خبریں دنیا بھر کو اور خاص طور پر بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو مہیا کی جارہی ہیں۔

ٹی وی چینلز اور ریڈیو کی نشریات میں خبروں کے علاوہ صورتِ حالات کا تجزیہ اور تبصرہ بھی شامل ہے اور اکثرذرائع بلاغ کے مبصرین کا کہنا ہے پاکستانی حکام نے شاید شروع میں زلزلے کی تباہ کاریوں کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا تھا اسی لیئے وہ اس پر مُصر رہے کہ پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے حلانکہ انکے پاس نہ تو ایسی مشینری موجود ہے اور نہ ہی تکنیکی صلاحیت۔

انٹر نیٹ پر شائع ہونے والے اور بازاروں میں فروخت ہونےلگ بھگ تمام اخبارات نے اپنے اولیں ایڈیشنوں اور شبینہ ضمیموں میں متاثرہ علاقوں کی صورتِ حال، کھلے آسمان کے نیچے راتیں بسر کرنے والوں کی داستانیں، امداد کی عدم دستیابی، متاثرہ لوگوں کی ناگفتہ صورت حال اور دل گرفتہ اور غم زدہ لوگوں کی حقیقی کہانیوں کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

دنیا بھر کے لگ بھگ تمام اخبارت نے اپنے صفحہ اول پر اس خبر کے ساتھ مختلف تصاویر بھی شائع کی ہیں جن سے تباہ کاریوں کی شہادت تصویر کی زبانی بھی ملتی ہے۔ ایسی تصاویر میں خاص طور پر بالاکوٹ اور مظفر آباد کے علاوہ باغ کی تباہی کے مناظر نہایت دلدوز ہیں۔

عالمی اخبارات میں واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز، ہیرلڈ ٹربیون، مارننگ نیوز، ڈیلی ٹیلی گراف، ڈیلی مرر، میکسیکو ڈیلی، خلیج ٹائمز، انڈیا ٹائمز، جاپان ٹائمز، تہران ٹائمز،گلف نیوز، ماسکو ٹائمز، یروشلم پوسٹ، ریاض ڈیلی، جکارتہ پوسٹ، دی گارڈینز، چائنہ پیپلز ڈیلی اور متعدد دیگر اخبارات شامل ہیں۔

 اسرائیل کے اخبار اسرائیل ان سائیڈر نے اپنے پہلے صفحے پر یہ سرخی لگائی ہے،، اسرائیل نے پاکستان کومشکل کی اس گھڑی میں امداد کی پیشکش کی ہے،،۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے صفحہ اول پر چار کالمی رنگین تصویر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر اُڑی میں طبی امداد کے منتظر افراد کی لگائی ہے جو کھلے میدان میں پڑے ہیں اور اس پر سرخی جمائی ہے، ’جبالا جیسےشہر میں شاہین جیسے کتنے لوگ طبی مدد کے منتظر ہیں،۔

نیویارک ٹائمز، ہیرلڈ ٹریبیون، میکسیکو ڈیلی اور خلیج ٹائمز نے اپنے صفحہ اول پر چھ کالمی سرخی جمائی ہے، ’’زلزلے سے پاکستان میں بیس ہزار افراد کی ہلاکت۔لوگ دو روز بعد بھی امداد کے منتظر ہیں،،۔

اسرائیل کے اخبار اسرائیل ان سائیڈر نے اپنے پہلے صفحے پر یہ سرخی لگائی ہے،، اسرائیل نے پاکستان کومشکل کی اس گھڑی میں امداد کی پیشکش کی ہے،،۔
یروشم پوسٹ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ انسانی ہمدردی کے ناطے اسرائیل کو پاکستان کے مصیبت زدہ عوام کی مدد کرنی چاہیئے اور ایسے واقعات کو سیاست کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیئے۔

بلجیم کے اخبار انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون کے پہلے صفحے پر ایک چار کالمی تصویر میں ایک با ریش آدمی اپنے بچے کی لاش اٹھائے ہوئے ہے اور اخبار نے سرخی لگائی ہے،،مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

بھارت کے لگ بھگ تمام بڑے اخبارات نے زلزلے کی تباہ کاریوں کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے جن میں دی ہندو، ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، دی ٹیلیگراف اور دی سٹیٹس مین شامل ہیں۔

66جھٹکے کابل تا دِلّی
زلزلہ: شہر شہر تباہی کیسے ہوئی؟
66زندہ ہیں،کیسے نکالیں
زلزلے کی تباہی پر بی بی سی رپورٹروں کی ڈائری
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد