BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 June, 2005, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری رہنماؤں کے موقف میں تبدیلی؟
کشمیری رہنما
کشمیری رہنماؤں کا وفد آج کل پاکستان کے تاریخی دورے پر ہے۔
کشمیری رہنماؤ ں کے دورہ پاکستان کے دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر کے بارے میں اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے اوراب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری قیادت آگے بڑھے اور دیگر معقول اور قابل عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا نے خود کو تشدد سے علیحدہ کر دیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں سرگرم عسکری اور سیاسی عناصر متحد ہو جائیں۔ کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے تاریخی موقف سے بظاہر ہٹتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والی ایک نیوز کانفرنں میں انہوں نے کہا:

’ہم یہ نہیں کہتے کہ اقوام متحدہ کی یہ قراردادیں اب بے معنی ہو گئی ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اب ہمیں ان قراردادوں کے علاوہ دیگر امکانات کا بھی جائزہ لینا چاہیئے۔‘

کشمیری رہنماؤں کے موقف میں اس بظاہر تبدیلی پر آپ کیا سوچتے ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


امین اللہ شاہ، میانوالی:
رہنما وہ ہوتا ہے جس نے کاز/ایشو کے لئے کوئی قربانی بھی دی ہو۔ لیکن مذکورہ رہنما تو چوری والے ہیں۔ اس لئے ان کے موقف میں تبدیلی ہونا کوئی معجزہ نہیں کیوں کہ ایسے لوگ ہمیشہ ہوا کے رخ کے ساتھ چلتے ہیں۔

حیدر نقوی، کینیڈا:
یہ تبدیلی عارضی ہے۔۔۔

سید رحمان، کینیڈا:
یہ انڈیا یا پاکستان نہیں ہے۔۔۔ یہ امریکہ کے فیصلے پر ہے۔۔۔امریکہ کے خلاف کون کیا کہہ سکتا ہے؟

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے ہی کشمیر کا حل نکل سکتا ہے۔ کیوں کہ انڈیا ہی کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں لیکر گیا تھا۔ اس کے علاوہ آخری آپشن اگر کوئی ہوا تو وہ صرف جہاد کا ہوگا۔

معصومہ جان، راولپنڈی:
کشمیر بنے گا پاکستان۔

فیصل یعقوب سلطانی، یو کے:
نصف صدی سے اس موقف پر لڑ رہے تھے۔ کیا ملا اس موقف پر ہم کو؟ اگر حالات اجازت دیتے ہیں تو موقف کو تبدیل کرنا ہی حکمت عملی ہے۔ ہو سکتا ہے اس پر کچھ حاصل ہو جائے۔۔۔۔

امداد علی جوکھیو، لاڑکانہ:
میرے خیال میں اس قسم کے بیانات سے گریز کیا جائے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کی کوشش کی جائے تو بہتر ہے۔

خالد عباسی، کراچی:
کشمیر کے مسئلے کا واحد حل بیلٹ یا بلیٹ ہے۔۔۔۔

علی عمران شاہین، لاہور:
پاکستان نے کشمیر کے لئے تین جنگیں لڑیں لیکن کشمیر نہ ملا، سولہ سال سے جہادی تحریک جاری ہے لیکن انڈیا اپنے موقف سے ذرا بھر پیچھے نہیں ہٹا۔ جبکہ پاکستان شہ رگ والا موقف اور قراردادوں کی باتیں بھی ترک کرچکا ہے۔۔۔۔

آصف کسانہ، سویڈین:
میں سوچتا ہوں کہ صرف خود مختار کشمیر ہی واحد حل ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اعتراف کرتی ہیں کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے لیکن کسی کشمیری نے اس پر دستخط نہیں کیا ہے۔۔۔

پرویز بلوچ، بحرین:
یو این او مسلمانوں کے لئے ایک ناکام ادارہ ہے، کئی سالوں سے کشمیریوں کی جدو جہد کو اور اس مسئلے کو یو این او والوں نے سرد خانوں میں دبا رکھا ہوا ہے۔ اب کشمیری رہنماؤں کے موقف میں تبدیلی نہیں ہوا بلکہ پاکستان اور ہندوستان نے امریکہ کے کہنے پر کشمیریوں کا موقف تبدیل کروایا۔۔۔

سریر احمد، سرینگر:
حقیقت یہ ہے کہ مسٹر عمر کو کوئی قربانی نہیں دینی پڑی ہے اگرچہ وہ خود کو لیڈر سمجھتے ہیں۔ وہ اتفاقا لیڈر بن گئے ہیں، اس لئے انہیں اپنے موقف میں تبدیلی کرنا آسان ہے۔ وہ اپنے ہنی مون کے لئے پیرس گئے، جب وہ زمین جس کے وہ رہنما کہتے ہیں آگ میں جل رہی تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس موقف میں تبدیلی سے حالات بدل جائیں گے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ماں اپنے بھولے ہوئے بچے کو چھوڑنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
کشمیریوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستان کے پنجابی۔مہاجر پاور مافیا ان کے کاز میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ پاکستان کی ایسٹیبِلشمنٹ کشمیریوں کی جانب مخلص کیسے ہوسکتی ہے جب کہ یہ سندھیوں، بلوچوں، بنگالیوں اور ان کے جمہوری حقوق کی جانب نہیں تھی؟ کشمیریوں کو محسوس ہوگیا ہے کہ موجودہ حالات میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔۔۔۔

عمر قریشی، جرمنی:
تنازعۂ کشمیر کے حل کے بارے میں کشمیری لیڈر خود ہی کنفیوژڈ ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں یا اس طرح کے فارمولے پر اب بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔ تنازعۂ کشمیر کا حل انڈیا کی مجبوری ہے اور انڈیا ترقی کرنا چاہتا ہے، سلامتی کونسل کی رکنیت چاہتا ہے، اسے اس مسئلے کا حل کرنا ہوگا۔ کشمیری رہنماؤں کو چاہئے کہ اس مجبوری کا سیاسی طور پر فائدہ اٹھائیں۔

عارف جبار قریشی، سندھ:
کشمیری رہنماؤں کا موقف بالکل درست ہے۔ اقوام متحدہ کشمیر مسئلہ حل کروانے میں شروع سے ناکام ہوا ہے۔ ویسے اب بھی کوئی بھی مسئلہ ہو بات چیت سے ہی حل ہوگا۔

عمران، امریکہ:
کیا بی بی سی کشمیریوں سے مخلص ہے؟ یا صرف ٹھٹہ لگانا مقصود ہے؟ اگر آپ رائے چھاپنا چاہو گے تو صرف اتنا عرض ہے: برِٹش نے مسئلہ پیدا کیا، پھر ظالم کا ساتھ دیا، اور لوگوں کو ساٹھ سال تک لڑوایا۔۔۔۔

محمد طارق، کینیڈا:
دیر آید درست آید، یہ یقینان ایک مثبت سوچ ہے کیوں کہ حالات ایک جیسے نہیں رہے اور نئے حالات اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نکلنا چاہئے۔ لیکن میری خواہش ہے کہ سارے کشمیری اس بات پر متفق ہوں اور ایک ایسا حل نکل جائے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔

عبدالحسیب، پشاور:
یہ کافی اچھی بات ہے کہ انہوں نے لچکیلےپن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب بال انڈین گورنمنٹ کے کورٹ میں ہے۔ حقیقت میں اقوام متحدہ مسلم ممالک کو حل فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسرے آپشن کی تلاش کی ضرورت ہے۔

غماز، لندن:
مجھے لگتا ہے کہ وہ صرف کٹھ پتلیاں ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لئے جو شخص صحیح طور پر لڑرہا ہے وہ ہے سید علی شاہ گیلانی۔ اگر انہیں امید نہیں تو پھر کوئی امید نہیں۔۔۔ دوسری جانب انڈیا اور پاکستان دونوں ہی اس مسئلے سے تنگ آچکے ہیں۔۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
کشمیر کا مسئلہ یو این او کی قراردادوں کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے۔ مگر میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خیالات میں چینجنگ اس لئے کی ہے کہ ہماری حکومت عسکری اور جہاد کے آپشن بند کرنا چاہتی ہے۔ اگر بات چیت سے پرابلم حل ہوتا تو ہمیں اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ڈیفنس کے لئے رکھنے کی کیا ضرورت تھی، کچھ پرابلم ایسے ہوتے ہیں جو ڈائیلاگ سے حل نہیں ہوتے ہیں۔

صغیر راجہ، سعودی عرب:
اقوام متحدہ میں جو قرارداد ہے وہ کشمیریوں کو تھرڈ آکوپیشن کا حق نہیں دیتی، دوسرا، اقوام متحدہ اب وہ ادارہ نہیں رہ گیا۔ یو این او ایک سوالیہ نشان ہے، مسئلہ کشمیر میں کوئی رول نہیں ادا کرسکا۔۔۔۔

خالد ملک، چکوال:
میرے خیال میں دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کیوں کہ اقوام متحدہ صرف ایک نام کا ادارہ رہ گیا ہے اور آج کا دور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ہے۔ اور کشمیریوں کو اپنی کوشش اور تیز کرنی چاہئے جب کہ پاکستانی صدر مشرف بھی اس مسئلہ میں کافی حد تک سنجیدہ ہیں اور میں اپنے تمام سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کے لئے متحد ہوجائیں۔

مسعود رحمان، امریکہ:
کشمیر کی سیاست اور عسکری تنظیموں کو اب یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی دال عسکریت پسندی سے نہیں گلے گی۔ اس لئے بیکار میں ہاتھ پاؤں مارنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کیا جائے اور میرے نزدیک سب سے بہتر حل جو ہوتا نظر آرہا ہے وہ ہے متحدہ کشمیر جو پاکستان اور بھارت کے مشترکہ انتظام میں ہوگا اور جس کے سافٹ بارڈر ہوں گے اور دونوں طرف کے کشمیری پاکستان اور انڈیا بغیر پاسپورٹ کے جاسکیں گے۔

عبدالحنان، فیصل آباد:
پاکستان اور انڈیا کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں کیوں کہ انڈیا اور پاکستان جلدی ترقی کررہے ہیں۔ اور انڈین معیشت جس موڑ پر کھڑی ہے وہ تو ایک جھٹکا بھی برداشت کرسکتی۔ اگر کشمیر مسئلہ حل ہوجائے تو یہ کشمیری لوگ اور دونوں کنٹریز کے لئے بہت اچھا ہوگا۔

66آپ کی رائے
کشمیری رہنماؤں کا تاریخ ساز دورہ
66آپ کی رائے
سرحد کے بغیر کشمیر ممکن: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد