’پہلےبندوق کے لیے،اب امن کے لیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک نے کہا کہ 1989 میں انہوں نے لائن آف کنٹرول بندوق کے لیے پار کی تھی لیکن آج میں امن کے مشن پر آیا ہوں۔ چکوٹھی پہنچنے پر یٰسین ملک نے کہا ’میں نے یہ لائن آف کنٹرول سات مرتبہ عبور کی ہے۔ آج مجھے وہ سارے ساتھی یاد آ رہے ہیں جو اب شہید ہو چکے ہیں۔‘ واضح رہے یٰسین ملک ان اولین لوگوں میں شامل تھے جنہوں نےسترہ برس پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں داخل ہو کر کشمیر کی آزادی کے لیے ایک مسلح تحریک شروع کی تھی۔ اس حوالے سے یٰسین ملک نے کہا کہ اُن دنوں’ آزاد کشمیر کا ہر گھر ہمارا بیس کیمپ ہوا کرتا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ان کی جدو جہد جاری ہے۔ لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کےعلیحدگی پسند رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کا یہ تاریخی دورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلہ میں اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس دورہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک عظیم موقع قرار دیا۔ حریت کے رہنمامولوی عباس انصاری نے دورے کو ایک نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کی نیک نیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہری شجاعت حسین نے دورے کو مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پہلا قدم قراردیا جبکہ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سید مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق چاہتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات کے مطابق حریت کے رہنماؤں کا دورہ کشمیریوں کی امن مذاکرات میں شمولیت کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ چکوٹھی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے سے سرحد کی دونوں جانب کی کشمیری قیادت کو ایک دوسرے سے ملنے اور بات چیت کا نادر موقع میسر آئےگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پائدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کریں جوتمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||