’ایک نسل ختم ہو گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک زلزلے سے بیس ہزار سات سو پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سینتالیس ہزار افراد زخمی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جن میں سے سینکڑوں ابھی بھی زندہ ہیں۔ حکام کے مطابق زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مرنے والوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان ہزاروں لوگوں کی گنتی نہیں ہو سکتی جو ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونیسف کے حوالے سے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ایک مکمل نسل ختم ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ای ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ ایک مکمل نسل ختم ہو گئی ہے اور مرنے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے جن میں سے زیادہ تر سکولوں کی عمارتیں منہدم ہونے سے ہلاک ہوئے۔ امدادی کارکن مظفرآباد میں بچوں کی لاشیں نکال رہے تھے مگر انہیں لینے والا کوئی نہیں کیونکہ ان کے والدین بھی مر چکے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ راولا کوٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ مظفرآباد میں ستّر فیصد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ مظفر آباد میں ایک بھی گھر ایسا نہیں جسے نقصان نہ پہنچا ہو اور نہ ہی کوئی خاندان ایسا ہے جسے تکلیف کا سامنا نہ ہو‘۔ آج صبح اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے امدادی سامان کے تئیس ٹرک روانہ کیے گئے۔ امدادی سامان میں سو خیمے، پندرہ سو سلیپنگ بیگ اور چونتیس سو کمبل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں خوراک بھی روانہ کی گئی جبکہ بالاکوٹ کے لیے بھی امدادی سامان کے نو ٹرک روانہ کیے گئے ہیں۔ آرمی اور فضائیہ کے بیس سے زائد ہیلی کاپٹر امدادی کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں لینڈنگ سٹرپ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر یہ امدادی سامان اوپر سے گرا رہے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ سڑکوں کے متعلق تازہ ترین صورتحال کے مطابق بالاکوٹ ۔ کاغان روڈ بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اس کے کھلنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کاغان اور مضافات میں زلزلے نے بڑی تباہی مچائی ہے اور زلزلے سے بچ جانے والے لوگ سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کر کے بالا کوٹ پہنچ رہے ہیں جہاں سے وہ کسی محفوظ مقام کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گڑھی حبیب اللہ ۔ مظفرآباد روڈ عام ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے جبکہ پتن ۔ چلاس روڈ ابھی تک بند ہے۔ ادھرمری ۔ کوہالہ روڈ کو بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ کوہالہ ۔ مظفرآباد روڈ کا پندرہ کلومیٹر کا حصہ مکمل تباہ ہو گیا ہے اور اس کو دوبارہ بنانے میں کافی وقت لگے گا۔ آزاد ۔ پٹن فارورڈ کہوٹہ روڈ اور کلیار ۔ راولا کوٹ روڈ بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں ہیں۔
بالاکوٹ سے بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ میں زلزلے کے قہر سے بچنے والے افراد حکام سے مزید مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اس علاقے کا تازہ ترین حال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں ایک لڑکوں کے سکول کی باقیات دیکھ رہا ہوں۔ اس عمارت کی سبز رنگ کی لوہے کی چھت ملبے کے اوپر پڑی ہوئی ہے۔ مقامی افراد خالی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔ میں نے ابھی ابھی دو لاشوں کو نکلتے دیکھا جبکہ یہاں قریب ہی بارہ مزید لاشیں نکال کر رکھی گئی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں زلزلے کے وقت کئی سو بچے موجود تھے۔ ان کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ہلاک ہو چکے ہیں۔ فضا میں لاشوں کی بو رچی ہوئی ہے۔ یہ منظر اس قصبے میں عام ہے جہاں کم از کم اسّی فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ علاقے کا بازار مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ یہاں پاکستانی فوجی تو پہنچ چکے ہیں لیکن ان کے پاس ملبہ اٹھانے کے لیے نہ تو مشینری موجود ہے اور نہ ہی متاثرین کے لیے کوئی خیمے، خوراک یا پانی۔ یہاں پہنچنے کے دو ہی ذریعے ہیں یا تو ہیلی کاپٹر سے یا پھر پیدل کیونکہ زمینی راستہ مٹی کے تودے گرنے سے بند ہے‘۔ مظفرآباد میں موجود بی بی سے کے نمائندے ظفر عباس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے تیسرے دن مظفر آباد جانے والا ایک راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اس راستے کے کھلنے کے بعد امدادی سامان کے ٹرک علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ علاقے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہر دوسرے گھر پر موت نے دستک دی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مزید کتنے لوگ ملبے تلے موجود ہیں۔ علاقے میں ایک بھی عمارت ایسی نہیں جسے زلزلے نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ان کے نیچے سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ علاقے کی قریباً تمام آبادی نے گزشتہ دو راتیں کھلے آسمان تلے گزاری ہیں۔ مقامی حکام بے بس دکھائی دیتے ہیں اور زیادہ تر جگہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اور کتنی لاشیں نکلیں گی۔
ظفر عباس کے مطابق علاقے کے لوگوں کا مزاج اب غم سے غصے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فوج نے شہر کے سٹیڈیم میں ایک عارضی ہسپتال قائم کر دیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلام آباد بھیجا جار ہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری کی امید ہے کیونکہ امداد پہنچنا شروع ہوگئی ہے لیکن مظفر آباد کے باسیوں کے لیے یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے کیونکہ امدادی کارروائیوں میں مزید دیر کی صورت میں ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی امید ختم ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||