BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 06:06 GMT 11:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری رہنما اسلام آباد میں

میر واعظ فوجی ہیلی کاپٹر سے اسلام آباد پہنچے
حریت رہنماؤں کو پاکستان آرمی کے ایک ہیلی کاپٹر میں مظفر آباد سے اسلام آباد لایا گیا۔
بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوعلیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ تاریخی دورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلہ میں اہم قدم ہے اور وہ پاکستانی قیادت سے مل کر یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا متوقع یا مجوزہ حل کیا ہوسکتا ہے۔

کشمیری رہنما مظفر آباد سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سنیچر کو اسلام آباد پہنچے۔

کشمیر رہنماؤں کو سیاہ رنگ کی مرسیڈیز گاڑیوں میں مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ہیلی پیڈ سے لے جایا گیا۔ ہیلی پیڈ پر عام لوگ استقبال کے لیے موجود نہیں تھے البتہ مہمان کشمیری رہنماؤں کے قریبی دوست احباب ان کے خیر مقدم کے لیے آئے تھے۔

حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے خارجہ امور مخدوم خسرو بختیار اور پارلیمان کی کشمیرکمیٹی کے سربراہ حامد ناصر چٹھہ نے مظفرآباد سے اسلام آباد پہنچنے والے کشمیری رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔

میرواعظ عمر فاروق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ اپنی منزل کی تلاش کے لیے اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نےحریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے رہنما علی شاہ گیلانی کے بارے میں سوال پر کہا کہ اگر کسی کو کوئی خدشہ ہے تو اس پر بات کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق کشمیری اگر پاکستان یا بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے تو محدود ہوکر رہ جائیں گے۔

میر واعظ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستان کے بعد اب بھارت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بنا کشمیر کا کوئی بھی پائیدار حل ممکن نہیں۔

ان کے مطابق آج تک بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے اس لیے ناکام ہوئے کہ کشمیری اس کے فریق نہیں تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر اعتماد سازی کے لیے کوئی قدم نہ اٹھائیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں اور یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جامع مذاکرات میں کشمیریوں کو بطور فریق شامل کرنے کے لیے صدر مشرف کے پاس عملی طریقہ کیا ہے۔

اس موقع پر سیاہ لباس پہنے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کشمیر کے مالک ہیں لیکن اب تک کشمیریوں کو جامع مزاکرات میں شامل نہیں کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا ابھی تک ہندوستان یا پاکستان نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ان کے مطابق جب انہیں کشمیر کے بارے میں پاکستان اور بھارت کے مذاکرات کے متعلق ریڈیو اور ٹی وی سے پتہ چلتا ہے تو وہ اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کے بارے میں سوال پر یاسین ملک نے کہا کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے وہ جو بھی پالسیی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے اندرونی معاملات میں نہیں بولیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں کشمیری عوام کے مؤقف کی ترجمانی کے لیے آئے ہیں۔

اسلام آباد پہنچنے والے رہنماؤں میں حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پروفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون اور فضل الحق قریشی، جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک اور جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری شامل ہیں۔

کشمیری رہنما سنیچر کی دوپہر کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے امور کے وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے۔

کشمیری رہنما اتوار پانچ جون کو وزیراعظم شوکت عزیز اور سات جون کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے۔ صدر اور وزیراعظم کشمیری رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد