’کشمیریوں کے بغیر امن عمل بےکار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے آئے ہوئے کشمیری رہنماؤں نے جمعہ کو مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیروں کی شمولیت کے بغیر کسی بھی امن کے عمل کو ناقابل واپسی قرار دینا درست نہیں ہے۔ کشمیریوں کی اعتدال پسند قیادت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل میں کشمیریوں کو شامل کرنے اور حقیقی نمائندگی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر امن کا عمل بے کار ہے۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو حل کر کے بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے جاری امن کے عمل کو ناقابل واپسی قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی تقاریر میں کشمیری رہنماوں نے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کی اپیل بھی کی۔ اس تاریخی موقعہ پر بھارت سے آئے ہوئے رہنماوں نے اپنی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا۔ مولوی عباس انصاری نے کہا کہ کشمیری قیادت میں بھی عناصر موجود ہیں جو مسئلہ کشمیر کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں کے کہا کہ کشمیری کسی بھی صورت میں بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ کشمیر میں گزشتہ چودہ سالوں میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں انہوں نے کہا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت پر بھی ان ہلاکتوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جموں اینڈ کشمیر لبرشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے اپنے مخصوص جذباتی انداز میں تقریر کی اور کشمیری قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نرمی دکھانے کے لیے تیار ہیں لیکن بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے آج تک کشمیریوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو خبردار کیا کہ کشمیریوں پر کوئی حل نہیں تھونپا نہیں جا سکتا۔ عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ تمام کشمیری مسئلہ کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سری نگر سے مظفرآباد تک کا سفر کرکے اس مسئلہ کے حل کی تلاش کے سلسلے ہی میں آئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کشمیری قیادت سے ماضی میں غلطیاں سر زد ہوئی ہیں جن کو بھول کر اب مسئلہ حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ ظلم و ستم کا شکار ہیں اور وہاں پر اب بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ نے کہا کہ کشمیریوں کو خود اپنے حقوق کے لیے لڑنا پڑے گا۔ انہوں نے پاکستان حکومت کی طرف سے کشمیریوں کی غیر مشروط حمایت کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف شعبوں میں تبادلے ہوتے رہے اور لوگ سرحد پار آتے جاتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ستاون سالوں میں کشمیر کے لوگوں کو پہلی مرتبہ ملنے کا موقعہ ملا ہے۔ اس سے قبل کشمیری رہنماؤں نے میر واعظ عمر فاروق کے دادا مولوی محمد یوسف کے قبر پر فاتحہ پڑھی۔ اس موقعہ پر ہزاروں کشمیری موجود تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کے لیے نعرہ لگائے۔ کشمیر قیادت جمعہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ کشمیری رہنما دو دن بعد اسلام آباد چلے جائیں گے جہاں وہ صدر مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیر سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||