BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 July, 2005, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن دھماکے: آپ نے کیا دیکھا
News image
مرکزی لندن میں جمعرات کی صبح زیرِ زمین ٹرین سٹیشنوں اور ایک مسافر بس میں بم دھماکوں میں تینتیس افراد کے ہلاک ہونے اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرب ذرائع نے کہا ہے وہ یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لندن میں ہونے والے دھماکے القاعدہ نے کیے ہیں۔

کیا آپ یا آپ کے دوست رشتہ دار ان دھماکوں کے وقت شہر میں تھے؟ کیا آپ ان واقعات سے کسی بھی طرح متاثر ہوئے ہیں؟ ہمیں اپنے تجربات کے بارے میں لکھئیے۔ ان دھماکوں کے بارے میں اپنی رائے بھی آپ ہمیں بھیج سکتے ہیں۔

اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

جیروِن کوری، نیویارک:
میں ایک لندنر ہوں جہاں میری پیدائش ہوئی، لیکن اب میں گزشتہ ایک سال سے امریکہ میں رہ رہا ہوں۔ جب میرے ایک دوست نے لندن میں دھماکوں کے بارے میں بتایا تو میں پورے دن ٹی وی دیکھتا رہا۔ اکثر میری آنکھ سے آنسو بہتے رہے، میرے دوست مجھے سپورٹ کرتے رہے۔ میری نیک خواہشات اور دعائیں ان لوگو ں کے ساتھ ہیں جن کے رشتہ دار مارے گئے۔

شاہزیب خان، ایتھنز:
یہ سب کچھ بش کروارہا ہے۔ جب افغانستان میں اور عراق میں اور پاکستان میں بم دھماکے کروا سکتے ہیں تو یو کے کیا چیز ہے؟

ڈیوِڈ، نائجیریا:
میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جن کے رشتہ دار ان حملوں میں مارے گئے۔ جیسس کرائسٹ آپ کو ہمت فراہم کریں، آمین!

واجد، پشاور:
اسلام کے خلاف یہ گُڈ کارروائی ہے، اسلام پر الزام لگایا جائے گا۔ کروئیل لوگوں کے ساتھ اچھی کارروائی جو اپنی حکومت کو نہیں کہتے کہ فوج مسلم ملکوں سے ہٹائے۔

ڈیمئین، لندن:
میں ٹرافلگر اسکوائر میں کام کررہا تھا جب افراتفری شروع ہوئی، لیکن میں لندن کی ایمرجنسی سروسز کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے دہشت گردی کے ان حالات میں منظم کام کیے۔ خدا لوگوں کی مدد کرے۔

عبیداللہ عابد، پاکستان:
ٹونی بلیئر کے پہلے بیان سے اندازہ ہورہا تھا کہ ذمہ دار کوئی ایسا طبقہ ہے جو یو کے کے جی ایٹ میں سرگرم کردار کا مخالف ہے، لیکن پھر انہوں نے الزام القاعدہ پر لگادیا۔ حکام کو ذرا اس حوالے سے بھی سوچنا اور تحقیقات کرنا چاہئے کہ ان دھماکوں میں کوئی تیسرا فریق شامل نہ ہو۔

کیٹ، آسٹریلیا:
میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ لندن کے دھماکوں کو یہ آسٹریلیا میں بھی محسوس کیا گیا۔ یہاں بہت لوگ ہیں جن کے رشتہ دار اور دوست لندن میں ہیں اور جو اس دھماکوں کی زد میں آسکے ہوں۔ میرا ایک دوست ہے جس کی بزنس میٹنگ کینسل ہوگئی ورنہ وہ ایجویئر روڈ ٹرین پر ہوتا۔ ہلاک ہونے والوں کے دوستوں اور رشتہ داروں کو ہماری دعائیں۔ آپ ہمت کریں، اسی طرح اس سے نمٹا جاسکتا ہے۔

عبدالحنان، گٹوالا، پاکستان:
ان بم دھماکوں کے ذمہ دار امریکہ، برطانیہ اور دوسرے تمام جو مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں ہیں۔ میری نظر میں یہ سب کچھ ٹھیک ہوا ہے۔ جب وہ ہمارے بھائیوں کو مارتے ہیں، ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزت پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، معصوم بچوں کو قتل کرتے ہیں تو کیوں کوئی نوٹس نہیں لیتا۔۔۔۔

لوئیس فوسٹر، مِلٹن کینز:
کل ایمرجنسی سروسز نے کافی محنت کی۔ ان کی تربیت کافی کام آئی۔

پرویز اختر چودھری، عمان:
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بڑی عبرت کی موت مارے جو اننوسینٹ لوگوں کو مارتے ہیں۔ یہ تو ظلم ہے، غم اور درد ان لوگوں سے معلوم کریں جن کے عزیز ان دھماکوں میں مارے گیے ہیں، تمام دنیا کو کے ایسے لوگوں کو پکڑکر سزا دینے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔

کیلِنگ، فیلٹہم، برطانیہ:
لندن کے دھماکوں میں جن لوگوں کے دوست و احباب مارے گئے ان کے لئے میری دعائیں۔ میرا لندن میں ایک دوست ہے جو ٹریفِک میں پھنس گیا تھا، اس سے موبائیل فون پر بات نہ ہوپارہی تھی، لیکن اس سے رابطہ ہوا اور وہ محفوظ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ کاورڈ پکڑے جائیں اور انہیں انصاف کے کہٹرے میں کھڑا کیا جائے۔ لندن والوں حوصلہ رکھو، اور برِٹش ہونے پر فخر کرو۔

احمد سعید مرزا، دوبئی:
میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ سب بش کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جو ہر الزام صرف مسلم پر ڈالنا چاہتے ہیں، یہ کام کوئی مسلم نہیں کرسکتا کیوں کہ اسلام میں ایسے مسلم کی کوئی جگہ نہیں۔ اسلام تو ایک پرامن اور سچا مذہب ہے۔ اور اسلام میں تو دہشت گردی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ یہ کام اسرائیل کا ہے جس نے یہ سازش کی ہے تاکہ سارا الزام صرف مسلمانوں پر آئے۔

ڈوروتھی، ایڈنبرا:
میں ایجویئر روڈ جانے والی ٹرین پر تھی۔ دھماکوں کے بعد میں نے دفتر کال کرنے کی کوشش کی۔ میرے فون پر آٹھ بجکر چون منٹ لکھا ہے۔

نامعلوم:
مسٹر بلیئر اور صدر بش نیو یارک اور لندن میں ناقص سکیورٹی اور نااہل مینیجمنٹ کے ذمہ دار ہیں، اس لئے ان دونوں کو مستعفیٰ ہوجانا چاہئے۔ بالخصوص نیویارک اور لندن میں بےگناہوں کے خون کے ذمہ دار بھی بش اور بلیئر ہیں۔

سجاد احمد، دوبئی:
میرے خیال سے تو جو کچھ ہوا اچھا نہیں ہوا اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے تھا کیوں کہ لندن میں میں خود رہ کر آیا ہوں، مجھے لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آرہی، اتنی سکیورٹی کے باوجود یہ سب کچھ یقین نہیں ہوتا، ان لوگوں کو سزا ملنی چاہئے جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ہے اور ان کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئے۔

نینسی، لندن:
بم دھماکے سے ایک گھنٹے قبل میں لیورپل اسٹریٹ سے گزری، کیوں کہ میں الڈگیٹ کے قریب ایک اسکول میں کام کرتی ہوں۔ کتنا خوش تھے لوگ، اسکول کے اسٹاف بچوں کی دیکھ بھال کررہے تھے۔ دو دن کے بعد آج پھر میں بس اور ٹیوب سے سفر کررہی ہوں، میں پبلِک ٹرانسپورٹ کے خوف میں زندگی نہیں گزار سکتی۔

نغمہ نیازی، اسلام آباد:
امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ پوری دنیا کے ٹھیکیدار بننے کے بجائے ایسے واقعات کے ’کاز‘ (وجوہات) کو صدق دل سے تسلیم کرنے کی اخلاقاُ اب جرات کریں۔ پھر ان وجوہات کا بدمعاشی کے بجائے احسن طریقے سے حل نکالیں۔ ہر دفعہ یہ ڈھونگ رچاکر معصوم لوگوں کی قیمتی زندگیوں سے یہ ہولناک کھیل کب تک کھیلتے رہیں گے، بہت ہوچکا اب اور کب تک یہ لوگوں کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔

راحیل بلوچ، بلوچستان:
یہ آئی ایس آئی کا کام ہے کیوں کہ برطانیہ کو اب مشرف پر انحصار کرنا پڑے گا تاکہ وہ اسامہ کو ان کے حوالے کردیں۔ لانگ لیو آئی ایس آئی۔۔۔۔

ریحان اختر، شارجہ:
پہلے تو یہ ثابت ہولینے دیں کہ کس نے کیا ہے، پھر اپنی رائے پیش کریں کہ یہ مسلمانوں کی ایک گمراہ گروہ نے کیا ہے۔ جرح سننے سے پہلے فیصلہ دے دیا کہ یہ مسلمانوں نے کیا ہے۔ لندن پولیس ابھی کسی کے بارے میں بولنے سے پرہیز کررہی ہے اور ہم ہیں کہ ساری ذمہ داری اپنے اوپر لے رہے ہیں۔

سید جبران علی، کراچی:
یہ کام جس کسی نے بھی کیا ہے بہت قابل مذمت ہے، اور میرا کہنا یہ ہے کہ جو کوئی بھی ان کا پتہ چلنے پر ان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے کیوں کہ یہ کام کرنے والے خود انسان کہلانے کے قابل نہیں ہیں۔

اولیویا، ہمیپشائر، انگلینڈ:
جمعرات کو لندن میں جو کچھ ہوا وہ صدمے کی بات ہے۔ میری عمر تیرہ سال ہے اور میں ایک دن پہلے اسی وقت اسی ٹرین پر تھی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ جمعرات کے بجائے بدھ کے دن سفر کی۔ اس دہشت گرد کارروائی سے جو لوگہلاک ہوئے ان کے لئے مجھ کافی صدمہ ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ لوگ صرف زندگی تباہ کرنے کے عزائم کیسے رکھتے ہیں۔ میری ہمدردیاں ان کے لئے ہیں جو اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔

عارف جبار قریشی، سندھ:
برطانیہ کو اولمپِک کی میزبانی مل گئی تھی، ہوسکتا ہے یہ بات دوسرے ملکوں کو پسند نہ آئی، ویسے دہشتگردی کے ہر واردات کو القاعدہ سے منسوب کرنا امریکہ، برطانیہ، اسرائیل دیگر مسلمان ملکوں کی عادت بن گئی ہے۔ ویسے تحقیقات ہونی چاہئے پھر جو بھی ملوث ہو اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ دہشتگردی کسی بھی مذہب میں قابل نفرت عمل ہے۔

ساجد احسن، ابوظہبی:
جو غلط ہے وہ غلط ہے، اسلام تو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی کسی کو جان سے مارے۔ اسلام تو ہم کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ چاہے وہ ہندو ہوں یا پھر مسلم یا کسی بھی مذہب سے ان کا تعلق ہو۔ لیکن کیا امریکہ جو عراق میں اور افغانستان میں کررہا ہے کیا صحیح ہے؟ وہ بھی تو غلط ہے۔

مائیک، ہیرو:
جمعہ کے روز ہزاروں لوگوں کو کام پر جاتے ہوئے دیکھ کر، بس اور ٹیوب پکڑتے ہوئے، سائکلنگ کرتے ہوئے، دیکھنے سے حملہ آوروں کو ایک واضح پیغام ملے گا کہ لندن میں رہنے والے تم سے ڈرنے والے نہیں، وہ سر نہیں جھکائیں گے۔ تم کامیاب نہیں ہوگے!

شفیق عالم برقی، پشاور:
افغانستان اور عراق میں ہونے والے دھماکوں سے یہ دھماکے کافی چھوٹے ہیں۔

ریاض حسین، چترال:
مجھے ایسے واقعات جو کہیں بھی ہوں وقوع پزیر ہوں افسوس ہوتا ہے۔ مغرب کو چاہئے کہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔ مسلمانوں سے میری گزارش ہے کہ مغرب کی اسلام کے بارے میں کم علمی اور نتیجے کے طور پر ان کے منفی رویے کا جواب حلیمی، بردباری اور بہترین انسانی اور اسلامی روایات کے مطابق دیں، نہ کہ خود کش بم حملوں سے جو کہ سراسر اسلام کی تعلیم کے منافی ہیں۔ میری دعا ہے کہ انسان انسان بن کر روئے زمین پر زندہ رہنے کی۔۔۔۔ (واضح نہیں)

ذیشان صدیقی، کراچی:
نہیں، مجھے اس کی خوشی ہے۔

سریر خالد، سرینگر:
اس طرح کے حملے یقینی طور پر دکھ کی بات ہیں کیوں کہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں لیکن مذمت کرنے سے پہلے ان حملوں کی وجوہات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایمی واشِنگٹن، فنسبری پارک:
میں کِنگس کراس والی ٹرین پر تھی جو تباہ ہوگئی۔ میں مِڈل والے ڈبے میں تھی۔ ٹیریبل تھا۔ ہم وہاں تیس منٹ تک پھنسے تھے جو ایک عرصہ محسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ میں مرنے والی ہوں۔ پھر ہم نے ٹنیل سے پیدل چلنا شروع کیا۔ میں رونے چلانے کی آوازیں نہیں بھول سکتی۔ ڈرائیور انٹرکام پر آیا لیکن وہ کچھ نہیں کہہ سکا۔ میری ہمدردی سب کے ساتھ ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ میں زندہ ہوں، مجھے صدمہ ہے، افسوس ہے۔ میں کہہ نہیں سکتی کہ میرے ذہن میں کیا کیا خیالات آئے، مجھے لگا کہ میں اپنے دوستوں اور فیملی کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گی، میں خوش قسمت ہوں۔ میں تمام ایمرجنسی سروسز کا شکریہ ادار کرتی ہوں کہ انہوں نے بہت کچھ کیا، مجھے برِٹش ہونے پر فخر ہے، کافی وقت لگے گا جب میں پھر ٹیوب سے سفر کرنا شروع کروں گی۔ میں بیان نہیں کرسکتی کہ اتنی دیر تک زیرزمین ٹرین میں پھنسے رہنے کا احساس کیا تھا۔ میں دعا کرتی ہوں کہ ان بزدلوں کو جنہوں نے یہ کام کیا انصاف ملے، انہیں بھی یہی اذیت ملنی چاہئے جو مجھے اور اس ٹرین پر موجود لوگوں کو ملی۔

مقصود عبداللہ، کویت:
یہ کافی دل دکھانے والی کارروائی ہے، پرامن قوم کے خلاف۔ ہم المائٹی سے دعا کرتے ہیں کہ لندن کو تحفظ فراہم کرے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
یہ ایک افسوسناک امر ہے جو کچھ بھی ہوا لندن میں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی افسوسناک ہے جو کچھ بھی ہورہا ہے عراق، فلسطین اور افغانستان میں۔ لیکن دنیا میں یہ ڈبل اسٹینڈرڈ جو ویسٹرن بینیفِٹس کے لئے لڑررہا ہے وہ فریڈم فائٹر ہے اور جو اگینسٹ لڑ رہا ہے وہ ٹیرورسٹ ہے۔ ہم کو ایک موٹِو اپنانا ہوگا وہ یہ کہ جہاں بھی بےگناہ کا خون بہے گا وہ ٹیرورِزم ہے اس کو کسی بھی طرح سے فریڈم فائٹر نہ کہا جائے ان سب کا ایک نام ہو ٹیرورِسٹ۔ تب شاید ہم اس نجات حاصل کرسکیں۔

ذیشان علی، جدہ:
جو کچھ بھی ہوا جیسا بھی ہوا، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسا تو ہم ہر وقت نیوز میں سنتے ہیں کہ آج عراق میں اتنے بلاسٹ سے مر گئے، آج افغانستان میں اتنے مرگئے۔ میرے خیال میں مرتا کوئی گورا یا مسلمان نہیں بلکہ مرتے تو انسان ہیں چاہے مرنے والا کوئی بھی ہو۔ خیر میرے خیال میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے بجائے دہشت گردی کے اسباب کو ختم کرو۔

محمد ملک، قطر:
مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ دھماکے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ لوگ مسلمانوں کو ہی کیوں بدنام کررہے ہیں؟ جب بھی کچھ ہوتا ہے بغیر تحقیق کے صرف مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مجھے لگتا کہ کوئی صحیح تحقیقات نہیں ہورہی۔

خالد محمود، کینیڈا:
اسپین، امریکہ اور لندن میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ان حملوں کو کسی صورت نہیں روکا جاسکتا۔ جیو اور جینے دو کے اصول پر کاربند ہوکر ہی لندن، نیویارک، عراق، فلسطین، کشمیر اور ایسے دوسرے علاقوں میں قتل عام بند ہوسکتا ہے۔ اسلام ہو یا عیسائیت کا کوئی اور مذہب، معصوم کو قتل کرنے کی اجازت کسی مذہب میں نہیں ہے۔ لیکن آج کوئی بھی اپنے مذہب کی تعلیمات کی طرف نہیں دیکھتا۔ یہ یقینا قربِ قیامت کی علامات ہیں۔

عابد نقوی، بوسٹن، امریکہ:
تمام عالم اسلام کو اسامہ بن لادن اور اس کے پیروکار اور اس کے ماننے والوں سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہئے کیوں کہ یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔

آصف صدیقی، ٹورانٹو:
سلام، ایک اور پلان گیارہ ستمبر کی طرح، کاش اب تو لوگ سمجھ جائیں کہ یہ کون ہے۔ جو امریکہ برطانیہ بولتا ہے وہ سب سمجھتے ہیں، اصل چیز کوئی نہیں دیکھتا۔ یہ تو کنفرم ہے کہ یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ ہاں دو چیزیں ہیں جس پر پلیز آپ سوچیں، پہلی وجہ امریکہ برطانیہ کی عراق میں ناکامی ہورہی ہے تو اس کی وجہ بنانے کے لئے ان کا اپنا کام ہوسکتا ہے، لیکن کوئی مانے گا کیوں کہ گیارہ ستمبر بھی کسی نے نہیں مانا کہ امریکہ نے خود کیا ہے۔ دوسری وجہ وہ لوگ نہیں چاہتے کیوں وہاں اولمپِک ہوں وہ اس شہر کی حالت خراب کرسکتے ہیں کہ یہ ملک اولمپک کے قابل نہیں ہے۔ آخر پچاس بلین کا بزنس ہے اور پلیز مسلمانوں کا نام کم سے کم خود نہ لیں کیوں کہ القاعدہ بھی امریکہ کی ہی تنظیم ہے۔۔۔۔

نامعلوم:
یہ دھماکے آپ لوگوں نے خود کیے ہیں، آپ مسلمانوں کو بدنام کرتے ہو۔۔۔

محمد رضوان میمن، امریکہ:
میں، محمد رضوان، معصوم لوگوں کے خلاف اس طرح کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں، چاہے وہ لندن یا نیویارک یا کابل یا بغداد یا اسپین میں رہتے ہوں۔

خان، پاکستان:
میں بہت خوش ہوں۔

اسفین علی، کراچی:
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام بےگناہ عوام، عورتوں اور بچوں کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، چاہے وہ جنگ میں ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں کوئی حق نہیں کسی کو اسلام سے خارج کرنے کا۔ آپ سب تو ترقی یافتہ ملکوں میں عزت سے زندگی گزار رہے ہیں، ان معصوم لوگوں کا کبھی سوچا جو روزانہ کشمیر، فلسطین، افغانستان، عراق اور نہ جانے کہاں کہاں مارے جارہے ہیں۔ ہم سب خود غرض ہیں۔ صرف اپنی آسانی سوچتے ہیں۔

احمد معین، برازیل:
اسلام علیکم، میں لندن میں ہونے والے بم حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں اور ان کو گرفاتر کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایسے لوگوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
برطانیہ کے مسلمانوں کو دبانے اور ان پر شکنجہ مزید کسنے کے لئے اپنے معصوم لوگوں کو مارکر ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ نے اپنے چار ہزار معصوم عوام کو مارکر افغانستان اور عراق کو کچلنے کی ڈرامہ بازی کی تھی۔ دنیا کے لوگوں کو اب ان دونوں ممالک کی شاطر اور شیطانی چالیں سمجھ لینی چاہئیں۔ مفت میں اسلام کو یوں ہی بدنام کررکھا ہے۔ اسلام تو سلامتی کا مذہب ہے۔

وقار خان، ٹورانٹو:
کسی مسلمان ملک میں ہوتا تو کیا ہوتا، کچھ بھی نہیں۔ بش اور ٹونی بلیئر کہتا ہمیں بہت افسوس ہوا۔ اور ابھی جب لندن میں دھماکہ ہوا تو انہوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ ہر روز افغانستان اور عراق میں بےگناہ مارے جاتے ہیں ان کا کیا ہوگا، ان کے ساتھ ہمدردی کون کرے گا، اگر برطانیہ کے لوگ مرے تو پوری دنیا افسوس کرے گی۔

معظم، مانچسٹر:
لندن میں دھماکوں کا سنتے ہی پوری دنیا نے اسے مسلمانوں کی حرکت قرار دینا شروع کردی۔ اور اس بی بی سی کی آپ کی آراء میں بھی سب نے یہی کہنا شروع کردیا کہ یہ مسلمانوں کی حرکت ہے، وہ مسلمان نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اللہ کے بندو تمہیں کیا پتہ کہ یہ مسلمانوں نے کیا ہے؟ کم سے کم پتہ تو چلنے دو کہ یہ کیا کس نے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسوسناک خبر ہے، مگر یوں ہی بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانے کی تو اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے، پھر ہم کیوں ان کی روش پر چلیں؟ ضروری تو نہیں کہ یہ سب مسلمانوں نے کیا ہو؟ اسرائیل بھی کرسکتا ہے، یورپ کے ممالک کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کے لئے۔ برادر، اس کےبارے میں سوچیں۔

رانی مرزا، مکہ:
یہ سب مجھے امریکہ کی پلاننگ لگتی ہے کیوں کہ امریکہ کو عراق اور افغانستان میں کافی پریشانی ہے۔ اس نے اس لئے کیا ہے تاکہ دوسرے ملک بھی اس کے مزید تعاون کریں۔باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔

شاہوار اکبر، لاہور:
خدا تعالیٰ اتنے معصوم لوگوں کی جانیں لینے والوں کو غارت کرے۔

مسعود رحمان، امریکہ:
جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے، ہر طرف سے آوازیں آنے لگتی ہیں کہ اسلام یہ نہیں سیکھاتا، یہ مسلمانوں کا کام نہیں، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ سب درست نہیں تو کون کرتا ہے یہ سب کچھ؟ کیا عراق میں معصوموں کو ذبح کرنے والے مسلمان نہیں؟ کیا قبائلی پناہ گاہوں میں چھپے مسلمان نہیں؟ اور کیا گیارہ ستمبر کا ہولناک کھیل کھیلنے والے مسلمان نہیں تھے؟ مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور امن سکھاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو موت کا یہ کھیل ہم ہر روز نہ دیکھتے، آخر مسلمان ہر افسوسناک واقعہ پر اپنی بےگناہی کا رونا کیوں روتا ہے اور اپنے اسلام کے دفاع کی رٹ کیوں لگانا شروع کردیتا ہے؟ دال میں کچھ کالا ضرور ہے لیکن مسلمانوں کو دکھائی نہیں دیتا۔

رضا جاوید ہزارہ، کوئٹہ سٹی:
میرے خیال میں ڈیوِل پارٹی القاعدہ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ فولِش قدم ہے۔ القاعدہ کا کہنا ہے کہ جو مسلمان نہیں وہ ڈیوِل ہیں۔

معین ملک، راولپنڈی:
یہ جو کچھ بھی ہوا انسانیت پر ظلم ہوا۔ ایسا کرنے والوں کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پر یہ عناصر کس وجہ سے پیدا ہوئے، سوچنے کی ضرورت ہے طاقت کا استعمال مسئلے کل حل نہیں ہوسکتا۔

محمد پرویز اختر راؤ، دوحہ:
ہم نے پاکستانی کمیونٹی کے ذریعے منتظم ہونے والے پروفیشنل ٹوسٹماسٹر کی آج میٹنگ کے دوران اس دہشت گرد واقعے کی مذمت کی۔ سبھی اس بات پر متفق تھے کہ اس سے مسلمانوں کے کاز کا بھلا نہیں ہوگا، اس سے اسلام کی امیج خراب ہوگی، اس لئے اسے مسلمانوں کا اقدام تصور نہیں کیا جانا چاہئے، اسے صرف دہشت گرد واقعہ سمجھنا چاہئے۔

ناصر محمود، بون، جرمنی:
اگر یہ چند انتہاپسند مسلمانوں کی کارروائی ہے تو یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کو اس کے دور رس نتائج سے بھگتنا پڑے گا۔ اس سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی آئیسولیشن مزید بڑھے گی۔ بلاشبہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ خدا ان لوگوں کو جنت نصیب کرے جو اس میں ہلاک ہوئے۔

عمران شاہد، بریڈفورڈ:
اس المناک سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ میری تمام تر ہمدردی ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں سے ہے۔ یہ ایک بزدلانہ فعل ہے۔ اور ناہی اس واقعے کو اسلام کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں کیوں کہ اسلام کبھی بھی اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا اور دین اسلام تو یہ کہتا ہے کہ ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے۔ اور ایک انسان کوقتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لہذا اس میں جو بھی ملوث ہے اسے عبرتناک سزا ملنی چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پوری دنیا کا امان آخر کیوں خطرے میں ہے؟ اقوام متحدہ کو ضرور سوچنا چاہئے یہ سب آخر کیوں ہورہا ہے۔ کیا عراق، افغانستان، فلسطین میں بھی تو بےگناہ انسانوں پر آگ اور بارود برساکر ہلاک کیا جارہا ہے، کیا وہ انسان نہیں ہیں؟

عاطف حسین، پاکستان:
جو کچھ لندن میں ہوا ہے وہ ری۔ایکشن ہے فلسطین کا عراق کا، افغانستان کا، مغرب کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔۔۔

محمد الیاس گوپانگ، پنڈی:
ایک انسانیت کے ناطے، جو کچھ بھی ہوا انسانیت پر ظلم ہوا۔ مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس فورم میں ہر دوسرا بندہ مسلمانوں کے نام کیوں لے رہا ہے؟ شرم آنی چاہئے ایسے مسلمانوں کو، بغیر کسی ثبوت کے اپنا ہی نام لے رہے ہیں۔ کیا بم بلاسٹ اسرائیل نہیں کرواسکتا؟

فدا حسین، کینیڈا:
گیارہ ستمبر کے دن میں ایک ہوٹل میں تھا، اس دن صبح منیجر، جو کہ میرا دوست تھا، نے نوٹس کیا کہ میں کچھ پریشان ہوں، شرٹ گم ہوگیا تھا، نائٹ گاؤن بھی۔۔۔ اس نے تلاش کیا اور پوچھا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں نے کہا سب ٹھیک ہے لیکن کچھ برا ہوا ہے۔ جمعرات کی صبح لندن دھماکوں کی پہلی نیوز تھی کہ ٹیوب میں الیکٹرِک فالٹ ہے، بعد میں المیے کا اندازہ ہوا، لیکن پوری شب میں سونہ سکا،۔۔۔۔(واضح نہیں)

محسن علی، کراچی:
نہ معلوم اس طرح کتنے لوگ روزانہ اس ہی طرح بم بلاسٹ میں مارے جارہے ہیں، آج یقینی لندن کے لوگوں کو اس تکلیف کا تھوڑا سا اندازہ ہوا ہوگا جس تکلیف سے روزانہ عراق کے لوگ گزرتے ہیں۔

شاہد مرزا، لیاقت آباد:
لندن میں بم دھماکہ ایک بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے۔ دہشت گردی کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے۔ لیکن یہ بم دھماکے کس نے کیے ہیں، کس کو نہیں معلوم، سب ایک ہی بات کرتے ہیں، القاعدہ نے کیے ہیں۔ آج کوئی غیرمسلم یہ کہتا ہے میرا القاعدہ سے تعلق ہے اور یہ دھماکے ہم نے کیے تو ساری دنیا اس پر یقین کرلے گی۔۔۔

نوید عاصم، جدہ:
مجھے تو ان جاہل مسلمانوں پر افسوس ہورہا ہے جو خود ہی اس حملے کو مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ ابھی تو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کس نے کیے ہیں یہ حملے۔۔۔۔

عبدالقیوم خان، سنگاپور:
شیر اگر انسان کو مارے تو وہ درندہ ہے۔ انسان اگر شیر کو مارے تو وہ شکاری ہے۔ مجھے اس بات کا بڑا افسوس ہے جو کچھ بھی لندن میں ہوا ہے۔ لیکن کاش اگر یہ افسوس ٹونی اور بش کو بھی عراق اور افغانستان میں ہوجاتا تو لندن میں یہ دن کبھی نہ آتا۔

امین لغاری، دادو:
یہ بھی بہت برا ہوا اور جو بغداد میں ہورہا ہے وہ بھی بہت برا ہورہا ہے۔ ہماری ہمدردیاں مرنے والوں کے ساتھ ہیں۔

محمد حسین، بروکلین:
میں ذاتی طور پر شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ بش اور بلیئر کے ذریعے دنیا میں ہلاکتوں کے بدلے کی یہ کارروائی ہے۔۔۔

اندر کشن تھاڈانی، حیدرآباد:
جو بھی ان دھماکوں میں ملوث ہے اس کا مقصد معصوم لوگوں کو ڈرانا اور اپنی دھاک بیٹھانے کی کوشش کرنا ہے۔ پر جن لوگوں نے یہ حملے کیے ہیں وہ یہ جان لیں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ صرف ان چند ملکوں کی وجہ سے ہی برطانیہ میں موجود مسلمانوں کی تذلیل کی جارہی ہے اور آج ریڈیو سنتے ہوئے مجھے اس بات کا دکھ ہوا کہ معصوم مسلمانوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا اب ملے گی۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ میری اسٹافرڈشائر یونیورسٹی کے اڈیمشن پروسیس کا کیا ہوگا جو کہ میں اپلائی کرنے کا سوچ ہی رہا تھا۔

ذیشان اجمل، ملتان:
مجھ پر یقین کریں، یہ ایکشن نہیں، ری۔ایکشن ہے۔

شریف زدران، جرمنی:
جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا، یہ کام جو بھی کرتا ہے وہ اچھا نہیں کرتا۔ اگر وہ مسلم ہو یا غیرمسلم ہو، اس طرح بےگناہ معصوم لوگوں کی جان لینا کوئی مذہب نہیں کہتا۔۔۔

فاروق خان، کویت:
مجھے اس واقعے کی رپورٹنگ دیکھ کر تعجب ہوا ہے۔ اس واقعے کے فوری بعد ہم نے ایک خبر پڑھی کہ اسرائیل نے برطانوی حکومت کو ممکنہ حملکوں کے بارے میں وارننگ دی تھی۔ اس سے ہمیں اس لڑکی کی بات یاد آتی ہے جو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ کہتی ہے: کل ہم میں سے ایک یا نہیں ہوگا، دوسرے دن وہ وہاں نہیں تھی۔۔۔۔۔ مجھے سرپرائز ہے کہ بی بی سی نے اس اسرائیلی وارننگ کے بارے میں خبر نہیں دی۔

مجاہد بٹ، پاکستان:
برطانیہ اور امریکہ نے افغانستان اور عراق میں ہزاروں لوگوں کو ہلاک کردیا اور یہ اس کا رژلٹ ہے۔ پلیز اپنی پالیسیاں تبدیل کریں، یہ نہ سوچیں کہ لوگ آپ کے خلاف ہیں۔

عدنان فیاض بٹ، سیالکوٹ سٹی:
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ اچھا ہوا یا بہتر ہوا۔

محمد وقاص علی، ڈیرہ غازی خان:
میں پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں، یہ بات بہت افسوسناک ہے، انسان انسان کا دشمن ہوگیا ہے، جانور اور انسان میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ ہمارا دین اسلام ہمیں یہ سبق نہیں دیتا کہ وہ بےگناہ لوگوں کا قتل و غارت کریں۔ دین اسلام تو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قلت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو تو تمام مخلوق سے برتر کہا ہے۔ اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی پھر یہ جانوروں والی ۔۔۔۔(واضح نہیں)۔

راشد اقبال، دمام:
بلیئر اور بش کو اب معلوم ہے کہ تمام لوگوں کی زندگی مساوی اہمیت کی ہے، افغانوں کی، عراقیوں کی، کشمیریوں کی، فلسطینیوں کی۔ وہ ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ دہشت گردانہ کارروائیاں جائز ہیں۔

خالد ریاض، امریکہ:
مسلم ملکوں میں تو ایسے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن کبھی اتنی کوریج نہیں ملی۔ شاید مسلم کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔

نوید خان، ایسٹ لندن:
مجھے پکا یقین ہے کہ یہ اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا کام ہے۔ کچھ دن قبل میں نے ٹی وی پر ایک ڈاکومنٹری دیکھا جس میں اسرائیلیوں نے بتایا کہ انہوں نے پوری دنیا میں کیسے دشمنوں کا قتل کیا گزشتہ چالیس برسوں میں۔ میرے خیال میں لندن بلاسٹ اسرائیلی کارروائی کی طرح کا ہے، تاکہ مسلمانوں پر ذمہ داری ٹھہرائی جائے۔۔۔۔

سبوخ سید صبیح، اسلام آباد:
اگر ہمیں جینے کا حق نہیں ہے، تو ہم آپ کو جیتے کیسے دیکھیں؟۔۔۔۔

اعجاز اعوان، کراچی:
لندن دھماکوں کے اصل مقصد پر اگر غور کیا جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ اسلامی جہادی تنظیموں کو یہاں بم بلاسٹ کرکے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ لندن میں تو عراق کے معاملے پر عوامی رائے عراقی لوگوں کے ساتھ ہے جہاں روز ہی اس طرح کے بم بلاسٹ ہوتے ہیں۔ ان پوائنٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تو یہی کہوں گا کہ یہاں کوئی تھرڈ پرسن ہے جو یہ سب کچھ کروا رہا ہے، بات صرف غورت کرنے کی اور آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ہے۔ اسلام میں تو انتہائی سختی سے بےگناہوں کا خون بہانے سے منع کیا گیا ہے لہذا اگر کوئی ان بم بلاسٹ کو اسلامی جہاد سمجھتا ہے تو وہ انتہائی بیوقوف انسان ہے۔

ایم عرفان ڈار، راولپنڈی:
بہت دکھ ہوا، پاکستان میں ہر مرد اور عورت بےگناہ لوگوں کے قتل کے بارے میں فکر مند ہے۔

آصف منہاس، ٹورانٹو:
جس نے بھی یہ دھماکے کیے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اگر کوئی مسلمان کہلانے والی تنظیم اس میں ملوث ہے تو بہت زیادہ قابل مذمت ہے کیوں کہ یہ لوگ رحمت اللعالمین کا نام بدنام کررہے ہیں۔

سمینہ یاسمین، آکسفرڈ:
میں لندن میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتی ہوں۔ ہم ایک متاثر قوم ہیں، میں یقین کرتی ہوں کہ یو کے گورنمنٹ اسلام پر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالے گی۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ دہشت گرد مسلمان ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد ہیں۔ اسلام دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

وقاص خان، سیالکوٹ:
پہلے کی طرح پاکستانیوں کا برا وقت آگیا ہے۔

شہریار ارشد منظور، اسلام آباد:
جب کشمیر میں، عراق میں، اسرائیل میں، بوسنیا میں، چیچنیا میں لاکھوں مسلمان مارے جارہے ہوتے ہیں، اقوام متحدہ کہاں ہوتا ہے؟ دونوں جانب دیکھیں۔

کامل خان، پشاور:
چاہے یہ مسلمانوں نے کیا ہے کہ نہیں لیکن نام مسلمانوں کا ہی لیا جارہا ہے۔

کاشف اقبال عامر خان ایڈووکٹ، کراچی:
میں لندن بم بلاسٹ دھماکوں کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ روزانہ افغانستان اور عراق میں کتنے بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں اس پر تو کسی کو بھی مذمت کرنے کی جرات نہیں ہوئی، جب امریکی بمباری سے عراقی اور افغانی مارے جارہے ہیں۔۔۔۔

آصف احمد، کراچی:
یہ کافی صدمے کی بات ہے، لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ انسانوں کا قانون ہے۔ برطانوی لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ دوسری قوموں کے ساتھ کیا کررہے ہیں، یہ بدلے کی کارروائی ہے۔۔۔۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
یہ جو کچھ بھی ہوا بہت غلط اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایسی ہرکتیں کرنے والے مسلمان تو دور کی بات انسان بھی کہلانے کے حقدار نہیں۔ اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے معصوم لوگوں کا خون کرنا انتہائی گھٹیا بلکہ بیمار ذہنیت کا ثبوت ہے۔

کے، کراچی:
لندن اور پوری دنیا میں معصوم لوگوں کے لئے یہ دکھ کی بات ہے۔

مہتاب خان، آسٹریلیا:
کل سے سارے ٹی وی چینل پے ان دھماکوں کی خبریں نشر کی جارہی ہیں۔ آپ یقین مانیں ٹی وی پے جو مناظر آرہے ہیں وہ اتنے ہولناک اور دردناک ہرگز نہیں جتنے عراق اور افغانستان میں نظر آتے ہیں۔ مانا کچھ بےگناہ لوگ مارے گئے مگر کیا ان آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کی قیمت ان تھوک کے حساب سے معصوم اور بےگناہ لوگوں سے زیادہ ہے جن کے لئے عالمی برادری کے پاس کوئی ایک بھی ہمدردی کا لفظ نہیں جو کہ کل سے ایسے ہمدردی اور تعزیت کے الفاظ برسا رہے ہیں۔۔۔۔

اصلی خان، تونسہ:
اس واقعہ کے ذمہ دار گورنمنٹ ہیں کہ اتنی ہارڈ سکیورٹی میں دہشت گردی ہوئی ہے۔

مراد خان یوسفزئی، منامہ:
آج اس دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیوں کہ ان دھماکوں میں سب بےگناہ لوگ مارے گئے ہیں۔ ان سب کی ذمہ داری بش اور بلیئر پر عائد ہوتی ہے اگر وہ دونوں مسلمانوں کا خون نہیں بہاتے تو آج امریکہ اور یو کے کے لوگوں کی خون نہیں بہتی۔ انسان جو کرتا ہے اسی کا پھل اسی کو ملتا ہے۔

احسان چیما، گجرانوالہ:
یہ ٹونی کی پالیسی کا ردعمل ہے۔

ثاقب احمد، اسلام آباد:
میں اسلام کے نام پر ہونے والی اس طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں۔ اس کی وجہ سے مخالفین کو اسلام پر آواز اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس طرح کی خبر پڑھ کر مجھے غصہ آتا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ اور امریکہ کو برطانیہ کی عراق جنگ میں حمایت کی وجہ سے ہے۔

رحمت علی، کرک:
ادلے کا بدلہ۔

خالد عزیز، پاکستان:
جس طرح یو کے کو یو ایس اے کے لئے تکلیف ہوئی تھی اسی طرح شاید ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہوگی جب فلسطین، افغانستان، عراق، کشمیر، چیچنیا میں مسلمان مرتے ہیں۔ ان سب واقعات کے ذمہ دار ٹونی بلیئر اور بش ہیں۔ یو ایس اے اور یو کے کے عوام کو چاہئے کہ ان دونوں کو اقتدار سے ہٹا دیں۔

عام نواز، چکوال:
جب تک عراق اور افغانستان جلتا رہے گا یہ تو جاری رہے گا۔

محمد قریشی، لندن:
یہ سب مجھے ایک خواب سا لگ رہا تھا۔ میں یونیورسٹی جانے کے لئے ایلڈ گیٹ اسٹیشن پر پہنچنے والا ہی تھا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی اور ہر طرف ایک افراتفری شروع ہوگئی۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ لندن میں بھی یہ دیکھنے کو ملے گا۔ اب وہی امریکہ والا مسئلہ ہم مسلمانوں کے ساتھ۔۔۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور سب کو صحیح ہدایت دے۔

محمد ابیر خان، چترال:
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔

رفاقت محمود، پاکستان:
یہ برطانیہ اور امریکی حکومت نے کرایا ہے۔ وہ اس کا تعلق عراق میں تحریک مزاحمت سے جوڑیں گے اور اپنے عوام کو یہ دکھائیں گے کہ انہیں انہی کے ملک میں کچل دیں۔

عادل شہزاد سردار، پاکستان:
جن لوگوں نے ایسا کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اس طرح کے برے کام مسلمان نہیں کرتے۔

محمد:
یہ اہم نہیں ہے کہ کس نے یہ سب کیا ہے، بلکہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔ آج اس پر روشنی اس لئے ڈالی جارہی ہے کیوں کہ یہ لندن میں ہوا۔ میں نے اس طرح کے ہیڈلائن نہیں دیکھے جب فلسطین، کشمیر اور عراق اور چیچنیا اور افغانستان میں اس طرح کے واقعات ہوئے۔ جب دنیا کے رہنما مثبت طور پر سوچنا شروع کردیں تو یہ مسائل ختم ہوجائیں گے۔

عثمان غنی، خان پور:
مسلمان اس طرح کا کام نہیں کرتا کہ وہ معصوم لوگوں کو مارے۔

نقاش الدین، کراچی:
وہ مسلمان نہیں ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی مسلمان بغیر کسی وجہ کے جان لے سکتا ہے۔ یہ حقیقی اسلام نہیں ہے۔ اسلام امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔

محمد کامران خلیل، پشاور:
میرے خیال میں یہ دہشت گردی نہیں ہے، یہ اولمپِک گیمز یا جی ایٹ کی وجہ سے ہے۔ مسلمانوں کو بدنام نہ کریں کیوں کہ مسلمان ایسا نہیں کرسکتے۔

عبدالعزیز، ریاض:
یہ ایک بزدلانہ حرکت ہے۔ کیا اسلام بے گناہوں کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟ بالکل نہیں۔ بدقسمتی سے یہ دہشت گرد اور مجرم خود کو مسلمان کہتے جبکہ اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ قاتل ہیں، مسلمان نہیں۔

سمیر، مصر:
کچھ بھی بے گناہوں کے قتل کو جائز نہیں بناتا۔

محمد صدیق، لندن:
یہ جو کچھ ہوا، اچھا نہیں ہوا۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔ اسلام بے گنہاوں کے قتل کی سخت مذمت کرتا ہے۔ مسلمانوں کو اس سانحہ کا درد زیادہ محسوس ہوگا کیونکہ ہم دنیا کے دیگر حصوں میں یہ سہہ چکے ہیں۔ میں جائے واردات کے بہت قریب رہتا ہوں۔ عام طور پر اسی وقت پر، اسی ٹرین سے سفر کرتا ہوں۔ کل میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے میں کام پر نہیں گیا۔ اللہ نے میری جان بچا لی۔

محمد قریشی، لندن:
یہ سب مجھے ایک خواب سا لگ رہا تھا۔ میں یونیورسٹی جانے کے لیے آلڈگیٹ سٹیشن پر پہنچنے والا ہی تھا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی اور ہر طرف ایک پینک شروع ہو گیا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ لندن میں بھی یہ دیکھنے کو ملے گا۔ اب وہی امریکہ والا مسئلہ ہم مسلمز کے ساتھ یہاں بھی۔۔۔اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور سب کو صحیح ہدایت دے۔۔۔آمین

دانش نقوی، لندن:
ان لوگوں کی اس حرکت کی وجہ سے مجھ جیسے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے اور دن نہ دکھائیں اور انسان کو زندگی کی قدر کرنے کی توقع دے۔

عمران بھٹ، الفرڈ، برطانیہ:
یہ بربریت ہے۔ جنہوں نے بھی یہ کیا ہے انہیں انسانی زندگی کی کویی قدر نہیں ہے۔ یہ صرف لندن کے خلاف نہیں بلکہ تمام انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ ہم سب کو مل کر اس تباہی کے خلاف لڑنا چاہیئے۔

ماجد، فلسطین:
یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ انہوں نے ہی تو بن لادن کو بنایا۔

ابو زین، لبنان:
میں نے اس تنظیم کا بیان پڑھا جنہوں نے ان شرم ناک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ عورتوں اور بچوں کو ہلاک کرنے والے مجرموں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتے۔

منا سکندر، مصر:
ان حملوں سے بربریت کی بو آتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ کوئی بھی بے گناہوں کو اس بے دردی سے نشانہ کیسے بنا سکتا ہے؟

محمد، مصر:
اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کر رہے ہیں تو وہ بالکل غلط ہیں۔ میری ہمدردی برطانوی عوام کے ساتھ ہے۔

محمد اجمل، سمین:
یہ کون ہے جو یہ سب کر رہا ہے؟ مجھے نہیں لگتا ہے کہ وہ انسان ہے۔ جانور بھی ایسا نہیں کرتے۔ نہ جانے کتنے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، کتنے خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔ میرے پاس بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں جو عام آدمیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ انہیں یہ حق آخر کس نے دیا؟ یہ بہت غلط ہے۔

سہیل نیازی، پشاور، پاکستان:
جبراً اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر امپوز کرنا بالکل غلط ہے۔ میں ایسے گروہوں کی کسی حال میں حمایت نہیں کر سکتا۔ ان دھماکوں سے مجھے ڈیزی کٹر بم یاد آ گئے جن کا استعمال امریکہ اور برطانیہ نے افغانستان اور عراق میں کیا تھا۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں یہ حملے کبھی نہیں ہونے دیتا۔

یاسین، سیالکوٹ، پاکستان:
سب سے پہلے تو میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ گیارہ ستمبر کی طرح اس واقع نے بھی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمیں مستقبل میں ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ دنیا سے دہشت گردی کی وجہوہات کو ختم کیا جا سکے۔

فریڈی کاریلو، کراکس، وینزویلا:
کسی کی بھی بے وقت اور پر تشدد موت قابل مذمت ہے، خاص طور پر اگر وہ بے گناہ ہوں۔ مجھے لندن کے لیے بہت افسوس ہے۔ میں نے اس شہر میں کئی خوش نما لمحے گزارے ہیں۔

لارا ماریا، کولمبیا:
دو سال قبل میرے والد کا ایک کار بم حملے میں انتقال ہو گیا۔ اس حملے میں تیس اور افراد بھی ہلاک ہوئے اور کئی زخمی۔ میں تہہ دل سے یہ سمجھتی ہوں کہ کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کے ساتھ تکلیف کم ہو جاتی ہے۔ انسان بھولنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دل اس وقت متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔

جوس کاسٹیلو، کراکس، وینزویلا:
امریکہ اور برطانیہ نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں بے گناہوں کو قتل کیا ہے۔ پچھلے ہی ہفتے افغانستان میں امریکی بمباری سے عورتوں اور بچوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکہ صرف معافی مانگ سکا۔ مگر کسی نے افغانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ کیا ایک برطانوی عورت کی زندگی ایک افغان کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟ وہ لوگ جو بے گناہوں کا قتل کرتے ہیں ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہو سکتا۔

حامد، لندن:
افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ القاعدہ کے خلاف جنگ کو سنجیدگی سے نہیں لڑ رہا کیونکہ اسے لگتا ہے کہ افغانستان میں اپنی موجودگی بنائے رکھنے کے لیے اسے القاعدہ کی ضرورت ہے۔ جب تک امریکہ دسشت گردی کے خلاف لڑنے کی محض باتیں کرتا رہے گا اور کرے گا کچھ نہیں تب تک ہم دہشت گرد حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے، چاہے وہ میڈرڈ میں ہو، تہران میں، لندن میں یا بغداد میں۔ نہ جانے اگلا حملہ کہاں ہوگا۔

علی سلیمی، تہران:
غیر مسلح افراد کو ہلاک کرنے کی انسانی اور مذہبی نقطہ نطر سے مذمت کی جانی چاہیئے۔ جو لوگ مذہب کے نام پر لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں وہ دراصل مذہب میں یقین نہیں رکھتے۔ میری ہمدردی ان حملوں سے متاثر لوگوں کے ساتھ ہے۔

شاہرام، تبریز، ایران:
لندن میں ہونے والے یہ خوف ناک دھماکے پوری دنیا کو درپیش ایک بڑے مسئلے کی علامت ہیں۔ میں ان حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔

شاہد بٹ، لاہور، پاکستان:
ایسے نیٹورک کا جلد از جلد پتہ لگانا چاہیئے تاکہ آئندہ ایسی دہشت گردی سے بچا جا سکے۔

این چودھری، ٹوکیو، جاپان:
دھماکے جہاں بھی ہوں وہ قابل مذمت ہیں، لیکن مجھے یہاں رائے دینے والے حضرات کی ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ بنا کسی تحقیق کے کیوں مسلمانوں کا نام استعمال کر رہے ہیں؟

رؤف خان، کراچی، پاکستان:
جیسے کو تیسا۔۔۔

فرحان، کینیڈا:
ہر روز عراق میں کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں؟ ان کا کیا؟ ان لوگوں کا الزام کس پر ہے؟ وہ بھی ہم مسلمانوں پر ہی ہوگا؟

علی، کراچی، پاکستان:
آج لندن میں وہ ہی ہوا ہے جو ہر روز عراق میں ہوتا ہے۔ کیا ہمیں عراقیوں کے لیے بھی ایسے ہی رد عمل کا اظہار کرنا چاہیئے یا صرف لندن کے لیے؟

ثناء خان، کراچی:
یہ دھماکے کرنے والے مسلمان نہیں ہیں۔ ان کو بالکل بھی خیال نہیں کہ اس کا بدلہ صرف مسلمانوں کو دینا پڑے گا۔ پتا نہیں اب سٹوڈنٹ ویز ے کا کیا ہوگا۔

غزالہ:
انسان جو بوتا ہے اسی دنیا میں کاٹتا ہے۔

محمد ریاض خان، دبئی:
یہ بہت بڑا ظلم اور انسنیت کا قتل ہےآ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے پیارے نبی (صلعم) نے فرمیا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

اسمارہ آغا:
اللہ سے دعا ہے کہ جو لوگ مارے گئے ہیں انکی مغفرت ہو۔

سید سجاد، امریکہ:
یہ سراسر ظلم ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

احسان میران، کوپن ہیگن، ڈنمارک:
یہ بربریت ہے۔ دھماکے کرنے والے جو بھی ہیں اور ان کے جو بھی مقاصد ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں کا کوئی مذہب نہیں اور یہ لوگ انسان کے روپ میں جانور ہیں۔

عالمگیر بیگ، سویڈن:
مسلمان ایک مرتبہ پھر بدنامی کے زد میں ہیں لیکن یہ ایک بزدلانہ دہشت گردی ہے۔

شیردل، برمنگھم، برطانیہ:
شاید ان حملوں سے ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو اندازہ ہو کہ بغیر کسی وجہ کے اپنے پیاروں کا یوں ہی سڑکوں پر مارے جانا کتنا دردناک ہوتا ہے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
دھماکہ کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے۔ بے قصور لوگوں کو مارنا انسانیت نہیں ہے۔
دھماکے چاہے مغرب والے مشرق میں کریں یا مشرق والے مغرب میں ، قابل مذمت ہیں۔

شفقت ملہی، امریکہ:
میرا چھوٹا بھائی امتحان دینے لندن گیا ہوا ہے۔ اس کا ایک پیپر ملتوی ہو گیا ہے۔ وہ خوفزدہ ہے۔

خالد شائم، کینیڈا:
اسلام کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ جنہوں نے بھی یہ دھماکے کیے ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔ دعا ہے کہ برطانیہ کی حکومت معصوم مسلمانوں پر سختی نہ کرے بلکہ دہشت گردوں کو پکڑے۔

عامر اکرام، امریکہ:
معصوم شہریوں پر یہ ظلم دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

شائستہ خان، عرب امارات:
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی شکل کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، اس قسم کی کاروائیوں کو جہاد کا نام دے کر۔

فرخ، برطانیہ:
میں نے آج لندن میں وہی دیکھا جو میں ٹی وی پر روزعراق اور افغانستان میں ہوتے دیکھتاہوں۔

راشد رشی، کراچی:
اگر کوئی کہتا ہے کہ اس پر ظلم ہوا ہے اور وہ بدلے میں دوسروں پرظلم کرتا ہے تو کیا فرق رہ گیا دونوں میں۔

66آپ کی رائے
اسلام آباد میں مزار پر خودکش حملہ
66عراق کا ایک دن
عراق میں رہنے والوں کی کہانیاں۔۔
66آپ کی رائے
کیا پاکستان کی نظریاتی بنیاد سیکولر ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد