’جنرل مشرف پر مکمل اعتماد ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ حریت کانفرنس کو جنرل مشرف پر جموں و کشمیر کے حوالے سے مکمل اعتماد ہے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں نے صدر جنرل پرویز سے طویل ملاقات کے بعد کہا کہ ان کو جنرل مشرف پر جموں و کشمیر کے حوالے سے مکمل اعتماد ہے۔ کشیمری رہنماؤں کی صدر مشرف سے ملاقات پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے حل کے پر کئی آپشنر پر بات ہوئی ہے۔ جب آپشنز کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ان پر بات چیت کرنا نامناسب ہو گی۔ انہوں نے کہا ملاقات میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا جو حل پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کو قابل قبول نہیں ہو گا اس کو آگے نہیں چلایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کی جہاں تک بات ہے وہ ایک بنیاد ہے لیکن اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کے آئین کے مطابق مسئلہ کشمیر کا بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا حقیقت تو یہ کہ اقوام متحدہ ان قرار دادوں پر عمل دارآمد کرانے میں ناکام رہا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کو سہ فریقی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب حکومت ہندوستان پر انحصار ہے کہ وہ بات چیت کے عمل کو کیسے مضبوط بناتی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ عسکریت پسندوں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور کئی تنظیمں ان کے مخالفت کر رہے ہیں جبکہ کئی ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علحٰیدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لئے مرحلہ وار آگے بڑھا جائے اور اس کے لئے ٹائم فریم کا تعین کیا جائے، کشمیری عسکریت پسندوں کی شمولیت کے بغیر بات چیت کا عمل نامکمل ہے اور کشمیریوں کی شرکت کے بغیر اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھا جاسکتا ہے ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ مولوی عمر فاروق نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان سے یہ جاننا چاہیں گے کہ کشمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ان کے پاس کیا ’روڈ میپ‘ ہے اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی تجاویز کی تفصیل بھی جاننے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کرکٹ کے میچ کے موقع پر ہندوستان آئے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ میرے پاس کچھ تجاویز ہیں۔ عمر فاروق نے کہا کہ وہ یہ تجاویز جاننا چاہتے ہیں اور یہ کہ وہ بھی اپنے ساتھ کچھ ٹھوس تجاویز لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’تنازعہ کشمیر ایک الجھا ہوا اور پچیدہ مسئلہ ہے اور یہ ایک مرحلے میں حل نہیں ہوسکتا۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے حل کی طرف مرحلہ وار ہی بڑھا جاسکتا ہے‘۔ میر واعظ نے کہا کہ ’ کشمیر کی آزادی کی تحریک سیاسی، عسکری اور سفارتی سطح پر جاری ہے۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک میں شامل لائن آف کنڑول کے دونوں جانب کی قیادت ، عسکریت پسند اور وہ لوگ جو سفارتی سطح پر کام کرتے ہیں ان سب کے درمیان کے ایک ربط ہو اور سب کو اپنے اپنے رول کو بدلتے حالات میں ہوئے نئے سرے سے متعین کرنا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کشمیریوں کو مذاکرات کے عمل میں شریک کرنے کے امکانات دیکھے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں اس تنازعے کے حل کے بارے میں غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک معاملات دوطرفہ چل رہے ہیں اور اس میں کشمیری شامل ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے یہ جاننا چاہیے گے کہ حکومت پاکستان کے پاس کشمیریوں کو بات چیت میں شامل کرنے کے لئے کیا تجویز ہے۔ انہوں نے کہا وہ محسوس کر رہے ہیں کہ ہندوستان ایک ہی وقت پر کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان سہ رخی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوں، کشمیریوں اور پاکستان اور کشمیریوں اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات ہوں ۔ انھوں نے کہا اگر ایسا عمل چل پڑتا ہے اور جب اس تنازعے کے سارے فریق مذاکراتی عمل میں شامل ہونگے تو اس عمل کے نتیجے میں ہی کشمیر کے مسلے کا حل نکلےگا۔ عمر فاروق نے کہا کہ وہ ’مجاہدین‘ سے بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ( عسکری رہنما) آئے ہیں اور ان سے ہماری بات ہوئی ہے اور شاہد ہم کچھ اور لوگوں سے ملیں‘۔ عمر فاروق نے کہا کہ ’ظاہر ہے مجاہدین کی اپنی حکمت عملی ہے لیکن اس میں ہمیں کمیونیکیشن اور ربط پیدا کرنا ہے۔ ورنہ ایسے حلات نہ ہوں کہ ہم ایک محاذ پر بات کریں اور مجاہدین دورسرے محاز پر اور ہم کہیں نہ پہنچ پائیں‘۔ انھوں نے کہا کہ ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ عسکریت اوپر ہوتی سیاست خاموش رہتی ہے اور پھر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ سیاست سرگرم ہوتی اور عسکریت پشت پر انکی حمایت کرتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مذاکراتی عمل میں مجاہدین قیادت بھی شامل ہو اور انکے جو تحفظات اور خدشات ہیں ان پر بھی آپس میں بات ہو۔ کشمیری رہنما نے کہا کہ جب ہم کشمیر کی تحریک یا کسی عمل کی بات کرتے ہیں تو یہ مجاہدین کی شرکت کے بغیر نامکمل ہے۔ لیکن عمر فاروق کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم پاکستان جاکر کوئی ٹھوس حل لے کر آئیں گے تو یہ سوچ غلط ہے ۔انھوں نے کہا کہ یہ پہلا قدم ہے پہلا قدم اس لئے کہ پہلی بار کشمیروں کو پوچھا جارہا ہے اور پہلی بار کشمیریوں کو بلایا جارہا ہے اور پہلی بار کشمیریوں سے مشورہ کیا جارہا ہے‘ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||