کشمیری رہنما کس کس سے ملیں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے نو علیحدگی پسند رہنما پندرہ روزہ دورے کے دوران پا کستانی قیادت سے بات چیت ، متحدہ جہاد کونسل کے رہنماؤں سے ملاقات اور سیر تفریح کریں گے۔ دو جون کو سرینگر سے بس کے ذریعے کنٹرول لائن عبور کرکے چکوٹھی سے ہوتے ہوئے مظفرآباد میں قیام کے بعد کشمیری رہنماؤں کایہ وفد چار جون کواسلام آباد پہنچا ہے۔ پاکستان پہنچنے والے کشمیری رہنماؤں میں حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پرورفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون، فضل الحق قریشی، جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک اور جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری شامل ہیں۔ پانچ جون کو مہمان کشمیری رہنما متحدہ جہاد کونسل کے وفد سے ملیں گے اور اسی روز شام کو وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔ چھ جون کو کشمیری رہنما خصوصی طیارے میں لاہور جائیں گے اور وہاں پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کی مزار پر چادر چڑھائیں گے۔ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ سے ملیں گے جبکہ گورنر ان کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔ اسی روز شام کو وہ لاہور سے واپس اسلام آباد پہنچیں گے اور ایک اہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کریں گے۔ سات جون کو بارہ بجے کشمیری رہنما وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے۔ اسی روز شام کو صدر جنرل پرویز مشرف سے مہمان کشمیری رہنما ملیں گے اور ان کے ساتھ رات کا کھانا کھائیں گے۔ آٹھ جون کی شام کو پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ حامد ناصر چٹھہ کشمیری رہنماؤں کے اعزاز میں دعوت کریں گے اور پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ نو اور دس جون کو کشمیری رہنما کراچی میں ہوں گے اور قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر جائیں گے اور صوبہ سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ سے ملیں گے۔ گیارہ جون کو کشمیری رہنما واپس اسلام آْباد پہنچیں گے۔ وہ اس روز تفریحی مقام دامن کوہ اور فیصل مسجد کی سیر کریں گے۔ بارہ جون کو مہمان وفد اسلام آباد میں لوک ورثہ میوزیم دیکھیں گے اور پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو ان کے اعزاز میں رات کا کھانا دیں گے۔ تیرہ جون کو وفد ٹیکسیلا میوزیم جائے گا اور رات کو قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین کی دعوت میں شرکت کریں گے۔ چودہ جون کو دو بجے مہمان وفد اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے روانہ ہوجائے گا اور وہاں قیام کے بعد سولہ جون کوکشمیری رہنما واپس سرینگر چلے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||