 |  بانئ پاکستان محمد علی جناح |
پاکستان کے دورے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی کےاس بیان نے کہ بانئ پاکستان محمد علی جناح سیکولر تھے، نے برصغیر کی سیاست میں ایک بہت بڑی بحث چھیڑ دی۔ اڈوانی کے بیان پر سخت گیر ہندو رہنماؤں نے اتنا بڑا ہنگامہ پیدا کیا کہ انہیں استعفیٰ دینا پڑا، اگرچہ بعد میں انہیں اپنا استعفیٰ واپس لینے کے لئے منالیا گیا۔ لیکن اڈوانی کے بیان کی وجہ سے برصغیر میں نظریۂ پاکستان پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریۂ پاکستان آخر تھا کیا؟ کیا وہ ایک سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے، یا ایک اسلامی ریاست؟ لگ بھگ چھ عشروں بعد پاکستان کیا ایک سیکولر ریاست ہے؟ یا مذہبی ریاست؟ ہم اس موضوع پر آپ کے خیالات شائع کرنا چاہتے ہیں۔ بی بی سی اردو ریڈیو پر ہم اتوار 12 جون کو اپنا خصوصی پروگرام ’ٹاکنگ پوآئنٹ‘ اسی موضوع پر منعقد کررہے ہیں۔ ریڈیو پر آپ کے سوالوں کا جواب جماعت اسلامی کے لیڈر منور حسن اور ممتاز مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی دیں گے۔ لیکن یہاں اس صفحے پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت ہم چاہتے ہیں کہ آپ کچھ کہیں۔ آپ کی نظر میں کیا پاکستان کی نظریاتی بنیاد سیکولر ہے؟ ہمیں اپنی آراء لکھ بھیجیں۔ اگر آپ اس موضوع پر آپ کی آراء طویل ہوئیں تو ہم انہیں مضمون کی شکل میں علیحدہ شائع کریں گے۔ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
جاوید جمال الدین، ممبئی: میں کچھ دنوں سے یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ جو جناح انیس سو انتالیس تک سیکولر تھے وہ اچانک کس وجہ سے دو قومی نظریے کے حامی ہوگئے؟ اڈوانی کے بیان کے بعد تمام غیر کانگریسی لیڈر ان کے بیان پر بحث کے حامی نظر آرہے ہیں اور قائد اعظم کے بجائے اس وقت کی کانگریس لیڈرشِپ کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے؟ فنیلا، سِڈنی: میرے خیال میں اس کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ پاکستان سیکولر ہے یا نہیں۔ جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے؟ علی سعد ملک، لاہور: اگر یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا تو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہم نے انڈیا میں کیوں چھوڑ دیا۔ اور اب پاکستان کے کئی سیاست دان ان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس ملک سے وفادار رہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔۔۔۔ عرفان سہیل ملک، چکوال: ہمارے قائد ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے قائد نے قرارداد میں جو نکات پیش کیے تھے اس میں سب کو آزادانہ حیثیت حاصل تھی اور سب اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتے تھے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہمارے قائد ایک سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے۔ کیوں کہ ہمارے مذہب اسلام میں تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں۔۔۔۔ شیریار خان، سنگاپور: پاکستان اور بھارت کی برطانیہ سے آزادی کے وقت جو ماحول اور جذباتی فضا تھی اس کا تقاضا تھا کہ انڈیا کے مسلمان اپنے لئے ایک خودمختار اور آزاد معاشرہ اپنائیں جہاں پر اسلامی طرزِ حکومت اور مذہبی آزادی ہو۔ ایسا ہی اندازِ حکومت بھارت نے بھی ہندو اکثریت کے لئے اپنایا ہے اگرچہ گاندھی جی نے ایسا کوئی پروگرام نہیں دیا تھا مگر بھارت میں بھی ہندو اکثریت کے لئے ہی قانون سازی اور ہندو مذہب کو برتری ملی ہے اور موجودہ دور میں بھی جاری ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں نے اپنے ملک کو ایک نظریے کے تحت بنایا مگر عملی طور پر وہ نظریۂ پاکستان کے برخلاف یعنی سیکولر ہوتے جارہے ہیں۔۔۔ عبدالحنان چودھری، فیصل آباد: پاکستان ایک اسلامِک اسٹیٹ ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک سیکولر اسٹیٹ ہے۔ اس کی بنیاد اسلام ہے۔ پاکستان ایک اسلامی کنٹری تھا اور اسلامی کنٹری رہا ہے اور رہے گا۔ اگر قائد اعظم سیکولر تھے تو اس کا پاکستان پر کوئی اثر نہیں ہے۔۔۔۔ اویس سید، یو اے ای: میری نظر میں پاکستان کی نظریاتی بنیاد سیکولر نہیں ہے کیوں کہ اگر سیکولر کنٹری ہی بنانا تھا تو پھر الگ کنٹری کی کیا ضرورت تھی، وہ انڈیا میں رہتے ہوئے اپنے سیکولر نظریات کو عملی شکل دے سکتے تھے۔۔۔۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: پاکستان کی نظریاتی بنیاد دو قومی نظریے کی بنیاد پر رکھی گئی۔ قائد اعظم ایک سیکولر ہی نہیں ایک اسلامی رہنما بھی تھے۔ علی احمد خان، اوہائیو، امریکہ: جناج فنڈامنٹلِسٹ نہیں تھے۔ وہ انڈین مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ملک چاہتے تھےجہاں قانون کے تحت سب کو مساوات اور انصاف فراہم ہو۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ کی کبھی بات نہیں کی۔۔۔۔ حسن بلوچ، ٹورانٹو: اس سوال کا جواب تو شاید جناح صاحب بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد اسلامی ہے یا سیکولر۔ اگر سیکولر ہے تو پھر پارٹیشن کی کیا ضرورت تھی؟ دو قومی نظریہ کیا تھا؟ اگر اسلامِک تھی تو جناح صاحب خود کس حد تک اسلام کو فالو کرتے تھے؟ پارٹیشن کے بعد پاکستان نے ایران، افغانستان یا کسی اور اسلامی کنٹری کے ساتھ ضم ہونا کیوں پسند نہیں کیا؟ اگر ایسا کرنا ضروری نہیں تھا تو بلوچستان پر قبضہ کیوں کیا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مقصد کیا تھا۔ شاید کچھ مسلم لیڈروں کا خوف کہ اگر پاکستان نہ بنا تو وہ لیڈر نہیں رہ پائیں گے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سارے کے سارے مسلمان مائگریشن کرکے پاکستان آجاتے تو ملک کا کیا حال ہوتا؟ اتنے وسائل تھے کہ سروائیو کرپاتا؟ ایسا لگتا ہے پاکستان بنانے کے پیچھے کوئی وژن، کوئی پلاننگ نہیں تھی۔ اسی لئے اتنے سالوں کے بعد بھی نہیں پتہ کہ بنا کس لئے تھا۔ پارٹیشن ہوئی، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو انڈیا کی نہیں، مسلمانوں کی ہوئی۔ ہاں اگر آج کل کے حالات کو دیکھا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ آرمی کے لئے بنا تھا۔ سب ملکوں میں آرمی ملک کے لئے ہوتی ہے، جبکہ یہاں معاملہ الٹا ہے: پاکستان آرمی کے لئے ہے۔ سعید جبار، میرپور: ہاں، محمد علی جناح سیکولر اسٹیٹ چاہتے تھے، اسلامی ریاست نہیں۔ سریر خالد، سرینگر: پاکستان اسلام کے لئے بنا تھا اور اسلام سیکولرزم سے مختلف ہے۔ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے، اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ایسی وجہ ہے جس سے ہم کہہ سکیں کہ پاکستان سیکولر ہے اور سیکولرزم کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ پھر بھی یہ ایک الگ کہانی ہے کہ آج کا پاکستان کسی بھی طرح اسلامی نہیں ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کسی بھی طرح سیکولر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ اسلامی ہے۔ اس کا ایک ہی مذہب ہے اور وہ ہے امریکنائزیشن۔ اگر امریکہ سیکولرِزم کی حمایت کرے گا تو پاکستان بھی کہے گا کہ اسے سیکولرزم کے لئے بنایا گیا۔۔۔ محمد فدا، امریکہ: میرے خیال سے اس سوال کا کوئی مطلب نہیں کہ جناح سیکولر تھے یا نہیں۔۔۔ طلحہ خان، امریکہ: میرا خیال ہے کہ یہ بات بہت واضح ہے کہ جناح صاحب کی کوئی نیت بھی پاکستان کو ایک مذہبی مملکت بنانے کی نہیں تھی۔ پاکستان میں جو ہِسٹری بچوں کو پڑھائی جاتی ہے وہ بہت ہی مسخ شدہ ہوتی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر بدلتی ہے۔ مثلا ضیاء صاحب کے دور میں ہر چیز کو اسلامی رنگ دیا گیا، یہاں تک کہ ہسٹری کو بھی۔ جبکہ بھٹو صاحب کے دور میں یہی جناح صاحب سیکولر نظر آتے ہیں۔ اگر ان باتوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو جناح صاحب نے کبھی بھی سیکولر پاکستان سے انکار نہیں کیا۔ ان کے خیالات خالصتا وِکٹورین تھے۔ پاکستان بین الاقوامی طور پر برطانیہ کی بہت بڑی ضرورت تھا، روس کو انٹاگونائیز کرنے کے لئے۔ جو مقصد آخر کار پورا ہوا، افغان جہاد کی صورت میں۔ جناح صاحب نے یہ خدمت بخوبی انجام دی۔ محمد فرحان اسلم میٹھانی، موزیمبیق: میرے خیال سے قائد اعظم محمد علی جناح ایک اسلامی مملک چاہتے تھے۔۔۔۔ امان اللہ خان آغا، کراچی: جاتے جاتے ایک نیا شوشہ۔۔۔۔ اڈوانی کا پاکستان کا دورہ ہی اصل میں غلطی تھی اور غلطی ہو بھی گئی تھی تو پاکستان کے اندرونی معاملات میں بولنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر جناح صاحب پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے تو پاکستان بناکر غلطی کی۔ پاکستان بنا ہی اسلامِک اسٹیٹ کے نام پر، جناح صاحب نے سیکولر نہیں بنانا چاہتے تھے، ان کے انتقال کے بعد لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بناکر ۔۔۔۔ (واضح نہیں) جاوید اقبال ملک، چکوال: عظیم قائد کے خطابات اور کتابوں سے یہ معلومات مل جاتی ہیں کہ قائد اعظم اگرچہ خالصتا اسلامِک مائنڈ نہیں رکھتے تھے مگر وہ پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ورلڈ میں ایک سپریم اسلامِک اسٹیٹ بن کر سامنے آئے مگر وہ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو جدید علوم و فنون اور جدید تقاضوں کے مطابق بھی بنانا چاہتے تھے۔ مگر میں مسٹر ایل کے اڈوانی کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتا کہ قائد اعظم سیکولر مائنڈ کے مالک تھے۔ اگر عظیم قائد اس طرح کے خیالات رکھتے ہوتے تو انہوں نے پھر اپنے خطابات اور کتابوں میں اسلام کو ’آل پرابلم‘ سولوشن کیوں قرار دیا تھا۔ خالد، نیویارک: اگر سیکولر ہی ہونا تھا تو ہم انڈیا سے الگ کیوں ہوئے؟ ہماری بنیاد اسلام پر تھی مگر پاکستان ٹوٹنے کے بعد ہم نہ اسلامی رہے نہ سیکولر، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی بنیاد پر حکومت ہوئی۔ نسیم الدین، ٹورانٹو: ہر ملک کے وجود کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان ہند اور مسلمان کے دو قومیں ہونے کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس کا مطلب پاکستان انڈیا کے مسلمانوں کے لئے تھا۔ اب قانون، قانون قرآن اور سنت کی ہونی چاہئے جیسا کہ لاہور میں انیس سو چالیس میں مسلم لیگ کے کنونشن میں فیصلہ کیا گیا تھا اور اسے بعد میں نیشنل اسمبلی نے اسے آئین کے پریفیس کے طور پر پاس کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی قانون ایسا نہیں بن سکتا جو شریعت کے خلاف ہے۔ اب ہم پاکستان میں رہتے ہیں جہاں ڈِکٹیٹر حکمرانی کرتا ہے اور فوج کو حق ہے کہ جو قانون چاہے تبدیل کردے۔۔۔۔ مقصود عبداللہ، کویت: قائداعظم ایک کوالیفائڈ انٹیلیجنٹ اور جنٹلمین تھے۔ پاکستان کی تھیوری کو وجود میں لانے کے لئے انہوں نے کافی محنت کی۔ وہ ایک حقیقی مسلم تھے اور مسلمان کی حیثیت سے کام کیا۔ اس ریاست کے قیام کی ان کی تحریک کے دوران مذہبی لوگ پاکستان کی تخلیق کے خلاف تھے۔۔۔۔ عبدالرؤف دیتھو، کینیڈا: پاکستان جب مذہب کے نام پر بنا تو سیکولرزم کہاں ۔۔۔ (واضح نہیں)۔۔ عارف جبار قریشی، سندھ: قائد اعظم ایک غیرمتنازعہ سیاست دان تھے، کہیں ان کو متنازعہ بنانے کی سازش تو نہیں ہورہی ہے؟ پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا جس میں ہندو مسلم کی تفریق کے بغیر حقوق حاصل ہوں۔ اڈوانی صاحب پاکستان آئے تو وہ پتہ نہیں کیا سوچ کر آئے تھے، مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ انڈیا کے مسلم ووٹر کی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حق نواز موسیٰ خیل، پاکستان: ہاں جناح سیکولر لیڈر تھے، وہ سیکولر تھے اسی لئے تو پاکستان میں انگلِش قانون ہے۔۔۔۔ شبیر احمد، صوبہ سرحد: حقیقت میں یہ کہنا مشکل ہے کہ جناح سیکولر ریاست چاہتے تھے یا مذہبی۔ ان کے کریئر پر نظر ڈالیں تو انہوں نے ہمیشہ اپارچونِزم کی سیاست کو ترجیح دی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اسلام انڈیا کے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تو انہوں نے یہ نعرہ لگادیا، لیکن اس وقت تک ہمیشہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے لڑتے رہے تھے۔۔۔ سید رضوی، کراچی: یہ سب ڈرامہ ہے۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ لوگ اب تک پولیٹیسین کو نہیں سمجھے۔ اڈوانی کو کوئی اور نہ ملا تو جناح کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولی چلادی۔ وہ وہی اڈوانی ہے جس نے بابری مسجد کے لئے ہر شور مچایا تھا اور اب کہتا ہے کہ بہت افسوس ہوا۔۔۔۔ ظفر حسین، فیصل آباد: تحریک پاکستان کے دوران کسی کے ذہن میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا۔ گیارہ اگست کی تقریر کا رونا رونے والے قائد اعظم کے ان سینکڑوں فرمودات کو کیوں بھول جاتے ہیں جن میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں پاکستان کے اسلامی ملک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ رشید احمد، ساؤ ٹوم: اڈوانی جی کا بیان حقیقت میں ایک سو فیصد سچائی کا اظہار ہے۔ اس پر میرا ان کو سلام، اڈوانی جی نے بھی ثابت کیا ہے کہ آج کے دور میں ان جیسے دلیر سیاست دان ہیں جو ایسی سوچ کا اظہار کریں کم ہی ہیں۔۔۔۔ قمر جاوید، فیصل آباد: میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستان اقبال کا خواب اور جناح کی تعمیر تھا۔ پاکستان کا مطلب ہے لاالہ الاللہ۔ قائد کی تقاریر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مذہب سے واقف تھے اور لادین نہیں تھے۔ پرویز بلوچ، بحرین: یہ بات صحیح ہے کہ پاکستان کو اسلام کے نام پر آزاد کیا گیا لیکن قائد اعظم کا اپنا ذاتی نظریہ سیکولر تھا اور پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اور اب بھی پاکستان انہی بنیادوں پر قائم ہے۔ اعظم شہاب، ممبئی: پاکستان کا قیام ایک سیکولر ملک کی حیثیت سے ہی ہوا تھا۔ ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جہاں شخصی آزادی پر مذہب حاوی نہ ہو، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں پاکستان کی یہ حیثیت کسی قدر متاثر ضرور ہوئی ہے، لیکن بنیاد سیکولر تھی۔ اگر پاکستان کی سیکولرزم پر بحث چھڑی ہے تو میرے خیال سے انڈیا کی سیکولرزم پر بھی چرچا ہونی چاہئے۔ کیوں کہ اس ملک کی بنیاد بھی سیکولرزم پر تھی لیکن اس حیثیت کو ختم کرنے کی قصدا کوشش کی جارہی ہے۔ یہاں غیرہندو لوگوں کو دوسرے درزے کے شہری کی حیثیت دی جارہی ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو دنیا کا کوئی ملک سیکولر نہیں ہے۔ ہر ملک اپنے مفاد اور ترجیحات کے مطابق ہی اپنا لائحۂ عمل ترتیب دیتا ہے۔۔۔ خالد عباسی، کراچی: پاکستان کی بنیاد ایک سیکولر اسٹیٹ تھی، کیوں کہ فنڈامنٹلِسٹ پاکستان کے خلاف تھے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: جو بحث لال کرشن اڈوانی صاحب کے بیان کے بعد زور شور سے اس فورم پر سامنے آئی ہے اس کو پڑھ کر تو کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ جو کچھ قائد اعظم نے کیا وہ کچھ بھی ہو، لیکن اڈوانی صاحب کے خیالات کو خراج تحسین پیش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اڈوانی صاحب جو کچھ بھی ہوں یا نہ ہوں، بحیثیت انسان جیسے بھی ہوں، ایک سیاست دان کی حیثیت سے وہ مکمل شخصیت ہیں، سیاست کے داؤ پیچ سے وہ بخوبی واقف ہیں، کس جگہ اور کس وقت وار کرنا ہے اور کہاں کیا بیان دینا ہے، کہاں سے پہلو بچانا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں۔ وہ کامیاب سیاست دان ہیں۔ رہی بات پاکستان اور اس کے نظریے کی تو جب یہ ملک حاصل کیاگیا اور قائد اعظم اس کے بانی ٹھہرے تو ان کا ذاتی نظریہ تو سیکولر اسلام کا ہی تھا کہ وہ ہر ایک کو برابری کا درجہ دیتے تھے لیکن ہمارے ملک کو بنانے کی مین وجہ ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا قیام امن میں لانا تھا۔ ورنہ ہندوستان سے الگ ہوکر پاکستان بنانے کا کیا فائدہ تھا یا کیا ضرورت تھی؟ ایک ساتھ رہتے ہوئے جن مشکلات کا سامنا اس وقت ہورہا تھا وہ اس وقت کے لوگ جانتے تھے اور بہت نہیں تو کچھ کم ہم بھی جانتے ہیں کہ ایک الگ اسلامی ریاست کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ورنہ اتنی طویل جدو جہد آزادی اور بٹوارے کی خونی کہانی کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ غلام فرید شیخ، سندھ: محمد علی جناح کو تو پوری دنیا جانتی ہے کہ کیسے آئے اور کیسے پاکستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔ میں کیا کہوں، باقی بات یہ حقیقت ہے کہ اگر محمد علی جناح نے دو قومی تھیوری کے تحت پاکستان آزاد کرایا ہوتا تو یہاں ضرور اسلامی گورنمنٹ ہوتی۔۔۔۔ سمیرہ عزیز، سعودی عرب: قائد اعظم سیکولر شخصیت تھے یا نہیں، یہ ان کی ذاتی حیثیت تھی لیکن یہ مقصد تئیس مارچ کی قرارداد میں پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہی واضح کردیا گیا تھا کہ پاکستان ’دو قومی نظریے‘ کی بنیاد پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا مطلب ’لا الہ الاللہ‘ اور اس ملک کی تعمیر کا مسلمانوں کے لئے مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی گزارسکیں۔ ان سب کھلی وضاحتوں کے بعد یہ صاف ہے کہ پاکستان سیکولر وجوہات کی بنا پر نہیں بنا ہے، البتہ انسانیت کے درس کے تحت پاکستان میں غیرمسلم اقلیتیں آزادانہ زندگی گزار رہی ہیں جو اسلامی ریاست کا خاصا ہے۔ خالد ملک، چکوال: جب قراردادِ پاکستان پیش کی گئی اس وقت سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا، پاکستان کا مطلب لاالہ الاللہ کیوں کہ ہند و مسلم دو الگ الگ قومیں تھیں اور قائد اعظم یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا ایک اپنا ملک ہو جس میں مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکیں۔ اور اس طرح قیام پاکستان عمل میں آیا اور اس کی بنیاد بھی اسلامی اصولوں پر رکھی گئی تھی، گویا وہ ایک اسلامی ملک بنانا چاہتے تھے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ’کبھی خود ہی اپنی اداؤں پر غور تو کر، ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔۔۔ اظفر خان، ٹورانٹو: سیکولرزم کے معنی اگر یہ ہیں کہ ہر مذہب کو اپنے طریقے پر جینے اور مراسم عبودیت بجا لانے کی آزادی ہو اور اس کو سرکاری طور پر یعنی قانونی طور پر ایسا کرنے کی آزادی ہو تو ایسا ہی تو قائد اعظم نے کہا تھا۔ پھر ایسا ہی اسلام بھی کہتا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ یعنی کہ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام ایک سیکولر مذہب ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ واضح طور پر دوسروں کے عقائد کا احترام اور ان کی جگہ معاشرے میں بنائی گئی ہے۔ اسلئے قدیم مسلمانوں کے معاشرے میں کریسچین اور یہودی آباد رہے اور ہندوستان میں ہندوؤں کو بھی زیادہ نہ چھیڑا گیا۔ گل انقلابی سندھی، دادو: مسٹر جناح کے پاس اسلام اور سیکولرِزم کا کوئی وِژن نہیں تھا۔ وہ انگریزوں کے لئے کٹھ پتلی تھے جن کی انڈیا میں پالیسی تھی تقسیم کرو اور حکمرانی چلاؤ۔ ۔۔۔ محمد طارق، کینیڈا: نہایت افسوس کی بات ہے کہ تقریبا چھ عشروں کے بعد بھی ہم اس بحث میں پڑے ہوئے ہیں کہ جناح پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے یا سیکولر۔ بچپن سے ہمیں یہی پڑھایا گیا ہے کہ پاکستان کو مذہب کے نام پر حاصل کیا گیا اور یہ صرف جناح کا پاکستان نہیں تھا بلکہ اس میں لاکھوں لوگوں کا خون شامل ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں کچھ عرصے سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ جناح پاکستان کو کیا بنانا چاہتے تھے، کیوں کہ یہ لاکھوں، کروڑوں لوگوں کی خواہش تھی اور اس لئے اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا۔۔۔۔ سید رحمان، کینیڈا: در حقیت، وہ زندگی کی شروعات میں سیکولر تھے۔۔۔ یعنی جب وہ برطانیہ میں تھے۔۔۔ لیکن جو انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی وہ سیکولر نہیں رہے۔ رضوان اکرم، کینیڈا: مسٹر جناح کا نظریۂ پاکستان کافی واضح تھا، زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا جہاں مسلمان اپنے مذہب پر عمل کرسکیں اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکیں۔ اگر سیکولرزم کا معنی ہے لوگوں کے لئے پاکستانی شہری کی حیثیت سے مساوی مواقع اور سماجی حیثیت تو، ہاں، یہ پاکستان کا نظریہ تھا۔۔۔اگر اس کا مطلب ایک ایسی بنیاد ہے جیسے بغیر مذہب کے ایک ریاست، تو یہ وہ ملک نہیں جو وہ چاہتے تھے۔ وہ اس ملک میں ایک تھیوکریسی (مذہبی ریاست) نہیں چاہتے تھے، اور پاکستانیوں کی اکثریت بھی ماضی میں ایک تھیوکرسی نہیں چاہتی تھی اور نہ مستقبل میں ایسا چاہے گی۔ پاکستان کی بنیاد بہت حد تک اسرائیل کی بنیاد جیسی ہے۔ دونوں ریاستوں کے قیام کی بنیاد مذہب ہے۔ مسٹر جناح کے تصور نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ خطے میں ایک مسلم ریاست ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن کے لئے ضروری ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہ صحیح تھے۔ بابری مسجد کے انہدام یا گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام وغیرہ۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اقلیتوں کو ہزاروں کی تعداد میں مارا گیا ہو۔۔۔ ندیم ملک، پیرس: پاکستان کا مطلب ہے لاالہ الاللہ۔۔۔ اسی بنیاد پر پاکستان بنا تھا لیک یہ صرف ایک نعرہ ہی رہ گیا۔ پاکستان میں مذہب کم فرقہ واریت زیادہ ہے۔ آزادی کی باتیں ہوتی ہیں لیکن آزادی ہے کہاں، صرف جنگل کا قانون ہے، پاکستان وہ ملک نہیں ہے جس کا خواب جناح نے دیکھا تھا، پاکستان نہ ہی اسلامی ملک ہے، نہ ہی سیکولر۔۔۔۔ اسماعیل نصر، بلوچستان: قائد اعظم ایک مکمل اسلامی ملک حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ ایک اسلامِک ڈیموکریٹِک اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ چودہ اگست کی تقریر میں ایک مکمل اسلامی ملک بنانے کا اعادہ کیا تھا جہاں ایک اسلامی معاشرہ ہو اور اسلام کی بلندی ہو اور اسلامی قوانین کو سپریمیسی حاصل ہو اور اسلام کے علاوہ کوئی اور قانون پاس نہیں کیا جائے۔ کریم خان، اسپین: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسے ایک سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے یا ایک اسلامی اسٹیٹ۔ اگر وہ ایک سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے تو لوگوں کو جھوٹ کیوں بتایا جب این ڈبلیو ایف پی میں ایک ریفرنڈم تھا، اور ایک برٹِش بلوچستان شاہی جرگہ اور بلوچستان اسٹیٹ کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔۔ اگر مسلم اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے تو کانگریس سے نظریاتی اختلاف کیا تھا، کہ دو قومی نظریے کی نعرہ بازی ہورہی تھی، جب ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ایک قومیت بھی نہیں ہے، تقسیم کے بعد بھی۔۔۔۔ انہوں نے اپنی نیوٹرالیٹی کیوں نہیں برقرار رکھی۔۔۔۔ حقیقت میں میں کہنا چاہوں گا کہ اسے ایک اپنے لارڈز کی خدمت کے لئے بنایا گیا، سامراجی طاقتوں کے لئے ایک نوآبادی۔۔۔۔ ایم امجد شہزاد راجپوت، ڈیرہ غازی خان: میں سمجھتا ہوں کہ قائد اعظم ایک سیکولر رہنما تھے۔ وہ اسلامِک فنڈامنٹلِسٹ نہیں تھے، وہ ہمیشہ تمام مذاہب کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔ عمر فاروق ہاشمی، کویت: جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ قائد اعظم نے دو قوموں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ لیکن جب انہوں نے یہ سمجھا کہ ہندو مسلمانوں کو حق نہیں دیں گے تو انہوں نے اپنے خیالات میں تبدیلی کی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم جزو بن گئے۔ تحریک کے دوران اپنی تقاریر کے ذریعے انہوں نے یہ بات کی کہ ایک علیحدہ جگہ کی ضرورت ہے جہاں مسلمان اپنی زندگی اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں گزار سکیں۔ قائد اعظم کی تقاریر سے واضح ہے کہ انہیں دو قومی نظریے میں یقین تھا۔ محمد طیب، اسلام آباد: پاکستان ایک نظریاتی کل ہے، ورنہ بھارت سے الگ ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ اکرم رانا، لودھران: اپنی شخصیت کے حساب سے قائد اعظم محمد علی جناح بلاشبہہ سیکولر تھے لیکن دوسرے حالات اور ہندو فنڈامنٹلِسٹوں کے رویے کی وجہ سے انہوں نے ایک علیحدہ وطن کے لئے فیصلہ کیا۔ دوسرے رہنماؤں اور قائد اعظم کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ برصغیر میں ایک علیحدہ مسلمانوں کے مسائل کا بہتر حل ہے۔ قائد اعظم کے بعد دوسرے رہنماؤں نے پاکستان کی تصویر اور پاکستان کے نظریے کو بدل دیا جو یہ تھا کہ مذہب ریاست پر حائل نہیں ہوگا بلکہ مذہب ایک شہری کا آزادانہ عمل ہوگا۔
|