گیلانی پاکستان نہیں جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیزحریت کانفرس کے ایک دھڑے کے رہنماؤں نے پاکستان کی مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ حریت کانفرنس کے سید علی شاہ گیلانی کے دھڑے کے مطابق وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کے منقسم خطہ کے بارے میں اپنے موقف میں نرمی پیدا کر دی ہے۔ اگلے ہفتہ ہونے والے مذاکرات کے لیے حریت کانفرنس کے دیگر رہنما بس سروس کے ذریعے پاکستان جائیں گے۔ سید علی شاہ گیلانی نے بتایا کہ پاکستان نہ جانے کا فیصلہ اتوار کو سرینگرمیں حریت کے اجلاس میں اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے ذریعہ ہم پاکستان سے کشمیر پر اُس کے مؤقف سے ہٹنے پر’اپنی ناراضگی کا اظہار‘ کرنا چاہتے ہیں۔ علی شاہ گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے صدر پرویزمشرف نے بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر کئی رعائتیں دیں لیکن بھارت اپنے مؤقف سے نہیں ہٹا ہے۔ انہوں نے کہا’بھارت کی طاقت کے سامنے پاکستان اپنی بے بسی کا اظہار کرتا رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ اگر ہم جاتے بھی ہیں تو پاکستان کیا لے کر جائیں؟ (مذاکرات کا) کوئی ایجنڈا نہیں ہے، اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم پاکستان سے کیا لے کر لوٹیں گے؟‘ علی شاہ گیلانی نے کہا کہ پاکستان جانے والے (ان مذاکرات سے) کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی طرف سے مذکورہ دورہ کے دوران پاکستان کے زیر اتظام کشمیر سے باہر جانے کی اجازت نہ دینے کو ’ تکبرانہ اور سامراجی رویہ‘ کہا اور اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ سید علی شاہ گیلانی کا تعلق کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ان دھڑوں سے ہے جن کا خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر کا فیصلہ یا تواقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کے ذریعہ ہو یا پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||