BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 October, 2005, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کام کی رفتار پر ردًِ عمل


جنوبی ایشیا میں تاریخ کے بدترین زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان، انڈیا اور افغانستان تک پھیلنے والی اس تباہی کا زیادہ بڑا مرکز پاکستان ہے جہاں اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ہر لمحے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، شمالی علاقہ جات اور سرحد کے بہت سے علاقوں میں کئی دیہات صفحہِ ہستی سے مٹ گئے، کئی قصبوں اور شہروں میں پچاس فیصد سے زیادہ عمارتیں زمین بوس ہوئی ہیں اور رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ان میں دبی ہوئی ہے۔

صورتِ حال کا بدترین پہلو یہ ہے کہ کئی قصبے، شہر اور دیہاتوں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور فوری امداد کے ادارے یہاں تک نہیں پہنچ پائے۔ ہمیں لوگوں کے ایسے بہت سے پیغامات ملے ہیں جن میں انہوں نے امدادی کارروائیوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو بچانے کے لئے اپنی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

کیا آپ یا آپ کے عزیز ایسے کسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں کی صورتِ حال کا اب تک واضح طور پر پتہ نہ چل پایا ہو؟ کیا آپ امدادی کارروائیوں کی موجودہ رفتار سے مطمئن ہیں؟ کیا پاکستانی حکومت اور عالمی برداری کا ردًِ عمل اس پر اطمینان بخش ہے؟ اپنی رائے، تجربات اور آنکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجئے۔

میں نے کیا دیکھا

یہ فورم اب بند ہوچکاہے، آپ کی رائے نیچے درج ہے۔

صغیر چودھری، لندن، برطانیہ:
میں لندن میں ہوں۔ لیکن وطن سے ہزاروں میل دور میں اپنے ہم وطن کشمیریوں کا دکھ محسوس کرسکتا ہوں۔ نہیں محسوس کر سکتے تو پاکستانی آرمی اور حکومت۔ یہ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب کشمیری قوم مشکل میں ہے تو پاکستان کی ساری حکومت مارگلہ ٹاور میں لگی ہوئی ہے۔ کیا ان کو کشمیر میں آنے والی تباہی نظر نہیں آ رہی؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔زندگی میں پہلی بار پاکستانی پاسپورٹ پر شرم آ رہی ہے۔

سیمر خان، لاہور، پاکستان:
پلیز خدارا لوگوں کو امداد بروقت پہنچائیے۔ پلیز، پلیز، پلیز۔ حکمران ایک دن بھی ان کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے گزاریں تو شاید ان کے دکھ کا اندازہ ہو جائے۔

احمد علی، پاکستان:
کون کہتا ہے کہ پاکستانی فوج پیشہ ورانہ ہے۔ اس سانحہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ فوج کسی کام کی نہیں۔ اگر وہ پیشہ ورانہ ہوتی تو کیا پہلے ہی متاثرین کی مدد کے لیے نہیں پہنچ گئی ہوتی؟

راقب اللہ خان، پاکستان:
ان لوگوں کو دیکھ کر مجھے رونا آتا ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ موقع ملا تو مدد ضرور کریں گے۔

شوکت میر، لاہور،پاکستان:
میرے خیال میں یہ حکومت کی سراسر ناکامی ہے۔

زربس کھٹک، نوشہرہ، پاکستان:
بی بی سی سے گزارش ہے کہ وہ بلاوجہ بات کو بڑٌا چڑھا کر اور دوگلی پالیسی سے اجتناب کرے۔

عطیق الرحمان، پاکستان:
میں تمام انسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان کے لوگوں کی مدد کرے۔

نعیم سرور، سعودی عرب:
کہاں ہیں جہادی لوگ؟ یہ وقت ہے جہاد کرنے کا۔۔۔کہاں ہیں یہ مولوی؟ یہ وقت ہے جلوس نکالنے کا کشمیر کی طرف۔۔۔

دانش ملک، پاکستان:
مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں پاکستان میں حکومت کی ناکامی کی وجہ سے خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔

خواجہ، سیالکوٹ، پاکستان:
میں اپنے پروردگار سے بس یہ دعا کروں گا کہ ہر مسلمان کو جذبہ ہمت عطا کرے تاکہ ہم آزمائش کے اس وقت کا مقابلہ کر سکیں۔

رابعیہ احمد، لاہور، پاکستان:
ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے سخت صدمہ ہوا ہے اور میں ہر لمحہ اللہ سے متاثرین کے لیے دعا کر رہی ہوں۔

حق محمد، کینیڈا: میں آرمی کے کردار کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بدقسمتی سے میرے ملک پر اب بھی ایک غیر منتخب حکمران حکومت کر رہا ہے۔ اللہ انہیں بھی صحیح فیصلے کرنے کی توفیق ادا کرے۔

خان بادشاہ، مروت، پاکستان:
امدادی سامان کی تقسیم ایک صحیح طریقے سے ہونی چاہیے۔ تاکہ سامان مستحق افراد کو مل جائے۔

محمد وزیر ملک، مانسہرہ، پاکستان
حکومت بے بس ہے۔ لاپرواہ ہے۔ جنرل مشرف صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ غریب لوگوں کے مرنے سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔

حیدر، کینیڈا:
میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومت فوج پر جتنا پیسا لگا رہی ہے وہ سب ضیاع ہے، یہ پیسے عام عوام کی فلاح و بہبود اور ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے حکمتی عملی پر خرچ ہونے چاہیں۔حکومتوں نے کبھی بھی اپنی عوام کو بہترین سہولتیں نہیں پہنچائیں ہیں۔

عثمان ملک، لاہور:
اللہ میرے ملک کے لوگوں کی حفاظت کرے کیونکہ اس ملک کے حکمرانوں نے تو کچھ نہیں کرنا۔ جس ملک کے لیڈر اس طرح کے ہوں تو اس ملک کا یہی حال ہو گا۔ ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے حکمران ایسے کیوں ہیں۔

مگر افسوس
 ہم کمانڈو جنرل مشرف کو عملی طور پر متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
واصف پیرزادہ، امریکہ

واصف پیرزادہ، امریکہ:
ہم کمانڈو جنرل مشرف کو عملی طور پر متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر افسوس ہم یہ خواہش کر سکتے ہیں۔

واجہ کبیر احمد، بلجیم:
میرا تعلق راولا کوٹ سے ہے، تازہ ترین ٹیکی فونک اطلاعات کے مطابق اب تک راولا کوٹ میں کوئی بھی امدادی کام نہیں ہو رہا۔ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

عباس راؤ، انگلینڈ:
کروڑوں کے مالک صدر کے پاس دینے کے لیے صرف ایک لاکھ نکلا ہے۔

طاہر کرولی، اسلام آباد:
میرا خیال ہے کہ اکثر سمندر پار پاکستانی جنہوں نے رائے دی ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ کشمیر اور سرحد میں جس جگہ زلزلے آیا ہے وہاں پہنچنے کے تمام راستے بند ہو گئے تھے۔ اس میں کسی حکومت یا اپوزیشن کا کوئی قصور نہیں۔ پاکستان کے اندر لوگ یہ جانتے ہیں اس لیے کسی نے اعتراض نہیں کیا، حتی کہ اپوزیشن نے حکومت کی کوششوں کو پہلی دفعہ قومی اسمبلی میں سراہ ہے۔

لیاقت علی خان، پاکستان:
میرے خیال میں حکومت پاکستان پہلے چند گھنٹوں میں نقصان کا صحیح انداز نہیں لگا سکی، پاکستان ٹیلی وژن نے بھی شروع میں صرف بارہ سو لوگوں کے مرنے کی اطلاع دی۔ ہمیں تو بی بی سی اور سی این این کے ذریعے اٹھارہ ہزار لوگوں کے مرنے کی اطلاع ملی۔

آصف ملک، سعودی عرب:
بحالی کا عمل بہت سست ہے، بہت سی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ہمیں کوئی تیز کام کرنا ہو گا۔ ہمیں آدھی فوج اس طرف لگا دینی چاہیے۔

عرفان علی، گوجرہ:
مجھے پاکستان سے پیار ہے لیکن حکومت کو کچھ احساس نہیں۔ پلیز ان بھائیوں کی مدد کرو۔

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد:
جتنا جھوٹ بول کر حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہے اُتنی اگر امداد کی ہوتی تو حالات بہت بہتر ہوتے۔اب بھی جتنی امداد مل رہی ہے اگر وہ سب ٹھیک طریقے سے لوگوں تک پہنچ جائے تو لوگ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کر سکتے ہیں۔

خائستہ خان، امریکہ:
کہاں ہیں لانگ مارچ والی پارٹیاں، یہی وقت تھا لانگ مارچ کرنے کا۔ پشاور سے کشمیر تک اور کراچی سے کاغان تک۔اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے نہیں، مصیبت زدہ انسانوں کے لیے۔

محمد ارشاد خان، مردان:
میرے خیال میں حکومت اپنی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے۔ حکومت کو شروع میں تباہی کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا

مہربان خان، بلوچستان:
ہماری رائے کی آپ کے پاس کوئی قدر نہیں ہے، ہم آپ کو رائے کیوں دیں

شبیر افسر، پاکستان:
میرے خیال میں حکومت کو بروقت پتہ ہی نہیں چلا کہ زلزلے میں کتنا نقصان ہوا ہے۔ اُنہیں تو صرف مارگلہ ٹاور ہی نظر آ رہا تھا۔

امیر محمد، بلوچستان:
یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے ہمیں اس میں صبر سے کام لینا چاہیے۔ لیکن مجھے ایک چیز کا افسوس ہے کہ ہم جوہری طاقت ہیں اور ہمارے پاس میزائل ہیں۔ لیکن ہمارے پاس ایسے دنوں کے لیے کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

محمد سلیم، امریکہ:
اگر کوئی بالا کوٹ اور مظفر آباد پر حملہ کر دے تو کیا پھر بھی پاک فوج اتنا ہی وقت لگائے گی، جتنا اُس نے زلزلے سے متاثرین تک پہنچنے میں گزارا۔

علی چغتائی، پاکستان:
اس میں کوئی شک نہیں کہ امدادی کاروائی کی رفتار سست ہے لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی ملک اس طرح کی قدرتی آفت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ہمیں اللہ سے معافی مانگی چاہیے۔ حکومت اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں ہر حکومت ایسی صورت میں ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔

ریاض فاروقی، عرب امارات:
میں تین دن سے ٹی وی دیکھ رہا ہوں۔ ہر ٹی وی چینل کے نمائندے اور وہاں کے لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک اُن کے پاس امداد نہیں پہنچی۔ ناجانے امداد کہاں جا رہی ہے۔

امجد بٹ پسروری،دبئی:
پاکستان زلزلے کی وجہ سے تباہی کا شکار ہے لیکن پاکستان کے حکمران اپنی کارکردگی میڈیا پر دکھانے میں مصروف ہیں۔ وہ صرف مارگلہ ٹاور پر توجہ کرتے ہیں باقی کسی سے اُن کو کوئی سروکار نہیں۔ اللہ سے ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۔

عمران، پاکستان:
ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے، پاک فوج سے جو ہو رہا ہے کر رہی ہے اور یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ دوسری دنیا کہ سامنے اپنی حکومت کا مزاق اُڑانے کی بجائے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

معین الدین، جرمنی:
غیر ملکوں سے جتنی امداد آ رہی ہے، وہ ان غریب ملکوں سے مزاق ہے، یورپی ملکوں میں سات سے آٹھ لاکھ یورو کا ایک مکان آتا ہے جو ایک خاندان کے لیے کافی ہوتا ہے۔

نعمان افضل، پاکستان:
میں بس اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج جب پاکستان پر ایسا وقت آیا ہے تو وہ بین الاقوامی کمپنیاں کہاں ہیں جو سالانہ اربوں ڈالر کا منافع کماتی ہیں اور یہ آج سو رہی ہیں۔ یہ لوگ بس جشن بہاراں اور ویلناٹائن ڈیز پر پیسا خرچ کرتی ہیں۔

دلشاد، پاکستان:
میرے خیال میں حکومت صوبہ سرحد میں ہر کام امریکہ کے مشورے سے کرتی ہے اور اس زلزلے میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔

عاشی، پاکستان:
کسی پر تنقید یا تائید کا فیصلہ بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت اُن معصوم لوگوں کو صرف امداد اور پیار کی ضرورت ہے جو اُن تک پہنچ جانی چاہیے۔

محمد شاہد، ٹوکیو:
میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اپنے وسائل کے مطابق کام کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے پاکستانی صرف تنقید کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اتنے بڑے سانحہ سے نمٹنے کے لیے کچھ تو وقت لگتا ہے۔

احسان رؤف خان، اسلام آباد:
یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ لیکن ہمارے پاس ایسے سانحہ کو محسوس کرنے اور اس سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں۔

ادیب داد، گلگت:
وزیروں کو ہیلی کاپٹروں پر متاثر علاقوں کا دورہ کرنے کی بجائے۔ ہیلی کاپٹر امدادی کاروائیوں کے لیے استعمال کرنے چاہیں۔

پرویز بلوچ، بحرین:
زلزلے، طوفان آتے رہتے ہیں۔ ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ امداد دیر سے آتی ہے مگر آ جاتی ہے ایسے موقعوں پر صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔

شہریار منصور، ممبئی، انڈیا:
جو کچھ اس فورم پر کہا جا رہا وہ بلکل غلط نہیں ہے لیکن پاکستان حکومت کا ردعمل اگر سست ہے تو یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ مشکل بہت بڑی ہے۔ مجھے زیادہ تشویش اس بات کی کہ اب بھی لوگ کشمیری بن پختون کر سوچ رہے ہیں۔ جولائی میں جب بمبئی میں شدید بارشیں ہوئیں تھیں تو وہاں کہ لوگوں میں مذہب کا فرق بھی مٹ گیا تھا۔خیر اس وقت یہی بہتر ہے کہ سارے اختلافات کو بھلا کر ساری توجہ بحالی کے کام کی طرف کی جائے۔

افضل خان، برطانیہ:
ہم برطانیہ میں مقیم لوگ اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے مالی مدد بھیج رہے ہیں۔ میری پاکستان کے لوگوں سے گزارش ہے کہ پلیز امداد میں آنے والی رقوم کو مہنگی افتاریوں اور عید کے تحائف میں نہ خرچ کر دیں بلکہ یہ مدد متاثرین تک پہنچائیں۔

شہباز بھٹہ، اسلام آباد:
ایک گھنٹے میں ہزاروں ٹن بم برسانے والے اتحادیوں کے جہاز اس وقت کہاں ہیں؟ کیا وہ متاثرہ علاقوں میں خوراک نہیں گرا سکتے۔ کام تو ایک ہی ہے، بم گرانا یا خوراک گرانا۔

عظمت طفیل، لاہور:
حکومت کو جب پتا ہے کہ اس علاقے میں زلزلے آ سکتے ہیں تو اس سلسے میں وہ خود کو تیار کیوں نہیں کر سکی۔مثلاً سکولوں کی ایسی عمارتیں کیوں نہیں بنائی گئیں جو زلزلے سے نہ گریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ذمہ دار افراد کو پھانسی پر لٹکائے۔

شاہد خان، برسلز، بلجیم:
میرا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔ میرے شہر کا بہت برا حال ہے اور وہاں پر کوئی امدادی کارروائی نہیں ہو رہی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہاں بی بی سی کا نمائندہ بھی نہیں پہنچا۔ خدارا ان لوگوں کی مدد کریں ورنہ جو ابھی تک زندہ ہیں وہ پانی اور دوائیاں نہ ملنے کی وجہ سے مر جائیں گے۔

حکومتی اصول!
 ہماری حکومت کا تو سیدھا سا اصول ہے۔ پہلے اسلام آباد پھر پاکستان۔
وصی اللہ بھمبھرو، میر پور خاص
وصی اللہ بھمبھرو، میر پور خاص:
ہماری حکومت کا تو سیدھا سا اصول ہے۔ پہلے اسلام آباد پھر پاکستان۔

شفیع اللہ، عرب امارات:
مجھے صوبہ سرحد میں امدادی کاروائیوں کی صورتحال پر بہت افسوس ہے، خاص طور پر بالاکوٹ کے علاقے میں کیونکہ یہاں پر حکومت نے کوئی مدد نہیں پہنچائی۔ خبروں میں آیا ہے کہ شاگلہ ضلعے میں بہت تباہی ہوئی ہےلیکن ہمیں وہاں پر امدادی کارائیوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں مل رہی۔

سامعہ بلوچ، ملبورن، آسٹریلیا:
جو امداد غریب بہن بھائیوں کے لیے مل رہی ہے وہ ان تک پہنچائیں۔ پلیز، پلیز، پلیز۔

محمد خرم بھٹی، امریکہ:
حکومت جتنا کر سکتی ہے کر رہی ہے۔ ہمارے پاس اتنی مشینری نہیں ہے جتنی امریکہ کے پاس ہے لیکن اگر ہم اپنے رد عمل کا امریکہ کے ساتھ موازنہ کریں تو میں کہوں گا کہ ہم خاصا بہتر کر رہے ہیں۔ جو لوگ کام کر رہے ہیں ان پر پتھر پھینکنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہماری تنقید متاثرین کی کوئی مدد کر رہی ہے؟

مظفر حسین، راولپنڈی:
مجھ میں تو کچھ کہنے کی ہمت نہیں رہی۔ کاش میں کوئی مدد کر سکتا اپنے پاکستانی بھائیوں، بہنوں اور والدین کی۔ دعا ہے کہ خدا اس آزمائش سے ہمیں جلدی نکالے۔

عزیر احمد انصاری، بنارس، انڈیا:
حکومت کو چاہیے کہ پہلے ان لوگوں کے رہنے کا انتظام کرے جو کھلے آسمان کے نیچے سونے پر مجبور ہیں۔ سردی سے یہ لوگ دوھری مار جھیل رہے ہیں۔ ہم بنارس کے لوگ متاثرین کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

گل نور آفریدی ملک، پشاور:
جتنا ساتھ عوام نے حکومت کا دیا ہے حکومت نے عوام کے لیے اتنا نہیں کیا۔

طارق بن حسن، ایٹلانٹا، امریکہ:
میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم سب کو اکھٹا ہو کر جتنی مدد ہو سکتی ہے کریں۔

دانش خان، پاکستان:
میرے خیال میں پاکستان کے پاس اس طرح کی صورت حال کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔

عوام کا درد
 کوئی ایسا لیڈر نہیں جو عوام کا درد محسوس کر سکے۔ جو لوگ خود اپنی مرضی کے الیکشن ریزلٹ نکالنے کے ماہر ہوں انہیں عوام سے کیا لینا دینا؟
اقبال وڑائچ،گجرات

اقبال وڑائچ، گجرات:
زلزلے والے دن حکومت کے پاس پورا دن موجود تھا کہ وہ آرمی، انتظامیہ اور دنیا کو حرکت میں لاتی۔ اس ملک کا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں کوئی ایسا لیڈر نہیں جو عوام کا درد محسوس کر سکے۔ جو لوگ خود اپنی مرضی کے الیکشن ریزلٹ نکالنے کے ماہر ہوں انہیں عوام سے کیا لینا دینا؟

یوسف راشد، کینیڈا:
ہماری حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ ایمرجنسی میں ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اپنے لیے انہوں نے بلٹ پروف گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں کارگو ہیلی کاپٹر نہیں۔ ہمارے تمام لیڈروں اور ان کے مشیر قابل لعنت ہیں۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ انڈین لیڈر کس قسم کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور یہ کس قسم کی گاڑیوں میں۔ ہم ایک غریب ملک ہیں جبکہ ہمارے لیڈر عرب شہزادوں کی طرح خرچ کرتے ہیں۔

مسعود ریاض قریشی، میرپور، آزاد کشمیر:
ہمارے شہر میں بھی دو مسجدوں کے مینار گرنےسے آٹھ دس افراد ہلاک ہو گئے۔ حکومت کے پاس منصوبہ بندی نہیں۔ حکومت کے ادارے کام تو کر رہے ہیں لیکن بہت سست۔ لوگ اپنی مدد آپ کر رہے ہیں۔

کونج حسن، اندہیر:
زلزلے نے پاکستان کی ترقی کے سرکاری دعوے غلط ثابت کر دیے ہیں۔ ہمیں ایٹم بم نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بچانے والے آلات چاہئیں۔

نوشین اقبال، پاکستان:
میں تمام پاکستانیوں سے صرف یہ کہنا چاتی ہوں کہ پلیز ان بچوں کا کچھ کریں جو ملبے میں دبے چیخ رہے ہیں۔

زہرا حسین، اسلام آباد:
پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور یہاں اتنے وسائل نہیں کہ چوبیس گھنٹوں میں سب متاثرین تک پہنچ ہو سکے۔ میرا خیال ہے جتنا حکومت کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔ لوگ بھی عطیات دے رہے ہیں۔ اس موقع پر برطانیہ اور امریکہ کو چاہیے کہ ہماری مدد کرے کیونکہ یہ ممالک ہیلی کاپٹر مہیا کر سکتے ہیں۔

رمی الدین، سویڈن:
اس ضرورت کے وقت میں مسلمان ممالک کہاں ہیں۔

شہباز، کینیڈا:
انسان قدرتی آفات سے نہیں لڑ سکتا اور نہ ہی انہیں روک سکتا ہے۔ جو ہوا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ اللہ ہماری مدد فرمائے۔

شاہدہ اکرم، عرب امارات:
مانا کہ قدرتی آفات کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن حکومتی اداروں کو جتنا چاہیے وہ اتنا نہیں کر رہے۔ ہم نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ رکھا ہے جب کہ اللہ نے انسان کو دل اور دماغ کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن ہم پورے ملک کو ایدھی صاحب کے حوالے کر کے بری الزمہ ہو چکے ہیں۔

کمار فوجی، مردان:
پاکستان میں ہر روز لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دفعے زلزلے سے مرے ہیں۔

اظہر عرفان، برطانیہ:
میرا تعلق مانسہرہ سے ہے اور میں برطانیہ میں رہتا ہوں۔ شنکیاری میں ایک فوجی کیمپ ہے، مجھے نہیں پتا کہ وہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کیوں نہیں کر رہے۔ میرا خیال ہے کہ وہاں پر موجود بی بی سی کے نمائندوں کو پو چھنا چاہیے کہ اس کیمپ کے لوگ مدد کیوں نہیں کر رہے۔

سید قمر علی، اسلام آباد:
ریلیف آپریشن ابھی تک شروع نہیں ہو سکا، یہ حکومت کی بہت نا اہلی ہے۔

جمیل مقصود، برسلز، بلجیم:
کشمیر کا اسی فیصد تباہ ہو چکا ہے، امدادی کاروائیاں ناکافی ہیں کیونکہ پاکستان کے وسائل محدود ہیں۔ ہماری بین الاقوامی برادری سے اپیل ہے کہ وہ کشمیر میں براہ راست امداد بھیجے اور مقامی لوگوں کو اس میں شامل کرے۔ ہم بلجیم میں رہنے والے کشمیری بھی اس سانحے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہم یہاں پر چندہ اکھٹا کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔

ناصر اصغر،گوجرانوالہ:
اس وقت ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے، لوگوں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔پاکستان کی آرمی کو بُرا کہنے والے دیکھ لیں۔ کہ اب اُن کی مدد کون کر رہا ہے۔اگر آرمی والے پوری مدد نہیں کر رہے تو ساٹھ فیصد تو کر رہے ہیں۔ کیا جو مولوی حضرات جو حکومت کے خلاف بات کرتے ہیں کیا اُن کا کوئی آدمی آپکی مدد کرنے آیا۔

بہت کچھ جو نہیں ہوا۔۔۔
 پہلی خبر آتے ہی شوکت عزیز صاحب کو ہیلی کاپٹر میں وہاں جانا چاہیے تھا۔ آرمی انجیئرنگ کور کو اپنا فلیٹ وہاں بھیجنا چاہیے تھا۔ افغانستان میں بہت سارے امریکن اور برٹش ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہیں اُن سے مدد مانگنی چاہیے تھی۔
ڈاکٹر طاہر نقوی، انگلینڈ

ڈاکٹر طاہر نقوی، انگلینڈ:
سب سے خراب سے صورت حال یہ ہے کہ بچے ملبے میں دبے ہیں، اور لوگ بے بس ہیں۔ سامان ہے نہ ٹریننگ۔ پہلی خبر آتے ہی شوکت عزیز صاحب کو ہیلی کاپٹر میں وہاں جانا چاہیے تھا۔ آرمی انجیئرنگ کور کو اپنا فلیٹ وہاں بھیجنا چاہیے تھا۔ افغانستان میں بہت سارے امریکن اور برٹش ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہیں اُن سے مدد مانگنی چاہیے تھی۔ غرض بہت کچھ ہو سکتا تھا جو نہیں ہوا۔ مشرف صاحب کی ایس ایس جی گروپ کی ٹریننگ لگتا ہے پرانی ہو گئی ہے۔ اُنہوں نے اتنی کوشش ہی نہیں کی۔ ان سے اچھا تو میری نرس ایسے حادثے کو سنبھال سکتی ہے۔

حفیظ رحمن، نیوزی لینڈ:
پاکستان کو اس طرح کے حادثات سے نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس ایسی کوئی جدید ٹیکنالوجی ہے جس سے اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹا جا سکے۔ حتی کہ قطرینہ طوفان سے نمٹنے میں امریکہ جیسا ملک بھی ناکام ہو گیا۔ میرے خیال میں حکومت اپنی طور پر اس تبائی سے نمٹنے کی بھرپُور کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے دُعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے گناہ معاف کرے اور ہمیں اس عذاب سے بچائے۔

محمد یوسف ریاض سعودی عرب:
پاک فوج امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بہت مستعد ہے، وہ ستر ہزار فوجی اور ہیلی کاپٹر امریکن کی حفاظت کے لیے بھیج سکتے ہیں تاہم جب قوم کو ضرورت پڑی ہے تو دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔ درحقیت پاکستانی قوم کے لیے اُن کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تباہی کی صورت میں کوئی منصوبہ بندی نہیں، بچوں کے لیے کوئی مدد نہیں نا ہی کوئی ہسپتال اور متبادل سڑکیں۔ مختصر ہمارے حکمرانوں کے پاس پاکستان کے لیے کچھ نہیں۔

افتخار خان ، کویت:
شوکت سلطان، برائے مہربانی جھوٹ مت بولیں۔ اس وقت ساری دنیا پاکستان فوج کی کارکردگی کی گواہ ہے۔

سلمان معین، کینیڈا:
اس وقت سب کو صبر اور ہمت سے کام لینا ہو گا، اللہ سے دعا ہے کے اس مشکل آزمائش کا سب پاکستانی ایک ہو کر مقابلہ کریں گے۔ آمین

محمد شرجیل اکبر، کینیڈا:
ساری دنیا میں قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے کرائسس مینجمنٹ پر زور دیا جاتا ہے اور اس میں ہر ذمہ دار کی ذمہ داری کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے بہت نقصان ہوا ہے۔ خصوصاُ بالا کوٹ اور آزاد کشمیر کے علاقے تو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ خدا را اُن لوگوں کی بھرپور مدد کریں۔

اورنگزیب خان، شارجہ:
ہم پشتون اور خاص طور پر صوبہ سرحد والے پاکستانی ہی نہیں، پاکستانی صرف مہاجر اور جو اسلام آباد اور کراچی میں رہتے ہیں جو پرویز کو پرویز بھائی پُکارتے ہیں۔ سرحد میں جتنی بار مصیبتیں آئیں ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ پختونوں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ وہ پختونوں کی مدد کریں کیونکہ پاکستانی حکومت ہر مصیبت میں پختونوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ ہر مد میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

عارف قریشی، پاکستان:
میرے خیال میں یہ وقت ہم سے صبر اور استقامت کا تقاضہ کرتا ہے۔ لیکن میں نے بی بی سی اور دوسرے ریڈیو سٹشینوں پر معصوم طلبا کے ملبے تلے دبنے کی خبریں سُنیں اور انتہائی افسوس ہوا ہم راولا کوٹ میں ملبے تلے دبے ہوئے طالبعلموں کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت میں صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالی اس مشکل وقت میں ہماری مدد ضرور کرے گا۔

عاطف مرزا، آسٹریلیا:
کوئی شک نہیں کہ یہ پوری قوم کے لیے بہت مصیبت کا وقت ہے، اس وقت میں سب کو مل کر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو مصیبت میں ہیں۔ ٹی وی پر لوگوں کو جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ جو قوم باقی سارا کچھ بھلا کر ایسے وقت میں ایک ہو جاتی ہے وہ یقیناۙ تعریف کے قابل ہے۔ ہربندے تک امداد پہنچانا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس میں وقت بھی لگتا ہے اور پھر بھی امداد نہیں پہنچتی۔ یہ مقامی ارکان اسمبلی کا کام ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے لوگوں تک امداد پہنچایں۔

مہرافشاں ترمزی ، سعودی عرب:
خدا کے لیے کوئی ان سے پوچھے کہ کوئی اُنکو کیوں نہیں نکال رہا۔ پورا ایک دن گزر گیا ہے پتہ نہیں اُن پر کیا گزر رہی ہوگی، انتہا ہے بے حسی کی۔ اللہ سب ماؤں کے کلیجے ٹھنڈے رکھے سب ماؤں کے بچے بچ جائیں۔ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں اور جو ہو سکتا ہے وہ بھی کریں گے۔ میری تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ اپنی امداد حکومت کو نہیں ایدھی والوں کو بھیجیں۔ سونامی والوں کے لیے جو فنڈ یہاں جمع ہوا تھا ایمبیسی کے ذریعے سب خرد بُرد ہو گیا۔

محمد اقبال، یو ایس اے:
اتنی بڑی آفت سے نمٹنا بہت مشکل کام ہے، پھر بھی حکومت اور لوگ اپنی طرف سے کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر اختلافات کو بُھلا کر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ بی بی سی کو بھی چاہیے کہ ان باتوں کو ہوا نہ دیں ان کے لیے آگے بہت وقت ہو گا۔

کیسا امدادی کام؟
 ایک شہری دفاع کا ادارہ تھا وہ پتہ نہیں کیا ہوا؟
جبران حیسن ، کراچی

جبران حیسن ، کراچی، سندھ:
کیسا امدادی کام؟ پاکستان میں تو کوئی ادارہ ہی نہیں جو قدرتی آفات آنے کی صورت میں کام کر سکے۔ ایک شہری دفاع کا ادارہ تھا وہ پتہ نہیں کیا ہوا۔

ماہی، ٹنڈو محمد خان، پاکستان:
پاکستانی قوم اس وقت پریشان ہے، ہمارے حکمران صرف دلاسے دے رہے ہیں۔ بالا کوٹ میں بچے مر رہے ہیں جن کی چیخیں بی بی سی کے توسط سے سُنائی دے رہی ہیں۔ مگر شاید ہمارے حکمران کو یہ نہیں سُنائی دے رہی ہیں۔

محمد امین، پاکستان:
صدر پاکستان اور وزیر اعظم آپ کہاں ہیں۔ نوجوان بچے ملبے کے ڈھیر تلے چیخ رہے ہیں۔ لیکن اُن کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی امدادی کاروائی نہیں ہو رہی۔ یہ کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے۔

خالد احمد، راولپنڈی، پاکستان:
ہر جگہ اسلام آباد نہیں ہے اور نہ ہی ہر شخص مارگلہ ٹاور کے ملبے کے نیچے دبا ہوا اسسٹنٹ کمشنر ہے جو ڈیڑھ کروڑ کے اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا۔ یہ پاکستان ہے جہاں اس طرح کے لوگ پہلے امداد پاتے ہیں اور غریب کی باری دیر سے آتی ہے۔

سمعین زارا، لاہور، پاکستان:
عید الفطر پر اپنے اخراجات کرنے کی بجائے، اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے لیے عطیہ دیں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ اپنی رحمتیں نازل کرے۔

ارکانِ اسمبلی کہاں ہیں؟
 تمام سیاسی جماعتوں بلخصوص دینی جماعتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنے کارکنوں کو امدادی کاموں کے لیے متحرک کریں۔
اے رضا، ابوظہبی

اے رضا، ابوظہبی:
تمام سیاسی جماعتوں بلخصوص دینی جماعتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنے کارکنوں کو امدادی کاموں کے لیے متحرک کریں۔ حکومت پر تنقید کرنے کے لیے عمر پڑی ہے۔ پارلیمنٹ اور سینٹ ممبران کہاں ہیں۔ اپنے اپنے علاقوں کا رُخ کریں اور امدادی کاموں کی نگرانی کریں یہی تو وقت ہے اُن کے کام کرنے کا۔

غلام رضا، ڈی جی خان، پاکستان:
میں بالاکوٹ کے سکول کے ملبے تلے دبے ہوئے زندہ بچوں کے لیے پریشان ہوں۔

لیاقت علی خان ، میانوالی، پاکستان:
میرے خیال میں ہمیں کمبلوں اور ٹینٹ کی بجائے ہیلی کاپٹروں کی ضرورت تھی، کیونکہ سب سے زیادہ عذاب میں وہی ہیں جو ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ نہ کہ جو باہر ہیں

جاوید سلطان علی، کراچی:
سوال یہ ہے کہ جب سب کو پتا چل گیا کہ زلزلہ آیا ہے تو پھر کسی نے شمالی علاقوں میں مدد کیوں نہیں کی؟ پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کیا ہوئے؟ مانا کہ سڑک بند ہے لیکن آسمان تو کھلا ہے۔ یہ بہت بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ غریب آدمی کی مدد کسی نے نہیں کی۔

صالح مسلم، ہری پور:
پاکستان ٹی وی کو دیکھ کر اور صدر، وزیر اعظم اور وزیروں کے بیان سن کر تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف ایک عمارت گری ہے اور وہ ہے مارگلا ٹاور۔ تمام ادارے وہیں لگے ہوئے ہیں کیونہ وہاں غیرملکی، سفارتکار اور امراء رہتے تھے۔ شرم آنی چاہیے حکومت کو اور فوج کو۔

ضیافت شہزاد، آسٹریلیا:
میں اس وقت بہت برا محسوس کر رہا کہ جب میرے بھائیوں کو میری ضرورت ہے تو میں ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ اللہ مرنے والوں اور زندہ بچ جانے والوں دونوں کو سکون بخشے۔ میں بین الاقوامی برادری کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے مدد کی۔

نواب عاطف خان، ملتان:
امدادی کاموں کی رفتار تسلی بخش ہے۔ یہ بہت بڑا حادثہ ہے اور ہم سب کو مل کر اس سے نبرد آزما ہونا چاہیے اور صدر کے فنڈ میں چندہ دینا چاہیے۔

ثاقب صدیقی، یو اے ای:
اس سانحے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے لیکن قدرتی آفات دیکھ کر قومِ لوط یاد آگئی۔ ابھی کچھ دن قبل ہی اس سائٹ پر ہم جنسوں کی شادی کے بارے رپورٹ پڑھی تھی۔ خدا ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ نہ ہو۔۔۔۔
 یہ نہ ہو کہ ماضی کی طرح امداد میں ملنے والی اشیاء سٹورز میں بک رہی ہوں۔
محمد طلعت، اونٹاریو

محمد طلعت، اونٹاریو:
پاکستان جو بھی ایڈ وصول کرے ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ وہ مستحق لوگوں تک پہنچے اور یہ نہ ہو کہ ماضی کی طرح امداد میں ملنے والی اشیاء سٹورز میں بک رہی ہوں۔

فراز قریشی، کراچی:
ملک کا ساٹھ فیصد کھانے والی فوج ابھی تک مدد کو کیوں نہیں پہنچی؟ معلوم نہیں ہم نے کہاں کہاں سے ہیلی کاپٹرز لئے ہوئے ہیں اور اس بار ان کی بھی کمی پڑ گئی۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک ملک کا سربراہ یہ کہہ رہا ہے کہ اتنی دیر تو امریکہ میں بھی ہوجاتی ہے۔ خود کام کر نہیں رہے اور جو کرنا چاہتے ہیں وہ پروٹوکول کی وجہ سے روک دیا جاتا ہے۔

علی خان، پاکستان:
جو کچھ ہوا، اللہ کی طرف سے ہوا ہے اور اس کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں۔ بہت افسوس ہوا ان کے بیانات سن کر اور لوگوں کے بیانات سن کر۔ اللہ ان حکمرانوں کو ہدایت فرمائے۔

شبیر احمد، چارسدہ:
اس تباہی نے حکومتی مشینری کا اصل چہرہ ہمیں دکھا دیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے حادثات سے نمٹنے کے لیے نہ ہم نے کبھی تیاری ہی نہیں کی۔ زیادہ تر ہلاکتوں کی اطلاع سرکاری عمارتوں سے ہی آرہی ہے جیسے کہ سکول وغیرہ، اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی تعمیر میں نہ دیانتداری کی اور نہ ہی احتیاط۔ مرکزی اور سرحد کی صوبائی حکومت دونوں کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیً دے دینا چاہیے اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

آصف رامے، پاکستان:
میری این جی اوز اور رفاہی اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ان کاموں میں آگے آئیں اور سیاسی رہنماؤں سے التماس ہے کہ وہ مثبت انداز میں لوگوں کی رہنمائی کریں۔ حکومتی کابرین کو چاہیے کہ وہ دن رات ایک کردیں۔ تمام صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان صاحبِ حیثیت لوگ ہیں اور انہیں بڑھ چڑھ کر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔

انجنیئر ہمایوں ارشد، کراچی:
حکومت اور عوام دونوں کو سب سے پہلے توبہ کرنی چاہیے۔

عظمیٰ کمال، امریکہ:
یہ اللہ کا بہت بڑا عذاب ہے، ہمیں استغفار کرنی چاہئے۔ زیادہ تباہی کشمیر اور شمالی علاقوں میں ہوئی ہے اور وہاں کوئی مدد نہیں پہنچ رہی۔ فوج والے کچھ کیوں نہیں کرررہے، سبھی کچھ تو انہی کے پاس ہے۔

عمران، ٹیکسلا:
ہم سب کو مل کر مثبت انداز میں لوگوں کی مدد کرنی چاہیِے نہ کہ ایک دوسرے پر نقطہ چینی۔ اب تک ہونے والی کارروائیوں کا کریڈٹ حکومت اور عوام کو جاتا ہے۔

۔۔۔جو پکار رہے ہیں۔
خدارا ان بچوں کی مدد کریں جو عمارتوں میں دبے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
نوشین اقبال، پاکستان

نوشین اقبال، پاکستان:
میں پاکستانی لوگوں سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہنا چاہتی کہ خدارا ان بچوں کی مدد کریں جو عمارتوں میں دبے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

جواد:
یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔

عفنان عالم، کراچی:
یہ ایک زلزلہ ہی نہیں ہے، خدا کا عذاب ہے، میں سوچتا ہوں کہ اس مبارک مہینے میں یہ کیسے ہوا۔ خدا سے مدد کے لئے دعا کریں۔۔۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
امداد کا تاخیر سے پہنچنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ حکومت شمالی علاقہ جات، کشمیر اور سرحد کے علاقوں کی فلاح و بہبود پر کچھ خرچ نہیں کرتی، جتنا بھی پیسہ ہے سب اسلام آباد پر خرچ ہوتا ہے۔

محمود آصف میاں، لاہور:
میرے خیال میں موجودہ صورتحال ہماری سِول سوسائٹی کے مردہ ہونے کی عکاس ہے۔ ایک، کیا کوئی سِول محکمہ ایسا ہے جو اس طرح کے قدرتی صورتحال میں کام کرتا ہو؟ دو، کیا اسلام آباد میں گرنے والا پلازہ کسی ریٹائرڈ فوجی نے انفلوئنس استعمال کرتے ہوئے بنوایا تھا؟ تین، کیا یہ ممکن ہے کہ حکومتِ پاکستان کا کوئی فیڈرل یا صوبائی محکمہ تعمیر ہونے والی عمارتوں میں استعمال ہونے والے سامانوں کے معیار کا خیال رکھتا ہو؟۔۔۔۔

طارق نظامانی، کراچی:
پاکستان ایک باوقار قوم ہے، اس کے لوگوں نے ہمیشہ ایسی آفتوں سے آزماشوں سے مقابلہ کیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ آج سب ایک ہوجائیں۔۔۔

ثنا خان، کراچی:
پاکستانی حکومت سے جتنا ممکن ہے، اتنا کررہی ہے۔ کارگو ہیلی کاپٹروں کی کمی ہوئی ہے، ورنہ جہاں تک ممکن ہے حکومت مدد کررہی ہے۔

کامران خان، پشاور:
ہمارے ایک عزیز ہیں انعام اللہ خان وزیر جو کہ بالاکوٹ میں جج کی پوسٹ پر تعینات تھے، ان کے مطابق زلزلے کے بعد ان کا سرکاری گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا اور وہ بیماری کی وجہ سے گھر پر تھے۔ اس کے بعد وہ اور انکی مسز اپنے بچوں کو بچانے اسکول گئے، وہاں پہ دیکھا کہ ان کے بچے سلاجمت باہر آگئے تھے، مگر بچوں کی اکثریت بلڈنگ کے ملبے میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ بالاکوٹ سے مانسہرہ تک پیدل گئے فیملی کے ساتھ اور وہاں سے پھر اسلام آباد کے لئے ٹیکسی کی۔۔۔۔

راحت محمود، ناظم آباد:
ہر شخص اپنی آمدنی کا صرف پانچ فیصد بھی مصیبت زدہ لوگوں کے لئے بھیجے تو ان کا بھلا ہوسکتا ہے۔۔۔۔

محمد شہزاد، پشاور:
میرے خیال میں تو گورنمنٹ کے جتنے وسائل ہیں اس حساب سے امدادی کام کی رفتار ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن اس میں مزید اضافہ ہونا چاہئے، خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں جہاں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ عالمی لیول پر بھی ردعمل تسلی بخش ہے۔۔۔۔

ریاض کھوسہ، اسلام آباد:
میرے خیال میں یہی وقت ہوتا ہے کسی بھی اچھے حکمران اور گورنمنٹ کی مینجمنٹ اور اچھی حکمرانی کو پرکھنے کا کہ وہ کسی ایمرجنسی کا کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اور صدر کے دورے کے بعد بھی کئی افراد اسلام آباد کے پلازہ کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔۔۔۔

احسان، پشاور:
یہاں زلزلہ نہیں صرف اور صرف ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے اعمال ہیں۔ میں اپنے اعمال کا صرف ایک مثال دیتا ہوں۔ ابھی پاکستان میں جو ناظم کے انتخابات ہوئے اس میں کیا ہوا، آپ سب نے دیکھا، کھلے عام لوگوں کو خریدا گیا۔۔۔۔

علی عمران، لاہور:
دیکھیں تنقید ہر وقت مناسب نہیں ہوتی، خدارا حالات کو سمجھیں، حکومت پوری کوشش کررہی ہے جتنے وسائل ہیں۔۔۔

مغل سیفی، لاہور:
میں یہ کہنا چاہوں گا کہ گورنمنٹ اپنی سر توڑ کوشش کررہی ہے، لیکن روڈ بلاک ہیں، صبر سے کام لینا ہوگا۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مزید غضب سے معاف فرمائے۔۔۔

بشیر ربانی، چرسدا، سرحد:
ویل ڈن مشرف، اسکول کے ملبے کے نیچے سے بچوں کے رونے کی آوازیں آرہی ہیں کہ انہیں باہر نکالا جائے لیکن کوئی بھی فوجی جوان یہاں نہیں ہے۔ کیوں کہ ان کی تربیت اپنے وطن پر قبضہ کرنے کی ہوئی ہے، دہشت گردوں کو پکڑنے کی ہوئی ہے، امریکہ کے مفاد کے تحفظ کی ہوئی ہے۔۔۔۔

ارشد خان، ملتان:
یہ قدرتی آفت تھی، اس پر ہمارا کنٹرول نہیں۔ لیکن جہاں تک امدادی کارروائیوں کی بات ہے کافی صدمہ ہوتا ہے یہ سنکر کہ ہماری حکومت ضرورت مندوں اور متاثرہ لوگوں تک پہنچنے میں بالکل ناکام ہوگئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس زلزلے سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو غریب ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں رہا، حکومتی امداد بھی نہیں پہنچ رہی۔۔۔۔

محمد شاہد، لیاقت آباد:
یہ کمزور ملک اور ایک بڑی قدرتی آفت، تو ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پاکستان کتنا مضبوط ہے اس آفت کے سامنے، ساری دنیا سے امداد مانگ رہا ہے۔

حیدر بٹ، لاہور:
برائے مہربانی اس سال عیدالفطر کے موقع پر قیمتی کپڑوں پر پیسے خرچ کرنے سے گریز کریں اور یہ پیسے انسانی امداد کے لئے استعمال کریں، اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک دوسرے پر تنقید کرنا چھوڑ دیں، وقت کی ضرورت ہے کہ ہاتھ میں ہاتھ ملاکر کام کریں۔

طارق محمود، کراچی:
ایسا لگتا ہے کہ کوئی سرکار یا امدادی ایجنسیاں نہیں ہیں، بالخصوص بالاکوٹ اور مانسہرہ میں۔ چھوٹےبچوں کو ملبے کے اندر مرنے دیا گیا، اگر وقت پر امداد پہنچتی تو سینکڑوں کو بچالیا گیا ہوتا۔۔۔

جاوید حسین، خرم ایجنسی:
سب کو چاہیے کہ صبر کریں۔ جو زندہ بچ گئے ہیں وہ امدادی کاموں میں تعاون کریں نہ کہ الزام تراشی۔ اب رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ جو سب صبر سے کام لیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔

محمد عبدل عظیم شین، گلگت:
ہاں بالکل۔ یہ قدرتی آفت ہماری بدقسمتی کا نتیجہ ہے۔ اب امدادی کارروائی کی سخت ضرورت ہے۔ یہاں شمالی علقہ جات میں بھی لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ ان لوگوں کو مدد کی سخت ضرورت ہے۔

فیصل رفیق، کویت:
پاکستانی لوگ اپنی مدد آپ کر رہے ہیں۔ شہروں میں جانے کے لیے رستے بند ہیں۔ آرمی رستے کھول رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس دکھ درد کے وقت میں پاکستانی عوام دل کھول کر اپنے بھائیوں کی مدد کر رہی ہے اور جو کچھ بن سکے گا یہ لوگ کریں گے۔

ایم عرفان، کینیڈا:
پاکستانی حکام اس امداد کا انتظار کر رہے ہیں جو آخر کار صرف کچھ منتخب افراد تک ہی پہنچے گی۔ آرمی صرف ان کی مدد کرے گی جو امریکہ کے حامی ہیں (یعنی الیٹ کلاس)۔ باقی سب کب اپنے مدد خود کرنا پڑے گی۔

یاقوب احمد، سوات:
پاکستان میں صرف ایک ہی شہر نہیں ہے۔ اسلام آباد کے علاوہ بھی شہر ہیں۔ زلزلے سے صرف اسلام آباد کی ایک عمارت تباہ نہیں ہوئی بلکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھی تو پاکستان کا ہی حصہ ہے۔

66آپ نے کیا دیکھا؟
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجیے
66سکردو میں کیا ہوا
’زلزلے سے پہاڑ کٹ کے گر رہے تھے۔‘
66ہنگامی امدادی نمبر
اہم معلومات کے لیے ان نمبروں پر فون کریں
66مارگلہ ٹاور میں۔۔۔
’عمارت جھولے کی طرح جھول رہی تھی۔‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد