’خدا کے لیے میرے بچے نکال دو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کا شہر باغ زلزلے سے تباہ۔۔۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں شاہ زیب جیلانی اور اعجاز مہر نے وہاں کیا دیکھا۔۔۔۔ مفصل احوال: باغ سے ایک سین میرا نام شمیم ہے۔ میرا بھتیجا یہاں دبا ہے۔ سکول میں پڑھتا ہے۔ ایک لاش نکلی ہے، ایک یہیں دبی ہوئی ہے۔ کوئی نہیں پوچھ رہا۔ کوئی نہیں ہے۔ 700 آدمی دبا ہوا ہے۔ ایک بچے کی ماں تین دن سے بھوکی پیاسی پھر رہی ہے کوئی مدد نہیں کر رہا۔ کیا فائدہ اس دنیا کا۔ دوسری متاثرہ عورت: تین دن ہو گئے کوئی نکالنے نہیں آیا۔ ادھر بیٹھے ہیں، حود پتھر اٹھاتے ہیں اور پھینکتے ہیں۔ سب کچھ چلا گیا ہے۔ بچے بھی چلے گئے ہیں اور مکان بھی کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ کوئی نہیں آیا۔ ’میرے بچے نکال دو خدا کے لیے‘۔ عورت مرد مل کر سحری سے پتھر اٹھا رہے ہیں۔ سب لوگ بھوکے پیاسے ہیں کوئی پانی دینے والا نہیں۔ فخر زمان: پوری سیونتھ کلاس دفن ہے فخر زمان میرا نام ہے۔آفیسر کالونی میں رہتا ہوں۔ یہاں کچھ بھی نہیں بچا۔ سپرنگ فیلڈ سکول کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ کل یہاں سے جب ہم نے لاشیں نکالی تو اتنی بدبو تھی کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ لڑکے اندر جاتے تھے اور باہر آ کر الٹیاں کرتے تھے۔ سپرنگ فیلڈ کی سیونتھ کلاس پوری اس بلڈنگ کے نیچے ہے۔ یہاں کوئی نکالنے نہیں آیا۔ اعجاز: کل یہاں صدر مشرف آئے تھے؟ دیکھیں جی۔ وہ آئے بریگیڈ میں۔ آپ میرا بات سنیں۔ وہ بریگیڈ میں آئے تھوڑی دیر رکے اور واپس چعلے گئے۔ رات ہم نے ان کی تقریر سنی اور وہ کہہ رہے تھےکہ وہ باغ میں لوگوں سے ملے اور وہاں کچھ نہیں ہے آپ خود دیکھ لیں یہاں کیا کچھ ہے کیا حال ہے؟ اعجاز: کیا وہ عام لوگوں سے نہیں ملے۔ عام لوگوں نے انہیں نہیں بتایا؟ فخر: ہم ہسپتال میں گئے۔ وہاں ایک میجر ہے اس نے آرمی والوں سے کہا کہ اگر کوئی سویلین آتا ہے تو اسے شوٹ کر دو۔ لڑائی ہوئی۔ یہاں پر آرمی کسی کو نہیں پوچھ رہی صرف آرمی والوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ بوائز کالج میں 1100 لڑکا امتحان دے رہا تھا 30 کی لاش نکلی ہے باقی سب وہیں ہیں۔ گرلز کالج میں پرسوں شام لائبریری میں 11 لڑکیاں تھیں۔ جب ہم وہاں گئے تو انہوں نے پانی مانگا اور کہاں کہ ہم سب زندہے ہیں ہمیں یہاں سے نکالو۔ کیسے نکالیں۔ ہم کیسے نکالتے ۔ سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ آج جب ہم وہاں گئے تو وہاں سے بدبو آ رہی تھی۔ ہمارے لوگ مرے پڑے ہیں۔ یہ باغ اور مظفرآباد میں ہوا ہے۔ ہم انشااللہ دوبارہ سٹیبلش ہوں گے۔ اس آرمی کا جنازہ نکالیں گے۔ ہم اسے یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ خدا نہ کرے جو یہاں ہوا وہ ان کے ساتھ ہو۔ ہمارا پاکستانیوں سے شکوہ ہے کہ وہاں کے لوگ یہاں پانی تک نہیں بھیج رہے۔ ان متاثرین سے بات کرنے کے بعد ہمارے نمائندے اعجاز مہر نے باغ میں امدادی کارروائیوں کے نگران کرنل خاور سے بھی بات کی۔ کرنل خاور: آرمی آج سے نہیں پہلے دن سے امدادی کارروئیاں کر رہی ہے اور آپ نے دیکھا ہو گا، محسوس کیا ہوگا کہ سول ایڈمنسٹریشن کا دور دور تک پتہ نہیں۔ جتنا بھی ریلیف کا کام ہے وہ آرمی کر رہی ہے۔ اعجاز: آرمی کے پاس وہ سازوسامان نہیں ہے۔ یہاں تو کرین نظر آ رہی ہے مگر گرلز کالج میں آرمی کے جوان خالی ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ کرنل خاور: اس قسم کے آپریشن کے لیے سپیشل ایکوئپمنٹ چاہیے ہوتا ہے بہرحال موجود وسائل کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ اعجاز: کیا اندازہ ہے کہ ابھی ملبے کے نیچے بچے دبے ہوئے ہیں؟ کرنل خاور: میں اس سلسے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تاہم لوگوں کا کہنا یہی ہے۔ اساتذہ اور مقامی حکام بھی یہی کہتے ہیں۔ سکول کا وقت تھا اور کلاسیں لگی ہوئی تھیں اس لیے بچے وہاں ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||