BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عمارت جھولے کی طرح جھول رہی تھی‘

زلزلہ
’مارگلہ ٹاور کے بلاک تھری میں میرا اپارٹمینٹ ہے، میں وہیں تھا۔ میری دو بیٹیاں اور بیوی روزہ رکھ کے سو گئی تھیں۔ میں صبح آٹھ بجے کے قریب اٹھا اور اخبار پڑھ رہا تھا۔ میرا چھوٹا بیٹا ہے آٹھ سال کا وہ میرے ساتھ آکے بیٹھا تو اچانک مجھے احساس ہوا کہ پلنگ زور سے ہلنے لگا تو میں نہ بیٹے سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس کو ہلایا؟ تو اس نے کہا نہیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ زلزلہ ہے۔

میں اٹھا ہوں اور دو تین سیکنڈ میں ہی پوری شدت کے ساتھ زلزلہ آ گیا۔ اور بلڈنگ ایسی جھول رہی تھی جیسے جھولا۔ میری بیٹیاں اور بیوی بھی جاگ گئیں اور ہم بیم کے نیچے جاکر کھڑِ ہو گئے لیکن زلزلے کی شدت اتنی تھی کہ ہم پاؤں نہیں جما سکے۔ بلڈنگ بالکل جھولے کی طرح جھول رہی تھی۔ ساتھ ہی ایک دم بہت زور کی آواز آئی، کھڑکی سے باہر دیکھا تو ساتھ کا بلاک، بلاک فور گر گیا، پوری طرح گر گیا۔ اور اس کے ساتھ بلاک فائو بھی آدھا کولاپس ہو گیا۔

اس کے بعد میں نے سوچا کہ پتہ نہیں اللہ نے ہماری زندگی کتنی رکھی ہے، لیکن میں یہ سمجھا کہ بس اب ختم۔ اس کے بعد ہم نہ بھاگ سکتے تھے، نہ نکل سکتے تھے کیونکہ ہمارے دروازے بھی جیم ہو گئے تھے۔ ہم تب وہاں سے نکل پائے جب کچھ لوگوں نے آکے دروازے کھولے۔ جب ہم باہر آئے تو ایک ٹاور پوری طرح ختم ہو چکا تھا بیسمینٹ تک اور دوسرے کا آدھا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔ تب سے میں واپس گیا نہیں ہوں وہاں، کیونکہ میں بچوں مو کحفوظ مقام پر پہنچانا چاہتا تھا۔ اب سوچ رہا ہوں کہ جا کے دیکھوں کیا ہو رہا ہے۔ وہاں باقی تین بلاک بچے ہیں وہ بھی غیر محفوظ ہیں اور ان میں بڑئ دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

میرے کچھ دوستوں نے وہاں سے فون کر کے بتایا کہ وہاں اندر جانے بھی نہیں دے رہے۔ روزہ کھولنے کے بعد میں پھر واپس جاوں گا۔ میری گاڑیاں نیچے بیسمینٹ میں تھیں۔ طاہر ہے گھر سے ہم تین کپڑوں میں نکلے ہیں۔ دیکھیں گے کہ اندر جا سکتے ہیں یا نہیں، لیکن بلڈنگ کافی متاثر ہوئی ہے۔ اس کا کام سب سٹینڈارڈ تھا۔ ساتھ ہی دو بڑے ٹاور ہیں جنہیں بالکل نقصان نہیں پہنچا۔ ان لوگوں نے انتہا درجے کا سب سٹینڈارڈ کام کیا تھا کہ وہ بالکل تباہ ہو گئی۔

ہمارے ایک عزیز ہیں اس وقت ہم ان کے گھر پر ہیں۔ ابھی تک کچھ پتہ نہیں کہ ہم اپنے گھر کب جائیں گے۔ وہاں تو ہر طرف بہت سڑکیں بھی بلاک ہو گئیں ہیں اور لوگ بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔‘



ممتاز علی راجپر صاحب اس وقت مارگلہ ٹاور کے بلاک تین میں موجود تھے جب بلاک چار اور پانچ گر گئے۔ یہ ان کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد