BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 October, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدید زلزلہ، ہزاروں ہلاک و زخمی
زلزلہ
زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں

پاکستان، شمالی بھارت اور افغانستان کے کئی شہروں میں شدید زلزلے سے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں۔ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں انتالیس فوجیوں سمیت چھ سوافراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تاہم زلزلے کی تباہی کا اصل مرز شمالی پاکستان کے علاقے ہیں جہاں مرنے والوں کی تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

کیا آپ یا آپ کے جاننے والے اس زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں؟ آپ نے کیا دیکھا؟ کیا آپ اپنے رشتہ داروں اور پیاروں کے بارے میں پریشان ہیں؟ کیا آپ نے اس زلزلے کی تباہی کی اپنے موبائل یا کیمرے سے کوئی تصاویر اتاری ہیں۔ ہمیں لکھ بھیجئے۔ تصاویر اس پتہ پر بھیجیں۔

urdupics@bbc.co.uk

میں نے کیا دیکھا

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200


علی رضا زیدی، کراچی:
اب وقت ہے کہ ملک بھر سے رضاکاروں کو مستقبل میں آنے والی آفات کے لیے تربیت دی جائے۔ جو کچھ ہوا اس پر ہمیں اللہ سے اپنے اعمال کے لیے معافی مانگنی چاہیے، خاص طور پر مولویوں کو۔ اور پوری قوم کے دردمند نوجوانوں کو امدادی کارروائی میں مدد کرنی چاہیے۔

فہد کاضمی، چین:
کل کتنا برا دن تھا۔ میں دیر تک اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر پایا۔ رات گئے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر چلے گئے ہیں۔ اپنے بھائی سے بات نہیں ہو سکی۔ میرے رشتہ دار محفوظ ہیں لیکن میرے خاندان میں کچھ لوگ مارے بھی گئے۔ میں بہت دکھی ہوں۔ اللہ انہیں صبر دے۔

محبوب عالم، راولپنڈی:
میں نے بھی جھٹکے محسوس کیے اور متاثرین کے درد کا اندازہ ہے مجھ کو۔ مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ میڈیا اور حکومت صرف اسلام آباد اور مارگلہ ٹاور پر ہی کیوں توجہ دے رہی ہے؟ ان دور دراز علاقوں تک امداد کیوں نہیں پہنچائی جا رہی جہاں حالت اور بھی خراب ہے، جبکہ فوج کے پاس ذرائع بھی موجود ہیں؟

عرفان خواجہ، لاہور:
میں ان تمام لوگوں کے بارے میں بہت فکر مند ہوں جو دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سب کی توجہ اسلام آباد پر مرکوز ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ بالاکوٹ جیسے سب سے بری طرح متاثر علاقوں میں جائیں جہاں ایک پورا دن گزر جانے کے باوجود کوئی امداد نہیں پہنچی؟

نیازی گورانچی، دبئی:
ہمیں دیار غیر میں رہ کر بہت افسوس ہو رہا ہے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ ہم سن رہے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں نے صرف جھوٹے دعویوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ بس وہ صرف امدادی کام کا اعلان کر رہے ہیں۔ میں حکمرانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جلد از جلد امدادی کارروائی شروع کرے۔

ہارون اقبال، کینیڈا:
یہ ایک خدائی آفت ہے اور خدائی آفت تب ہی آتی ہیں جب کہیں پر ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے۔۔جیسے کہ ایک دن پہلے آٹھ معصوم انسانوں کا خون منڈی بہاالدین میں ہوا اور بہت سے ایسے واقعات جن پر حکومت وقت خاموش بیٹھی رہی۔ حکومت کچھ نہیں کرتی پر اللہ معصوم کا خون نہیں بخشتا۔ ہمیں چاہیے کہ سبق سیکھیں۔

محمد شاہ زاد، برطانیہ:
زلزلے کی خبریں دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم کبھی اس کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ امدادی کاموں میں کوئی تال میل نظر نہیں آتا۔ بروقت اور صحیح طبی امداد تو بالکل ہی نظر نہیں آرہی۔ بجٹ کا اگر کچھ حصہ حکومت ہنگامی امداد اور قدرتی آفات کی تیاری کے لیے مختص کر دے تو میرے خیال میں اچھا ہوگا۔ یہ حکمرانوں کے لیے ایک کھلا چیلینج ہے۔

مزمل محمود، ملتان:
مظفرآباد میں بہت بڑا سانحہ ہوا ہے۔ لاشوں کو ایک سٹیڈیم میں رکھا گیا ہے۔ بہت مشکل کی گھڑی ہے۔

مہر افشان، سعودی عرب:
سب کچھ دیکہ کر اور پڑھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ حکمرانوں کے کیے کی سزا عوام کو مل رہی ہے۔ پھر وہ حدیس یاد آتی ہے کہ تم جیسے ہوگے تمہارے حکمران بھی ویسے ہی ہونگے۔ اللہ ہمیں نیک ہدایت دیں۔

فرحان علی، گھوٹکی، پاکستان:
میری رائے یہ ہے کہ جتنے بھی ہمارے پیارے بھائی اور بچے اس حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ مدد ملنی چاہیے۔ میں صدر جنرل پرویز مشرف سے کہوں گا کہ ان لوگوں کو پوری مدد فراہم کریں۔

اعجاز الحق، پاکستان:
میں اپنے آفس، جو ایوان اقبال کمپلیکس میں ہے، میں تھا کہ اچانک بلڈنگ ایسے ہلنے لگی جیسے ٹتین ہلتی ہے۔ پہلے تو کچھ دیر دیر بیٹھا رہا مگر پھر سب باہر بھاگ گئے۔ باہر لوگوں کی بہت تعداد تھی۔ سب لوگوں کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔ بس اللہ نے ہمیں بچانا تھا۔۔۔اللہ سب کی حفاظت کرے۔

مرزا ہارون رشید بیگ، کینیڈا:
میری بات اپنے بھائی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی جنہوں نے بتایا کہ وہ کام پر جا رہے تھے کہ انہیں محسوس ہوا کہ زلزلہ آ رہا ہے۔ وہ رکے اور دیکھا کہ چاروں طرف مٹی اڑ رہی تھی۔ ہزارہ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تمام کچے گھر گر گئے تھے۔

مصرور بنگش، نامعلوم:
سارا ملک کہاں سو رہا ہے؟ آفت آئے ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں اب بھی لاشیں پڑئ ہوئی ہیں اور لوگ بے بس انتظار کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا ہمارے صدر صاحب افسوس کے اظہار کے علاوہ اور بھی کچھ کر سکتے ہیں؟ کیا وزیر اعظم صاحب غیر ملکی ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دینے کے علاوہ کچھ کر سکتے ہیں؟

وحید، اسلام آباد:
میں اپنے کمرے میں کھڑا تھا جب زلزلہ شروع ہوا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میں اپنے احساسات بیان نہیں کر سکتا۔ باغ میں رکھی پانی کی ٹینک ایسے ہل رہی تھی جیسے اسے کوئی ایک جگہ سے دوسری جگے تک دھکیل رہا ہو۔ اللہ ہمیں بچائے۔

محمد احمد مفتی، کینیڈا:
میرے خیال میں یہ نہ پہلا زلزلہ ہے اور نہ آخری۔ سارک ممالک کو ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک تنظیم بنانی چاہیے۔ ایسی تنظیم جو کسی بھی آفت پر چند گھنٹوں میں امدادی کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ اس تنظیم کو جدید ترین ساز وسامان، ادویات اور ماہر لوگوں سے مسلح کرنا چاہیے۔ ابتدائی اخراجات سارک ممالک پورا کریں اور بعد میں دوسرے ممالک کو کچھ معاوضے پر خدمات بیچ سکتی ہے۔

عباس خان، سوابی، پاکستان:
میں سوابی کالیج کے تیسرے مالے پر تھا جب زلزلہ آیا۔ پہلے تو میں نے کھڑکی سے نیچے اترنے کی کوشش کی۔ سیڑیوں تک پہنچا تو دیکھا کہ وہاں تقریباً چھ سات سو لوگ نیچے اترنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نیچے اترتے ہوئے ایک پتھر میرے سر پر لگا۔ دیواریں زور زور سے ہل رہی تھی۔ تب سے اب تک گیارہ دفعہ جھٹکے آ چکے ہیں۔

حافظ محمد ابراہیم، لاہور:
میرے لیے یہ بہت ہی شدید تھا۔ میں نے عمارتوں کو گرتے ہوئے دیکھا۔

بلال خان، راولپنڈی:
ابھی تک حکومت کچھ نہیں کر سکی۔ جھوٹی ترقی کے سارے دعوی غلط ثابت ہو گئے۔

عثمان، پاکستان:
اللہ کا بہت کرم ہے سیالکوٹ کو اتنی مشکل نہیں ہوئی۔ لیکن جو ہوا وہ قیامت کے دن جیسا تھا۔۔۔ میری دعا ہے کہ اللہ سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے۔ میرا ذہن اب تک پریشان ہے۔

سلمان معین، کینیڈا:
حادثے کی رات سحری میں میری گھر والوں سے بات ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہے کہ سب محفوظ ہیں۔ لیکن جتنے بےقصور لوگوں نے اپنی جان دی ہے یہ صرف ملک کے نا اہل اور ظالم سیاست دانوں کی حرکتوں کی سزا ہے۔

زاہد رفیق، گجرات:
میں ایک ٹیچر ہوں اور اسکول میں پڑھا رہا تھا۔ اچانک میرے پیروں میں جھٹکے محسوس ہونے لگے۔ میں سمجھا میرے جسم میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن آس پاس دیکھا، سب کچھ ہل رہا تھا۔ میرے طالب علموں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک زلزلہ ہے۔ پھر ہم اسکول کے گراؤنڈ میں بھاگے۔۔۔

عرفان محمد علی، گوجرہ، پاکستان:
گوجرہ میں بھی زلزلہ کافی شدید تھا، ہم کالج گئے ہوئے تھے کہ آٹھ بج کر دس منٹ پر زلزلے کے جھٹکے لگنے شروع ہوگئے۔ ہم کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں، روف بھی کمزور تھی، ہم کل ساٹھ اسٹوڈنٹ کلاس میں تھے۔ جب تھوڑی دیر گزری تو جھٹکے لگنے شروع ہوگئے، قیامت کا منظر تھا۔ پروفیسر صاحب کہہ رہے تھح کہ اللہ گناہ معاف کردے۔۔۔۔

اعجاز الحق، لاہور:
میں اپنے آفس، جو ایوان اقبال کمپلیکس لاہور میں ہے، میں تھا کہ اچانک بلڈنگ ایسے ہلنے لگی جیس ٹرین ہلتی ہے۔ پہلے تو کچھ دیر بیٹھے رہے مگر پھر سب باہر بھاگ گئے۔ باہر ہجوم تھا کافی۔ سب لوگوں کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔

یاسر چوہان، گوجرانوالا، پاکستان:
میرا تعلق گوجرانوالا سے ہے۔ میں حصب معمول اپنے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرا پی سی جھٹکے کھانے لگا۔ جوں ہی باہر گیا تو کافی شور مچا ہوا تھا اور گھر والے کہہ رہے تھے کہ زلزلہ آیا ہے تو میں نے جلدی سے اپنے بھتیجے کو اندر کمرے سے اٹھایا اور باہر گلی میں کھڑے لوگوں میں لے گیا۔ میں تو بس یہی سمجھا کہ قیامت آن پڑی ہے۔ یہ ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔

عمران علی، جاپان:
پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ اگلے اڑتلیس گھنٹے مزید جھٹکے آسکتے ہیں تو پلیز خیال رکھیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ سب کو اپنی امان میں رکھے اور اگلے اڑتالیس گھنٹے صحیح سلامت گزر جائیں۔

محمد علی، ہری پور، پاکستان:
ہمیں اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگنی چاہیے اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے حادثات سے بچائے۔

نفیس نصیر، امریکہ:
یہ ہمارے برے اعمال کا نتیجہ ہے اور کچھ نہیں۔ ایک دن پہلے بےگناہ نمازیوں کا نمازکے دوران خون۔۔۔عبادت گاہوں پر حملے۔۔۔بےگناہوں سے زیادتی۔ اللہ کو یہ بات پسند نہیں۔ پھر خدا اپنا آپ دکھاتا ہے۔ کتنے بےگناہ ہیں جو مساجد میں شہید ہوئے۔ کتنے فرقہ وارانہ فصادات میں شہید ہوئے اور پوری قوم تماشہ دیکھتی ہے۔ کوئی بھی ظلم کے خلاف نہیں بولتا۔ پھر کبھی کبھی خدا اپنا آپ دکھاتا ہے۔ اسلام کے نام پر خون، اس سے بڑا گناہ اور کیا ہوگا؟

زاہد مرزا، کینیڈا:
میں صبح سحری کھانے کے بعد انٹرنیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ آج صبح زلزلے کی خبر دیکھی تو آپ کو بتا نہیں سکتا مجھ پر کیا گزری۔ اللہ ہماری قوم کی مدد کرے۔

غلام اصغر، کلر کہار، پاکستان:
میں ایک سکول میں پڑھا رہا تھا جب زلزلہ آیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ میری کرسی ہل رہی ہے۔ سارے طالب علم بہت ہی خوف زدہ ہوئے۔ بہت ہی خوف ناک تجربہ تھا۔

عامر تاج، ابو ظہبی:
اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔ ہم لوگ بہت پریشان ہیں کہ پاکستان میں یہ کیا ہو گیا ہے۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے۔ گھر سے دور گھر والوں کے لیے ہم بہت پریشان ہیں۔ بی بی سی کا شکریہ کہ لمحہ بلمحہ ہمیں باخبر رکھا ہوا ہے۔

فرخ قریشی، ایبٹ آباد، پاکستان:
میں صبح سو رہا تھا کہ میں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔ اس وقت میرے سامنے ایوب میڈیکل کمپلیکس ہے جو زخمیوں اور ہلاک شدگان سے بھرا ہوا ہے، خاص طور پر مانسہرہ، بالاکوٹ اور گڑھی حبیب اللہ سے۔ اللہ سب کو ہمت دے۔

محمد شا ہزاد، برطانیہ:
میں نے یہ خبر پہلی دفعہ بی بی سی نیوز پر سنی۔ گھر فون کیا تو سب ڈرے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بہت شدید زلزلہ تھا۔ اپنے دوست سے ایبٹ آباد میں بات ہوئی، پتہ چلا کہ ایوب میڈیکل کمپلیکس مریضوں سے خالی کر دیا گیا ہے اور مریض باہر کھلے میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ خدا ہم سب کو اس حالت میں ہمت دے اور شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرنے والوں کو جنت میں جگہ دے۔

اکرام الحق، جرمنی:
پردیس میں اس بات کا اور بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے کہ اپنے وطن میں اتنی بڑی آفت آگئی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔

سجاد حسین، تھائیلینڈ:
میں پاکستان میں اپنے بھتیجے سے فون پر بات کر رہا تھا جب زلزلہ آیا۔ پانچ منٹ تک میں فون پر تھا اور زلزلہ تھما نہیں تھا۔ میں اپنے بھتیجے سے باہر کھلے میدان میں جانے کو کہا۔ تب سے اب تک اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ میں بہت پریشان ہوں اور سارا دن رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اب یہاں رات ہو گئی ہے اور میں یہ نہیں جانتا کہ میرے گھر والے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

حامد علی صوفی، اومان:
میرا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ سے ہے۔ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ میں مسلسل ٹی وی اور انٹرنیٹ کو دیکھ رہا ہوں۔ اگر باغ سے کوئی میری ای میل پڑھے تو براہ مہربانی مجھ سے رابطہ کریں تاکہ مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے۔

سہراب کشمیری، اٹلی:
جب ہمیں پتہ چلا تو ہوش نہیں رہے۔ کشمیر کا کچھ حصہ بالکل ہی ختم ہو گیا ہے۔ میرا سارا خاندان کشمیر میں ہی ہوتا ہے۔ وہاں کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی فون چل رہے ہیں۔ ہم صرف دعا کر سکتے ہیں۔

مقصود آفریدی، پاکستان:
یہ ہم پاکستانیوں کے لیے ایک امتحان کا وقت ہے اور میری دعا ہے کہ خدا سب کو ایسی آفات سے محفوظ رکھے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کی آفات کے بعد ہمارے پاس کیا کچھ ہے کہ ہم زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ملبے سے نکالیں۔ میں اس سلسلے میں یہ کہوں گا کہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی اور مشینری اتنی ہونی چاہیے کہ کم سے کم جو لوگ بچائے جا سکتے ہیں ان کو بچایا جا سکے۔

سمیع اللہ یوسف زئی، متحدہ عرب امارات
یہ سب ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ آج کل پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسلام کے خلاف ہو رہا ہے۔ ہمارے اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ اللہ سب مرنے والوں کو جنت عطا فرمائے۔

انوار راگا، برطانیہ:
آج پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے حکمرانوں کا امتحان ہے۔ پورا خطہ اس آفت میں گھرا ہے اور لوگ بڑی مشکل میں ہیں۔ بہت افسوس ہوا کہ اتنے غریب مارے گئے۔

سائمہ خالد، کینیڈا:
اس آفت سے ہم سب پریشان ہیں۔ میرے گھر والے پشاور میں سخت خوفزدہ ہیں۔ اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔

منیر ارشاد، کینیڈا:
یہ بہت بڑی آفت ہے۔ میں نے ابھی لاہور میں اپنی ماں سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ بہت خوف زدہ ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک دو دن بعد ہی ہلاکتوں اور نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے گا۔

عامر حیدر، ملیشیا
میرے والدین تو کراچی میں ہیں لیکن میرا ان سے اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ میرے خیال میں حکومت کو مثبت اقدامات کرنے چاہیے۔

صیفی مغل، لاہور، پاکستان:
آج پتہ لگا کہ موت کو اپنے سامنے اگر دیکھا جائے تو کیا ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب کے گناہ معاف کرے۔

شمس اشرف، سیالکوٹ:
پونے نو بجے کے قریب میں سو رہا تھا جب مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مجھے کوئی ہلا کر جگا رہا ہو۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ زلزلہ ہے۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ہر شہ زور زور سے ہل رہی تھی۔ میرے کمرے میں بجلی کی بتیان چھت کو چھو رہی تھی۔ بہت خوف ناک تھا۔

فدا داؤد، مانسہرہ:
زلزلے کی وجہ سے دہرا گاؤں میں آج گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ گاؤں ایک پہاڑ پر ہے اور اس کے اسی فیصد گھر زمین بوس ہو چکے ہیں۔

لیاقت علی، رائےونڈ، پاکستان:
صبح تقریباً آٹھ بج کر پچاس منٹ پر میں بس کام شروع ہی کرنے والا تھا کہ زور کا زلزلہ آیا۔ میں اس وقت فیکٹری میں تھا۔ ہم سب فیکٹری سے باہر بھاگے۔ ہماری فیکٹری نئی ہے اس لیے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا لیکن اس وقت ایسا لگا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سب چلاتے ہوئے باہر بھاگے۔ دو منٹ میں ساری فیکٹری خالی ہو گئی۔

راہت ملک، راولپنڈی، پاکستان:
یوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے جب بھی کوئی جانی نقصان ہوتا ہے۔ دس لاشیں اور زخمی اپنی آنکھوں سے دیکھے تو دلی صدمہ ہوا۔ مگر ایک خامی ضرور دیکھنے میں آئی کہ پاکستان حکومت کے پاس اس طرح کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے نہ تو تجربہکار لوگ ہیں اور نہ مشینری۔ پھر بھی انتظانیہ اور لوگوں کی ہمدردی دیکھ کر اچھا لگا۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
دنیا ایک کے بعد ایک حادثے کی زد میں ہے۔ کیا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ کیوں پورا عالم شدید گرفت میں ہے؟ ہماری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے یہ سب کچھ۔ ماحولیاتی تبدیلیاں تو ایک بہانہ ہیں جو کبھی سونامی اور کبھی کیٹرینا یا زلزلوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دل ان لوگوں کے لیے دکھ سے بھر گیا ہے جو اس سانحہ کی نظر ہوئے ہیں۔ اور جو ملبے میں دبے ہوئے ہیں خدا ان کو خیر سلامتی سے ان کے پیاروں تک پہنچا دے۔

عدنان رشید چٹھا، لاہور:
یہ بہت ہی برا زلزلہ تھا۔ میں ایک ہوسٹل میں رہتا ہوں اور یہاں تمام طالب علم اپنے کمروں سے باہر آگئے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
میری دعا ہے کہ اللہ ہر ایک پاکستانی کو اپنی امان میں رکھے۔ سچ پوچھیں تو یہ آفات ہمارے ملک بیٹھے ہوئے نااہل حکمرانوں کی ناانصافی، ظلم اور گناہوں کی وجہ سے آرہی ہیں مگر بھگت عوام رہے ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میرا تعلق چکوال سے ہے اور یہاں پر ٹھیک آٹھ بج کر پچپن منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ میں نے پہلے صرف زلزلے کا نام سنا تھا لیکن موت کو اس قدر قریب پہلی بار محسوس کیا۔ سارا شہر سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ بہت سے لوگ سجدہ ریز تھے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ساڑھے تین بجے پھر ہلکے سے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں۔ لااہ ہمیں معاف کرے۔

راجہ یونس، دمام:
یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے اور شاید سینکڑوں لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسلام آباد شہر میں اگر عمارتیں گر گئی ہیں تو باقی شہروں میں کیا حال ہوگا۔ خبر کے بعد ہم نے گھر فون کیا تو بہت مشکل سے گھر کا نمبر ملا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے شہر میں زیادہ نقصان نہیں ہوا لیکن جو نقصان ہوا وہ ہمارا ہی تو ہے۔ خدا مرنے والوں کی مغفرت کرے اور زخمیوں کو شفاء دے۔

اشرف حسین منگول، سکردو:
سکردو میں بھی زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ہم نے اپنی زندگی میں اتنا شدید زلزلہ کبھی محسوس نہیں کیا۔ زلزلے سے پہاڑ کٹ کے گرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ پہاڑوں کے آس پاس والے گاؤں میں کافی نقصان ہوا ہوگا کیونکہ پہاڑ جب کٹ کر گر رہے تھے تو اس جانب پوری تاریکی تھی۔ زلزلے سے گلگت اور سکردو روڈ کا رابطہ تو پورے پاکستان سے منقطع ہوچکا ہے لیکن ٹیلیفون لائن تھوڑی دیر پہلے بحال ہوئی ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66بلدیاتی انتخابات
پہلے مرحلے کی پولنگ: آپ کی رائے
66گھوٹکی ٹرین حادثہ
آپ نے کیا دیکھا، ہمیں لکھ بھیجیئے
66لندن دھماکے
آپ نے کیا دیکھا، ہمیں لکھ بھیجیے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد